(٨١) ولوخاف الجنب ان اغتسل ان یقتلہ البرداویمرضہ یتیمم بالصعید) ١ وھذا اذا کان خارج المصرلمابینا،ولوکان فی المصرفکذالک عندابی حنیفة
نمبر٣٣٤) اسلئے ھلاک ہو نے کا خطرہ ہو تب تیمم کر سکتا ہے (٢) اور آیت میں بھی ہے کہ اپنے آپ کو قتل نہ کرو ، آیت یہ ہے ۔و لا تقتلوا أنفسکم ان اللہ کان بکم رحیماً ۔ (آیت ٢٩ سورة النساء ٤)اسلئے قتل یعنی ھلاک ہو نے کا خطرہ ہوتب تیمم کرسکتا ہے ۔
حنفیہ کے نزدیک صرف حرج ہو یعنی مرض کے بڑھنے کا خطرہ ہو ، یا بیمار ہو جانے کا خطرہ ہو تو تیمم کر سکتا ہے ۔ کیونکہ آیت میں ہے کہ اللہ تعالی حرج میں مبتلاء نہیں کر نا چاہتے ، جسکا مطلب یہ ہوا کہ حرج ہو تو تیمم کر سکتا ہے اور مرض کے بڑھنے میں حرج ہے اسلئے تیمم کر سکتا ہے ۔ آیت یہ تھی۔ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھر کم و لیتم نعمتہ علیکم لعلکم تشکرون ۔ (آیت ٦ سورة المائدة ٥) اسلئے حرج یعنی مرض بڑھنے میں تیمم کر سکتا ہے ۔
ترجمہ : (٨١) اور اگر جنبی خوف کرے کہ اگر وہ غسل کرے گا تو ٹھنڈک اسکو مار دیگی ، یا اسکو بیمار کر دیگی تو وہ پاک مٹی سے تیمم کر سکتا ہے ۔
وجہ: جنبی آدمی کو خوف ہو کہ اگر غسل کرونگا تو ٹھنڈک اسکو مار دیگی ، یا اسکو بیمار کر دیگی تو وہ پاک مٹی سے تیمم کر سکتا ہے ۔ دلیل اوپر گزر گئی ، ایک حدیث یہ بھی ہے۔ عن جابر قال خرجنا فی سفر فأصاب رجلا منا حجر فشجہ فی رأسہ ثم احتلم فسأل أصحابہ فقال ھل تجدون لی رخصة فی التیمم ؟ قالو ا ما نجد لک رخصة و أنت تقدر علی الماء فاغسل فمات فلما قدمنا علی النبی ۖ أخبر بذالک فقال : قتلوہ قتلھم اللہ ألا سألو اذا لم یعلموا فانما شفاء العی السوال ۔( ابو داود شریف ، باب المجدور یتیمم ،ص ٥٤ نمبر ٣٣٦ ) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مرض بڑھنے کا خطرہ ہو تو تیمم کر سکتا ہے ۔
ترجمہ : ١ یہ جب ہے کہ آدمی شہر سے باہرہو ، اور اگر شہر میں ہوتب بھی ایسے ہی ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ۔
تشریح : شہر سے باہرہو اور سردی کا خوف ہوتو تیمم کر کے نماز پڑھے ۔ جیسا کہ اس اثر میں ہے کہ حضرت ابن عمر نے مدینے سے تین میل باہر تیمم کر کے نماز پڑھی ۔یہ اثر گزر گیا ہے ۔ان ابن عمر تیمم بمربد النعم وصلی وھو علی ثلثة امیال من المدینة (دار قطنی ،باب فی بیان الموضع الذی یجوز التیمم فیہ ج اول ض ١٩٥ نمبر ٧٠٧)، لیکن اگر شہرکے اندر ہو اور سردی کا خوف ہو اور پانی گرم کرنے کا کوئی راستہ نہ ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک شہر کے اندر بھی تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ عام حالات میں پانی گرم کر نے کی سہولت شہر میں ہو تی ہے لیکن خدا نہ خواستہ پانی گرم کرنے کی کوئی سہولت نہ ہوتو یہ فتوی دینا ہی پڑے گا