١ لما تلونا٢ و لان الضرر فی زیادة المرض فوق الضرر فی زیادة ثمن الماء و ذالک یبیح التیمم فھذا اولی،٣ ولا فرق بین ان یشتد مرضہ بالتحریک او بالاستعمال ٤واعتبرالشافعی خوف التلف و ھو مردود بظاھر النص
بکم رحیماً ۔ (آیت ٢٩ سورة النساء ٤) فضحک رسول اللہ ۖ ولم یقل شیئاً۔( ابو داود شریف باب اذا خاف الجنب البرد أیتیمم ؟ ،ص ٥٤ نمبر ٣٣٤) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مرض بڑھنے کا خوف ہو تو تیمم کر سکتاہے ۔
ترجمہ : ١ اس آیت کی بنا پر جو میں نے پہلے تلاوت کی ۔ یہ آیت اوپر گزر گئی ۔ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھر کم و لیتم نعمتہ علیکم لعلکم تشکرون ۔ (آیت ٦ سورة المائدة ٥)۔اس آیت میں ہے کہ حرج ہو تو تیمم کر سکتا ہے ۔
ترجمہ : ٢ اور اسلئے کہ بیماری کی زیادتی کا نقصان پانی کی قیمت کی زیادتی کے نقصان سے زیادہ ہے اور وہ تیمم کو مباح کرتی ہے تو یہ بدرجہ اولی مباح کریگا ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے ۔ پانی کی قیمت عام قیمت سے زیادہ کہہ رہا ہو تو آدمی کے لئے مباح ہے کہ پانی نہ خریدے اور تیمم کر کے نماز پڑھ لے ،کیونکہ اس میں زیادہ قیمت دینے کا نقصان ہے ، اب اگر پانی استعمال کرے گا تو بیماری کے زیادہ ہو نے کا خطرہ ہے، تو بیماری کا زیادہ ہو نا بڑا نقصان ہے اور پانی کی قیمت کا زیادہ ہونا چھوٹا نقصان ہے ، پس جب چھوٹے نقصان کی وجہ سے تیمم کر سکتا ہے تو بڑا نقصان یعنی مرض کا زیادہ ہونے سے بدرجہ اولی تیمم کرسکتا ہے ۔اسلئے مرض کی زیادتی کا خوف ہو تو تیمم کر سکتا ہے۔
ترجمہ : ٣ اور کوئی فرق نہیں اس بارے میں کہ مرض حرکت دینے سے زیادہ ہو یا پانی استعمال کر نے سے ۔
تشریح : مثلا کسی آدمی کا پائوں ٹوٹا ہوا ہے ، وہ پانی استعمال کرے گا تو کوئی نقصان نہیں دے گا لیکن اگر پانی لانے جائے گا تو تکلیف بڑھ جائے گی اور پانی دور سے لانے والا کوئی نہیں ہے اسلئے ایسی صورت میں بھی وہ تیمم کر سکتا ہے کیونکہ حرکت کی وجہ سے مرض بڑھ نے کا خطرہ ہے ۔ اور اگر پانی استعمال کرنے سے مرض کے بڑھنے کا خطرہ ہو تب بھی تیمم کر سکتا ہے ۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
ترجمہ : ٤ اور امام شافعی نے اعتبار کیا ضائع ہو نے کے خوف کا حالانکہ وہ ظاہری نص سے رد معلوم ہو تا ہے ۔
تشریح : امام شافعی نے فر مایا کہ عضو کے ضائع ہو نے کا خطرہ ہو ، یا آدمی کے ھلاک ہو نے کا خطرہ ہو تب تیمم کر سکتا ہے ۔ صر ف مرض کے بڑھنے کا خوف ہو تو تیمم نہیں کر سکتا ہے ۔ انکی دلیل اوپر کی حدیث ہے جس میں صحابی نے فرما یا تھا کہ مجھے ھلاک ہو نیکا خطرہ تھا اسلئے میں نے تیمم کیا ۔ حدیث کا جملہ یہ تھا ۔فاشفقت أن أغتسل فأ ھلک فتیممت ثم صلیت (ابو داود