٥ و یعتبر ھٰذا المقدار فی کل خف علی حدة فیجمع الخرق فی خف واحد و لا یجمع فی خفین لان الخرق فی احدھما لا یمنع قطع السفر بالآخر ٦ بخلاف النجاسة المتفرقة لانہ حامل للکل
مسح کر نے میںکوئی حرج نہیں ہے کیونکہ چلتے وقت موزہ کھل جائے تب مسح نا جائز ہو گا ۔کیونکہ پہلے اثر میں ثم یبدو لہ ،کا لفظ ہے اور دوسرے اثر میں اذا خرج من مواضع الوضو ء ہے جس سے معلوم ہوا کہ چلتے وقت پائوں ظاہر ہو جائے تب مسح ناجائز ہو گا ۔ دونوں اثر یہ ہیں ۔ عن رجل من اصحاب النبی ۖ فی الرجل یمسح علی خفیہ ثم یبدو لہ فینزعھما قال یغسل قدمیہ ۔ ( السنن للبیھقی،، نمبر ١٣٧٠) سألت معمرا عن الخرق یکون فی الخف فقال اذا خرج من مواضع الوضوء شیء فلا تمسح علیہ واخلع(السنن للبیھقی، نمبر ١٣٤٧ مصنف ابن ابی شیبة،نمبر ١٩٥٨) ان اثار سے معلوم ہوا کہ چلتے وقت پائوں ظاہر ہو تب مسح ناجائز ہو گا ۔
ترجمہ: ٥ اور اعتبار کیا جائے گا اس مقدار کا ہر موزے میں الگ الگ تو تمام پھٹن کو جمع کیا جائے گا ایک موزے میں اور نہیں جمع کیا جائے گا دونوں موزیے ہیں اسلئے کہ دونوں میں سے ایک میں پھٹن ہو تو دوسرے کے ذریعہ سفر کرنے کو منقطع نہیں کر تا ۔
تشریح : ایک ہی موزے کے تمام پھٹن کو جمع کرکے دیکھا جائے کہ تین انگلیوں کے برابر ہو جائے تو مسح کر نا ممنوع ہو گا ۔ لیکن دوسرے موزے کے پھٹن کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا دوسرے موزے کا پھٹن دوسرے موزے ہی میں شامل ہو گا ۔ چنانچہ دونوں موزوں میں تھوڑا تھوڑا پھٹن ہو اور دونوں کو ملا کر تین انگلی سے زائد ہو لیکن ہر ایک موزے کا پھٹن تین انگلی سے کم ہوتو دونوں پر مسح جائز ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ایک موزے میں بہت پھٹن ہو تو دوسرے موزے کو استعمال کر سکتا ہے اور اس سے سفر کر سکتا ہے ، تو جب ایک موزے کا پھٹن دوسرے موزے کو استعمال سے نہیں روکتا ، تو ایک موزے کا پھٹن مسح کے لئے بھی دوسرے موزے میں شامل نہیں ہو گا ۔یہ دلیل عقلی ہے۔
ترجمہ: ٦ بخلاف الگ الگ نجاست کے اسلئے کہ آدمی کل کو اٹھانے والا ہے ۔
تشریح : نجاست کا معاملہ موزے کے پھٹن سے الگ ہے ۔ تھوڑی تھوڑی نجاست دونوں موزوں پر لگی ہو تو دونوں نجاستوں کو ایک مانا جائے گا ، پس اگر دونوں مل کر ایک درھم کے برابر ہو جائے تو اس میں نماز جائز نہیں ہو گی ، یہاں دونوں موزوں کی نجاستوں کو ایک مانا گیا جبکہ پھٹن میں الگ الگ مانا گیا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ نجاست کا معاملہ موزے پر نہیں ہے بلکہ خود آدمی پر ہے کہ ایک ہی آدمی دونوں موزوں کی نجاستوں کو اٹھانے والا ہے ۔ چونکہ ایک ہی آدمی دونوں موزوں کی نجاستوں کو اٹھانے والا ہے اسلئے دونوں موزوں کی نجاستوں کو ایک ساتھ ملایا جائے گا یہ بھی دلیل عقلی ہے ۔