٧ وانکشاف العورة نظیر النجاسة (١١٥)ولایجوزالمسح لمن وجب علیہ الغسل) ١ لحدیث صفوان بن عسال انہ قال: کان رسول اللہۖ یأمرنا اذاکنا سفراان لا ننزع خفافنا ثلثةایام و لیالیھا الا عن جنابة و لکن عن بول او غائط او نوم ٢ ولان الجنابة لاتتکررعادة فلاحرج فی النزع بخلاف الحدث فانہ یتکرر
ترجمہ: ٧ اور ستر عورت کا کھلنا نجاست کی طرح ہے ۔یعنی سب کو ملایا جائے گا ۔
تشریح : مثلا دونوںرانوں میں تھوڑا تھوڑا کپڑا پھٹا ہوا ہے جس سے ستر عورت نظر آتا ہے اب دونوںرانوں کے پھٹنوں کو ملا یا جائے تو چوتھائی جسم ہو جا تا ہے اور چوتھائی جسم ستر کھل جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔لیکن ایک ران کا پھٹن چوٹھائی جسم سے کم ہے۔ یہاں دونوں رانوں کے پھٹن کو ملا یا جائے گا اور چوتھائی جسم کھلنے سے نماز ٹوٹ جائے گی ۔ کیونکہ ستر کا معاملہ نجاست کی طرح ہے ۔ کیونکہ یہاں بھی تمام پھٹن کو ایک ہی آدمی اٹھائے ہوا ہے اسلئے تمام کو جمع کیا جائے گا ۔
لغت : خرق : پھٹن، یتبین : ظاہر ہوتا ہے۔انامل : پوروا ، انگلی کا اگلا حصہ ۔ینفرج : فرج سے مشتق ہے ، کھل جاتا ہے۔
ترجمہ: (١١٥) موزے پر مسح جائز نہیں ہے اس آدمی کے لئے جس پر غسل واجب ہے۔
تشریح : اوپر حدیث گزر چکی ہے کہ جن پر جنابت، یا حیض ، یا نفاس کا غسل لازم ہو وہ موزے پر مسح نہیں کر سکتا ، صرف وہ لوگ موزے پر مسح کرسکتے ہیں جن پر حدث اصغر کا وضو ہو ۔
ترجمہ: ١ (١) حضرت صفوان بن عسال کی حدیث کی وجہ سے : انہوں نے کہا کہ حضور ۖ ہمیں حکم دیا کر تے تھے کہ اگر ہم سفر میں ہوں تو اپنے موزے کو تین دن اور تین رات تک نہ کھولیں مگر جنابت سے ، لیکن پیشاب ، اور پیخانہ ، اور نیند کی وجہ سے نہ کھولیں ۔ حدیث یہ ہے۔ عن صفوان بن عسال قال کان رسول اللہ ۖیأمرنا اذا کنا سفرا ان لا تنزع خفافنا ثلثة ایام ولیالیھن الا من جنابة ولکن من غائط وبول ونوم ۔ (ترمذی شریف، باب المسح علی الخفین للمسافر والمقیم ص ٢٧ نمبر ٩٦ نسائی شریف ، باب التوقیت فی المسح علی الخفین للمسافر ، ص ١٨ ، نمبر ١٢٧)اس حدیث میں ہے کہ جنابت ہو تو موزے پر مسح نہیں کرسکتا۔اور حدث اصغر ہو تو کر سکتا ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور اسلئے بھی کہ جنابت عادة بار بار نہیں ہو تی اسلئے موزہ کھولنے میں حرج نہیں ہے بخلاف حدث کے کہ وہ بار بار ہو تا ہے ۔
تشریح : جنابت عادة دن میں بار بار نہیں ہو تی اسلئے کبھی کبھار جنابت ہو نے کے بعد موزہ کھول کر پائوں دھونے میں حرج نہیں