Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

196 - 627
 ١  لما تلونا٢ و لان  الضرر فی زیادة المرض فوق الضرر فی زیادة ثمن الماء و ذالک یبیح التیمم فھذا اولی،٣ ولا فرق بین ان یشتد مرضہ بالتحریک او بالاستعمال ٤واعتبرالشافعی  خوف التلف و ھو مردود بظاھر النص

بکم رحیماً ۔ (آیت ٢٩ سورة النساء ٤) فضحک رسول اللہ  ۖ ولم یقل شیئاً۔( ابو داود شریف باب اذا خاف الجنب البرد أیتیمم ؟ ،ص ٥٤ نمبر ٣٣٤)  اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مرض بڑھنے کا خوف ہو تو تیمم کر سکتاہے ۔
ترجمہ :   ١  اس آیت کی بنا پر جو میں نے پہلے تلاوت کی ۔ یہ آیت اوپر گزر گئی ۔ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھر کم و لیتم نعمتہ علیکم لعلکم تشکرون ۔ (آیت ٦ سورة المائدة ٥)۔اس آیت میں ہے کہ حرج ہو تو تیمم کر سکتا ہے ۔
ترجمہ :  ٢  اور اسلئے کہ بیماری کی زیادتی کا نقصان پانی کی قیمت کی زیادتی کے نقصان سے زیادہ ہے اور وہ تیمم کو مباح کرتی ہے تو یہ بدرجہ اولی مباح کریگا ۔ 
تشریح :   یہ دلیل عقلی ہے ۔ پانی کی قیمت عام قیمت سے زیادہ کہہ رہا ہو تو آدمی کے لئے مباح ہے کہ پانی نہ خریدے اور تیمم کر کے نماز پڑھ  لے ،کیونکہ اس میں زیادہ قیمت دینے کا نقصان  ہے ، اب اگر پانی استعمال کرے گا تو بیماری کے زیادہ ہو نے کا خطرہ ہے، تو بیماری کا زیادہ   ہو نا بڑا نقصان ہے اور پانی کی قیمت کا زیادہ ہونا چھوٹا نقصان ہے ، پس جب چھوٹے نقصان کی وجہ سے تیمم کر سکتا ہے تو بڑا نقصان یعنی مرض کا زیادہ ہونے سے بدرجہ اولی تیمم کرسکتا ہے ۔اسلئے مرض کی زیادتی کا خوف ہو تو تیمم کر سکتا ہے۔
ترجمہ :  ٣  اور کوئی فرق نہیں اس بارے میں کہ مرض حرکت دینے سے زیادہ ہو یا پانی استعمال کر نے سے ۔
تشریح :   مثلا کسی آدمی کا پائوں ٹوٹا ہوا ہے ، وہ پانی استعمال کرے گا تو کوئی نقصان نہیں دے گا لیکن اگر پانی لانے جائے گا تو تکلیف بڑھ جائے گی اور پانی دور سے لانے والا کوئی نہیں ہے اسلئے ایسی صورت میں بھی وہ تیمم کر سکتا ہے کیونکہ حرکت کی وجہ سے مرض بڑھ نے کا خطرہ ہے ۔ اور اگر پانی استعمال کرنے سے مرض کے بڑھنے کا خطرہ ہو تب بھی تیمم کر سکتا ہے ۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
ترجمہ :   ٤  اور امام شافعی  نے اعتبار کیا ضائع ہو نے کے خوف کا حالانکہ وہ ظاہری نص سے رد معلوم ہو تا ہے ۔
تشریح :   امام شافعی نے فر مایا کہ عضو کے ضائع ہو نے کا خطرہ ہو ، یا آدمی کے ھلاک ہو نے کا خطرہ ہو تب تیمم کر سکتا ہے ۔ صر ف مرض کے بڑھنے کا خوف ہو تو تیمم نہیں کر سکتا ہے ۔ انکی دلیل اوپر کی حدیث ہے جس میں صحابی نے فرما یا تھا کہ مجھے ھلاک ہو نیکا خطرہ تھا اسلئے میں نے تیمم کیا ۔ حدیث کا جملہ یہ تھا  ۔فاشفقت أن أغتسل فأ ھلک فتیممت ثم صلیت  (ابو داود 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter