١ وکذا اذانزع قبل المدة ٢ لان عندالنزع یسری الحدث السابق الی القدمین، کانہ لم یغسلھما
٣ وحکم النزع یثبت بخروج القدمالیالساق لانہ لامعتبر بہ فی حقالمسح
٤ وکذا باکثر القدم، ھو الصحیح، (١٢١) و من ابتدأ المسح و ھو مقیم فسافر قبل تمام یوم و لیلة
اثر سے بھی اسکی تائید ہو تی ہے کہ وضو ہو تو موزہ کھلنے پر صرف پائوں دھوئے ۔ مسئلہ نمبر ١١٨ اثر کا ٹکڑا یہ گزرا ۔ فینزعھما قال یغسل قدمیہ۔ (سنن للبیھقی،نمبر ١٣٧٠ ) جس کا مطلب یہ تھا کہ صرف دونوں قدموں کو دھونا لازم ہے ۔پورا وضو لوٹانا لازم نہیں ہے۔
ترجمہ: ١ اور ایسے ہی اگر موزہ مدت سے پہلے نکل گیا ۔ تو دونوں موزے کھول کر دونوں پائوں دھوئے ۔ دلیل اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ: ٢ اسلئے موزہ کھلتے وقت پرانا حدث قدم تک سرایت کر گیا تو گویا کہ دونوں قدموں کو دھویا ہی نہیں ۔
یہ دلیل عقلی ہے ۔ کہ جب موزہ نکل گیا اور قدم کھل گیا تو پرانا حدث قدم تک سرایت کر گیا اور ایسا سمجھیںکہ دونوں پائوں کو دھو یا ہی نہیں اسلئے موزہ نکال کر دونوں پائوں کو دھونا ہو گا ۔۔ اسکے لئے اثر اوپر گزر گیا ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور نکلنے کا حکم ثابت ہو گا اس سے کہ قدم موزے کی پنڈلی تک نکل جائے ، اسلئے کہ مسح کے حق میں اسکا اعتبار نہیں ہے ۔
تشریح : موزے کا کتنا حصہ قدم سے باہر نکل جائے تو مسح ٹوٹ جائے گا ، اس سلسلے میں دو روایتیں پیش کی ہیں ۔ایک تو یہ کہ موزے کا وہ حصہ جو پنڈلی پر لگتا ہے وہاں تک قدم آجائے تو گو یا کہ موزہ نکل گیا اور پیر دھو نا ہو گا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ موزے کی پنڈلی کا جو حصہ ہے مسح میں اسکا اعتبار نہیں ہے موزے میں وہ حصہ نہ بھی ہو تو مسح جائز ہے اور جب قدم وہاں تک آگیا تو گویا کہ موزہ قدم سے باہر نکل آگیا ، اسلئے مسح ٹوٹ جائے گا ۔
ترجمہ: ٤ اور ایسے ہی اکثر قدم باہر نکل جائے تو موزے کا نکلنا ہے، صحیح یہی ہے ۔
قدم کا اکثر حصہ موزے کی پنڈلی میں آجائے تو گویا کہ موزہ نکل گیا اور مسح ٹوٹ گیا ۔صحیح یہی ہے ، کیونکہ بہت سی جگہ پر اکثر کا حکم کل کا حکم ہے اسلئے اکثر قدم موزے کی پنڈلی میں آگیا تو گویا کہ پورا موزہ نکل گیا ۔ اور حدیث کے مطابق ۔ مالم یخلع ۔ (سنن للبیھقی، باب من خلع خفیہ بعد ما مسح علیھما ،ص٤٣٤، نمبر ١٣٧٦) کا ثبوت ہو گیا ۔
امام ابوحنیفہ سے ایک تیسری روایت یہ ہے کہ ایڑی کا اکثر حصہ موزے کی پنڈلی میں آجائے تو مسح ٹوٹ جائے گا ۔
لغت نزع : نکالے۔یسری : سرایت کر جائے ۔ الساق : پنڈلی ، یہاں مراد ہے موزے کی پنڈلی ۔
ترجمہ: (١٢١)کسی نے مسح شروع کیا اس حال میں کہ وہ مقیم تھا پھر ایک دن ایک رات پورا ہونے سے پہلے سفر شروع کیاتو مسح