Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

197 - 627
(٨١) ولوخاف الجنب ان اغتسل ان یقتلہ البرداویمرضہ یتیمم بالصعید)  ١  وھذا اذا کان خارج المصرلمابینا،ولوکان فی المصرفکذالک عندابی حنیفة

نمبر٣٣٤) اسلئے ھلاک ہو نے کا خطرہ ہو تب تیمم کر سکتا ہے (٢) اور آیت میں بھی ہے کہ اپنے آپ کو قتل نہ کرو ، آیت یہ ہے ۔و لا تقتلوا أنفسکم ان اللہ کان بکم رحیماً ۔ (آیت ٢٩ سورة النساء ٤)اسلئے قتل یعنی ھلاک ہو نے کا خطرہ ہوتب تیمم کرسکتا ہے ۔
حنفیہ کے نزدیک صرف حرج ہو یعنی مرض کے بڑھنے کا خطرہ ہو ، یا بیمار ہو جانے کا خطرہ ہو تو تیمم کر سکتا ہے ۔ کیونکہ آیت میں ہے کہ اللہ تعالی حرج میں مبتلاء نہیں کر نا چاہتے ، جسکا مطلب یہ ہوا کہ حرج ہو تو تیمم کر سکتا ہے اور مرض کے بڑھنے میں حرج ہے اسلئے تیمم کر سکتا ہے ۔ آیت یہ تھی۔ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھر کم و لیتم نعمتہ علیکم لعلکم تشکرون ۔ (آیت ٦ سورة المائدة ٥)  اسلئے حرج  یعنی مرض بڑھنے میں تیمم کر سکتا ہے ۔ 
ترجمہ :  (٨١)  اور اگر جنبی خوف کرے کہ اگر وہ غسل کرے گا تو ٹھنڈک اسکو مار دیگی ، یا اسکو بیمار کر دیگی تو وہ پاک مٹی سے تیمم کر سکتا ہے ۔
وجہ:   جنبی آدمی کو خوف ہو کہ اگر غسل کرونگا تو ٹھنڈک اسکو مار دیگی ، یا اسکو بیمار کر دیگی تو وہ پاک مٹی سے تیمم کر سکتا ہے ۔ دلیل اوپر گزر گئی ، ایک حدیث یہ بھی ہے۔ عن جابر قال خرجنا فی سفر فأصاب رجلا منا حجر فشجہ فی رأسہ ثم احتلم فسأل أصحابہ فقال ھل تجدون لی رخصة فی التیمم ؟ قالو ا ما نجد لک رخصة و أنت تقدر علی الماء فاغسل فمات فلما قدمنا علی النبی  ۖ أخبر بذالک فقال : قتلوہ قتلھم اللہ ألا سألو اذا لم یعلموا فانما شفاء العی السوال ۔( ابو داود شریف ، باب المجدور یتیمم ،ص ٥٤ نمبر ٣٣٦ ) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مرض بڑھنے کا خطرہ ہو تو تیمم کر سکتا ہے ۔ 
ترجمہ :  ١  یہ جب ہے کہ آدمی شہر سے باہرہو ، اور اگر شہر میں ہوتب بھی ایسے ہی ہے امام ابو حنیفہ  کے نزدیک  ۔
تشریح :   شہر سے باہرہو اور سردی کا خوف ہوتو تیمم کر کے نماز پڑھے ۔ جیسا کہ اس اثر میں ہے کہ حضرت ابن عمر  نے مدینے سے تین میل باہر تیمم کر کے نماز پڑھی  ۔یہ اثر گزر گیا ہے ۔ان ابن عمر تیمم بمربد النعم وصلی وھو علی ثلثة امیال من المدینة (دار قطنی ،باب فی بیان الموضع الذی یجوز التیمم فیہ ج اول ض ١٩٥ نمبر ٧٠٧)، لیکن اگر شہرکے اندر ہو اور سردی کا خوف ہو اور پانی گرم کرنے کا کوئی راستہ نہ ہو تو امام ابو حنیفہ  کے نزدیک شہر کے اندر بھی تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ عام حالات میں پانی گرم کر نے کی سہولت شہر میں ہو تی ہے لیکن خدا نہ خواستہ پانی گرم کرنے کی کوئی سہولت نہ ہوتو یہ فتوی دینا ہی پڑے گا 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter