Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

237 - 627
٥  و یعتبر ھٰذا المقدار فی کل خف علی حدة فیجمع الخرق فی خف واحد و لا یجمع فی خفین لان الخرق فی احدھما لا یمنع قطع السفر بالآخر  ٦ بخلاف النجاسة المتفرقة لانہ حامل للکل 
 
مسح کر نے میںکوئی حرج نہیں ہے کیونکہ چلتے وقت موزہ کھل جائے تب مسح نا جائز ہو گا ۔کیونکہ پہلے اثر میں ثم یبدو لہ ،کا لفظ ہے اور دوسرے اثر میں اذا خرج من مواضع الوضو ء ہے جس سے معلوم ہوا کہ چلتے وقت پائوں ظاہر ہو جائے تب مسح ناجائز ہو گا ۔ دونوں اثر یہ ہیں ۔ عن رجل من اصحاب النبی ۖ فی الرجل یمسح علی خفیہ ثم یبدو لہ  فینزعھما قال یغسل قدمیہ ۔ ( السنن للبیھقی،، نمبر ١٣٧٠)  سألت معمرا عن الخرق یکون فی الخف فقال اذا خرج من مواضع الوضوء شیء فلا تمسح علیہ واخلع(السنن للبیھقی، نمبر ١٣٤٧ مصنف ابن ابی شیبة،نمبر ١٩٥٨) ان  اثار سے معلوم ہوا کہ چلتے وقت پائوں ظاہر ہو تب مسح ناجائز ہو گا ۔ 
ترجمہ:   ٥  اور اعتبار کیا جائے گا اس مقدار کا ہر موزے میں الگ الگ تو تمام پھٹن کو جمع کیا جائے گا ایک موزے میں اور نہیں جمع کیا جائے گا دونوں موزیے ہیں اسلئے کہ دونوں میں سے ایک میں پھٹن ہو تو دوسرے کے ذریعہ سفر کرنے کو منقطع نہیں کر تا ۔
تشریح :    ایک  ہی موزے کے تمام پھٹن کو جمع کرکے دیکھا جائے کہ تین انگلیوں کے برابر ہو جائے تو مسح کر نا ممنوع ہو گا ۔ لیکن دوسرے موزے کے پھٹن کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا دوسرے موزے کا پھٹن دوسرے موزے ہی میں شامل ہو گا ۔ چنانچہ دونوں موزوں  میں تھوڑا تھوڑا پھٹن ہو اور دونوں کو ملا کر تین انگلی سے زائد ہو لیکن ہر ایک موزے کا پھٹن تین انگلی سے کم ہوتو دونوں پر مسح جائز ہے  ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ایک موزے میں بہت پھٹن ہو تو دوسرے موزے کو استعمال کر سکتا ہے اور اس سے سفر کر سکتا ہے ، تو جب ایک موزے کا پھٹن دوسرے موزے کو استعمال سے نہیں روکتا ، تو ایک موزے کا پھٹن مسح کے لئے بھی دوسرے موزے میں شامل نہیں ہو گا ۔یہ دلیل عقلی ہے۔
ترجمہ:  ٦  بخلاف الگ الگ نجاست کے اسلئے کہ آدمی کل کو اٹھانے والا ہے ۔
تشریح :   نجاست کا معاملہ موزے کے پھٹن سے الگ ہے ۔ تھوڑی تھوڑی نجاست دونوں موزوں پر لگی ہو تو دونوں نجاستوں کو ایک مانا جائے گا ، پس اگر دونوں مل کر ایک درھم کے برابر ہو جائے تو اس میں نماز جائز نہیں ہو گی ، یہاں دونوں موزوں کی نجاستوں کو ایک مانا گیا جبکہ پھٹن  میں الگ الگ مانا گیا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ نجاست کا معاملہ موزے پر نہیں ہے بلکہ خود آدمی پر ہے کہ ایک ہی آدمی دونوں موزوں کی نجاستوں کو اٹھانے والا ہے ۔ چونکہ ایک ہی آدمی دونوں موزوں کی نجاستوں کو اٹھانے والا ہے اسلئے دونوں موزوں کی نجاستوں کو ایک ساتھ ملایا جائے گا   یہ بھی دلیل عقلی ہے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter