Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

240 - 627
 ١  لتعذر الجمع بین الغسل و المسح فی وظیفة واحدة۔    (١١٩)  و کذا مضی المدة   ١  لما روینا 
(١٢٠)  واذا تمت المدة نزع خفیہ و غسل رجلیہ و لیس علیہ اعادةبقیة الوضوء ) 

ترجمہ:  ١  دھونے اور مسح کو ایک ہی وظیفے میں جمع کر نا متعذر ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : دو موزوں میں سے ایک نکل گیا تو دونوں کو کھولنا ہو گا اور دونوں پائوں کو دھونا ہو گا ۔یہاں پر ایک کا کھلنا دونوں کا کھلنا ہے 
وجہ:  (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ دو نوں پائوں  ایک طرح کے ہیں اور دونوں کا ایک ہی کام ہے اسکے باوجود ایک کو دھوئے اور ایک پائوںپر مسح کرے یہ متعذر ہے ، اور اچھا نہیں لگتا ہے اسلئے دونوں ہی کو نکال کر دھونا ہو گا ۔(٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ اثر میں ہے کہ دونوں پائوں کو نکال کر دھونا ہو گا ۔ اثر یہ ہے ۔ عن رجل من اصحاب النبی ۖ فی الرجل یمسح علی خفیہ ثم یبدو لہ  فینزعھما قال یغسل قدمیہ ۔ (السنن للبیھقی،، نمبر ١٣٧٠)اس اثر میں ینزعھما ، اور قدمیہ ، تثنیہ کا صیغہ ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ دونوں پائوں کو دھونا ہو گا ، ایک پائوں دھونا کافی نہیں ہے ۔ (٣) اس اثر میں اسکی صراحت ہے ۔عن ابراھیم قال : اذا خلعھما أو أحدھما استأنف الوضوء ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ، ٢٢١ فی الرجل یمسح علی خفیہ ثم یخلعھا ، ج اول ، ص ١٧٠ ، نمبر ١٩٦٣ ) اس اثر میں ہے کہ دونوں موزے کھل جائے یا ایک کھل جائے دونوں صورتوں میں شروع سے وضو کرے ۔۔وظیفة واحدة : سے مراد ایک کام ہے ۔
ترجمہ:  (١١٩)  اور مدت کا گزرنا بھی مسح توڑتا ہے۔یعنی مدت گزر جائے تو مسح ٹوٹ جائیگا ، اب دوبارہ مسح کر نا ہو گا ۔
ترجمہ: (١٢٠)  پس جب مدت گزر جائے تو دونوں موزوں کو کھولے اور دونوں پاؤں کو دھوئے اور نماز پڑھے۔اور اس پر باقی وضو کو لوٹا نا لازم نہیں ہے۔  
تشریح :    اوپر کی کئی حدیثوں میں گزر چکا ہے کہ مقیم کے لئے ایک دن ایک رات اور مسافر کے لئے تین دن اور تین رات مدت مسح ہے۔ پس یہ مدت مسح پر گزر جائے تو مسح کا وقت ختم ہو جائے گا۔ کیوںکہ موزہ حدث کے لئے مانع تھا ۔وقت گزرنے پر مانع ختم ہو گیا اور حدث پاؤں کے اندر سرایت کر گیا اس لئے موزہ کھولنا ہوگا اور پاؤں دھونا ہوگا۔ 
وجہ:  اس حدیث ، اور اثر میں ہے کہ مدت گزر جانے کے بعد مسح ٹوٹ جائے گا ۔عن عبد الرحمن بن أبی بکرة عن ابیہ أن رسول اللہ ۖ سئل عن المسح علی الخفین فقال : للمسافر ثلاثة أیام و لیالیھن و للمقیم یو م و لیلة )) و کان أبی  ینزع  خفیہ و یغسل رجلیہ ۔ ( سنن للبیھقی ، با ب التوقیت فی المسح  علی الخفین ، ج اول ، ص ٤١٥ ، نمبر ١٣٠٨ ) اس حدیث میں ہے کہ مدت گزر نے کے بعد حضرت ابوبکرة موزہ کھول دیا کر تے تھے اور دونوں پائوں کودھوتے تھے ۔ اس حدیث کے اشارے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے سے وضو موجود ہو تو پورا وضو لوٹانے کی ضرورت نہیں صرف پائوں دھو لینا کافی ہے ۔آگے والے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter