(١١٦) وینقض المسح کل شیء ینقض الوضوئ) ١ لانہ بعض الوضوء (١١٧) و ینقضہ ایضا نزع الخف) ١ لسرایة الحدث الی القدم حیث زال المانع (١١٨) و کذا نزع احدھما)
ہے ، اور حدث ایک دن میں کئی بار ہو تا ہے اسلئے بار بار موزہ کھول کر پائوں دھونے میں حرج ہے اسلئے شریعت نے سہولت کے لئے موزے پر مسح کر نا جائز رکھا ۔ اسلئے حدث اصغر میں موزہ نہیں کھولا جائے گا اور اکبر میں کھولا جائے گا ۔۔ یہ دلیل عقلی ہے ۔
ترجمہ: (١١٦) مسح کو توڑتی ہے وہ چیزیں جو وضو کو توڑتی ہیں۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ مسح وضو کا بعض حصہ ہے
وجہ: جن حدثوں سے وضو ٹوٹتا ہے ان حدثوں سے مسح بھی ٹوٹ جائے گا اور دو بارہ موزہ پر مسح کرنا ہوگا۔ البتہ موزہ کھول کر پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ مدت کے اندر موزہ پر دوبارہ مسح کر لینا کافی ہے ۔کیونکہ مسح وضو کا بعض حصہ ہے اس لئے جس سے وضو ٹوٹے گا اس سے مسح بھی ٹوٹ جائے گا ۔لیکن موزہ پاؤں سے نکل جائے تو دونوں موزے کھول کر پاؤں دھونا ہوگا۔
ترجمہ: (١١٧) اور موزے کے مسح کو توڑ دیگا موزے کا نکلنا بھی۔
ترجمہ: ١ قدم تک حدث کے سرایت کر نے کی وجہ سے اسلئے کہ روکنے والی چیز زائل ہو گئی۔
تشریح : مدت مسح کے اندر بھی موزہ پائوں سے نکل جائے یا ٹخنے تک آجائے تو مسح ٹوٹ جاتا ہے اب دونوں موزے مکمل نکال کر پائوں دھوئے ۔ حدث ہو نے اور موزے نکلنے میں یہ فرق ہے کہ حدث ہو نے سے صرف دوبارہ مسح کرنا ہو تا ہے ، اور موزہ نکلنے سے دونوں پائوں کو دوبارہ دھونا پڑتا ہے ۔
وجہ: اسکی ایک وجہ تو یہ حدیث ہے ۔ عن مغیرة بن شعبة قال غزونا مع رسول اللہ ۖ فامرنا بالمسح علی الخفین ثلاثة ایام ولیالیھا للمسافر ویوما و لیلة للمقیم مالم یخلع ۔ (سنن للبیھقی، باب من خلع خفیہ بعد ما مسح علیھما ،ص٤٣٤، نمبر ١٣٧٦ مصنف ابن ابی شیبة،٢٢١ فی الرجل یمسح علی خفیہ ثم یخلعھا ،ج اول، ص ١٧٠، نمبر ١٩٦٠) مالم یخلع سے پتہ چلتا ہے کہ موزہ پاؤں سے کھل جائے تو دوبارہ پاؤں دھونا ہوگا۔(٢) یہ اثر بھی ہے ۔ عن ابراھیم قال : اذا نزعتھما فاغسل قدمیک ، و بہ یأخذ الثوری ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب نزع الخفین بعد المسح ، ج اول ، ص ٢١٠ ، نمبر ٨١٣ ) اس اثر میں ہے کہ موزہ کھل جائے تو دونوں پائوں کو دھوؤ۔(٣) اورتیسری دلیل عقلی یہ ہے کہ موزہ نکلتے ہی موزہ جو حدث کو روکنے والی چیز تھی وہ زائل ہو گئی جسکی وجہ سے پرانا حدث قدم تک سرایت کر گیا اسلئے اب پورا موزہ نکال کر دوبارہ پائوں دھونا ہو گا اور سرایت شدہ حدث کو پاک کر نا ہو گا ۔
ترجمہ: (١١٨) ایسے ہی دونوں موزوں میں سے ایک کا کھل جانا ۔