١ لتعذر الجمع بین الغسل و المسح فی وظیفة واحدة۔ (١١٩) و کذا مضی المدة ١ لما روینا
(١٢٠) واذا تمت المدة نزع خفیہ و غسل رجلیہ و لیس علیہ اعادةبقیة الوضوء )
ترجمہ: ١ دھونے اور مسح کو ایک ہی وظیفے میں جمع کر نا متعذر ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : دو موزوں میں سے ایک نکل گیا تو دونوں کو کھولنا ہو گا اور دونوں پائوں کو دھونا ہو گا ۔یہاں پر ایک کا کھلنا دونوں کا کھلنا ہے
وجہ: (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ دو نوں پائوں ایک طرح کے ہیں اور دونوں کا ایک ہی کام ہے اسکے باوجود ایک کو دھوئے اور ایک پائوںپر مسح کرے یہ متعذر ہے ، اور اچھا نہیں لگتا ہے اسلئے دونوں ہی کو نکال کر دھونا ہو گا ۔(٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ اثر میں ہے کہ دونوں پائوں کو نکال کر دھونا ہو گا ۔ اثر یہ ہے ۔ عن رجل من اصحاب النبی ۖ فی الرجل یمسح علی خفیہ ثم یبدو لہ فینزعھما قال یغسل قدمیہ ۔ (السنن للبیھقی،، نمبر ١٣٧٠)اس اثر میں ینزعھما ، اور قدمیہ ، تثنیہ کا صیغہ ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ دونوں پائوں کو دھونا ہو گا ، ایک پائوں دھونا کافی نہیں ہے ۔ (٣) اس اثر میں اسکی صراحت ہے ۔عن ابراھیم قال : اذا خلعھما أو أحدھما استأنف الوضوء ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ، ٢٢١ فی الرجل یمسح علی خفیہ ثم یخلعھا ، ج اول ، ص ١٧٠ ، نمبر ١٩٦٣ ) اس اثر میں ہے کہ دونوں موزے کھل جائے یا ایک کھل جائے دونوں صورتوں میں شروع سے وضو کرے ۔۔وظیفة واحدة : سے مراد ایک کام ہے ۔
ترجمہ: (١١٩) اور مدت کا گزرنا بھی مسح توڑتا ہے۔یعنی مدت گزر جائے تو مسح ٹوٹ جائیگا ، اب دوبارہ مسح کر نا ہو گا ۔
ترجمہ: (١٢٠) پس جب مدت گزر جائے تو دونوں موزوں کو کھولے اور دونوں پاؤں کو دھوئے اور نماز پڑھے۔اور اس پر باقی وضو کو لوٹا نا لازم نہیں ہے۔
تشریح : اوپر کی کئی حدیثوں میں گزر چکا ہے کہ مقیم کے لئے ایک دن ایک رات اور مسافر کے لئے تین دن اور تین رات مدت مسح ہے۔ پس یہ مدت مسح پر گزر جائے تو مسح کا وقت ختم ہو جائے گا۔ کیوںکہ موزہ حدث کے لئے مانع تھا ۔وقت گزرنے پر مانع ختم ہو گیا اور حدث پاؤں کے اندر سرایت کر گیا اس لئے موزہ کھولنا ہوگا اور پاؤں دھونا ہوگا۔
وجہ: اس حدیث ، اور اثر میں ہے کہ مدت گزر جانے کے بعد مسح ٹوٹ جائے گا ۔عن عبد الرحمن بن أبی بکرة عن ابیہ أن رسول اللہ ۖ سئل عن المسح علی الخفین فقال : للمسافر ثلاثة أیام و لیالیھن و للمقیم یو م و لیلة )) و کان أبی ینزع خفیہ و یغسل رجلیہ ۔ ( سنن للبیھقی ، با ب التوقیت فی المسح علی الخفین ، ج اول ، ص ٤١٥ ، نمبر ١٣٠٨ ) اس حدیث میں ہے کہ مدت گزر نے کے بعد حضرت ابوبکرة موزہ کھول دیا کر تے تھے اور دونوں پائوں کودھوتے تھے ۔ اس حدیث کے اشارے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے سے وضو موجود ہو تو پورا وضو لوٹانے کی ضرورت نہیں صرف پائوں دھو لینا کافی ہے ۔آگے والے