مسح ثلاثة ایام و لیالیھا) ١ عملا ً باطلاق الحدیث ٢ و لانہ حکم متعلق بالوقت فیعتبر فیہ آخر ہ
٣ بخلاف ما اذا استکمل المدة للاقامة، ثم سافر لان الحدث قد سری الی القدم، والخف لیس برافع،
کرے گا تین دن تین رات۔
ترجمہ: ١ عمل کر تے ہو ئے مطلق حدیث پر۔
وجہ: مقیم نے ایک دن ایک رات پورا کرنے سے پہلے سفر کیا تو حدث قدم پر سرایت کرنے سے پہلے مسافر بن گیا اس لئے مدت اب لمبی ہو کر مسافر کی مدت پر عمل کرے گا یعنی جب سے مسح شروع کیا تھا اس وقت سے تین دن تین رات تک پورا کرے گا۔اور اگر ایک دن اور ایک رات پوراہو جاتا تو حدث قدم پر سرایت کر جاتا اب وہ اٹھے گا نہیں ۔اب تو پاؤں کھول کر دھونا ہی ہوگا۔ اس صورت میں تین دن پورا نہیں کر سکتا ہے حدیث یہ ہے ۔ قال اتیت عائشة... فقال جعل رسول اللہ ۖ ثلاثة ایام ولیالیھن للمسافر و یوما ولیلة للمقیم ۔ (مسلم شریف ، باب التوقیت فی املسح علی الخفین ص١٣٥ نمبر ٦٣٩٢٧٦ ابو داود شریف ، باب التوقیت فی المسح ، ص ٢٣ ، نمبر ١٥٧ نسائی شریف ، باب التوقیت فی المسح علی الخفین للمقیم ، ص ١٨ ، نمبر ١٢٩ ) اس حدیث میں ہے کہ مسافر کے لئے تین دن تین رات اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ۔
اصول: حدث قدم پر سرایت کرنے سے پہلے مدت کا حکم بدل سکتا ہے۔ سرایت کرنے کے بعد نہیں۔
ترجمہ: ٢ اور اسلئے کہ مسح کا حکم متعلق ہے وقت کے ساتھ اسلئے اعتبار کیا جائے گاآخری وقت کا ۔
تشریح : مسح کا حکم وقت کے ساتھ متعلق ہے اسلئے یہ دیکھا جائے گا آخری وقت کا اعتبار ہو گا اور اخیر میں ابھی مقیم کے لئے بھی وقت باقی تھا اسلئے جب وہ مسافر بنا تو مسافرت کا وقت مقیم کے ساتھ مل کر تین دن لمبا ہو جائے گا ۔اور جس وقت سے مسح شروع کیا تھا اس وقت سے تین دن تین رات پوری کرے گا ۔
ترجمہ: ٣ بخلاف جب کہ اقامت کی مدت پوری کر چکا ہو پھر سفر کیا ہو تو متصل نہیں ہو گا اسلئے کہ حدث قدم تک سرایت کر چکا ہے ، اور موزہ حدث کو اٹھانے والا نہیں ہے ۔
تشریح : مقیم آدمی ایک رات ایک دن پوری کر چکا ہے اسکے بعد سفر کیا تو موزہ کھول کر پائوں دھوئے گا ، اور مسافرت کی مدت پوری نہیں کرے گا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ جیسے ہی اقامت کی مدت ایک دن ایک رات پوری ہوئی تو پرانا حدث قدم میں سرایت کر گیا ، اور موزہ سرایت شدہ حدث کو اٹھانے والا نہیں ہے، وہ تو صرف آنے والا حدث کو روکنے والا نہیں ہے اسلئے مدت سفر اسکے ساتھ متصل نہیں ہو گا اور تین دن تین رات پورا نہیں کرے گا ۔