(٨٠) ولوکان یجد الماء الاا نہ مریض فخاف ان استعمل الماء اشتد مرضہ یتیمم )
تشریح : پانی ایک میل سے کم میں ہے لیکن نماز کا وقت ختم ہو نے کے قریب ہے تب بھی نماز کے فوت ہونے کے خوف سے تیمم کر نا چاہے تو نہیں کر سکتا ، جب تک پانی ایک میل دور نہ ہو ، کیونکہ زیادتی یعنی وقت کی تاخیر خود نمازی کی جانب سے آئی ہے ۔اسلئے اس کو تیمم کی سہولت نہیں دی جائے گی ۔
لغت :۔ الصعید : پاک مٹی ، اوپر کی مٹی ۔التراب : مٹی ۔ حجج : حجة سے مشتق ہے سال ۔المیل : شرعی میل دوہزار گز کا ہو تا ہے ۔ کیونکہ در مختار میں ہے کہ ایک میل چار ہزار ہاتھ کا ہو تا ہے ، اور ایک ہاتھ آدھا گز ہو تا ہے ،اسلئے چار ہزار ہاتھ دو ہزار گز ہوا ، عبارت یہ ہے ۔ و المیل اربعة آلاف ذراع ۔ ( رد المحتار علی در المختار ، باب صلوٰ ة المسافر ، ج ثانی ، ص ٧٢٥ ) اور انگریزی میل سترہ سو ساٹھ گز 1760 کا ہو تا ہے اسلئے انگریزی میل شرعی میل سے 1.1363چھوٹا ہے اسلئے انگریزی میل سے ناپیں تو پانی 1.1363میل دور ہو یعنی گزدورہوتب تیمم کر سکتا ہے ۔اور کیلو میٹر شرعی میل سے 1.82869چھوٹا ہو تا ہے اسلئے 1.82869کیلو میٹر یعنی 1828.69 میٹرپانی سے دور ہو تب تیمم کرسکتا ہے ۔
ترجمہ : (٨٠) اگر پانی تو پاتا ہومگر یہ کہ بیمار ہو پس خوف ہو کہ اگر پانی استعمال کرے گا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا تو تیمم کر سکتا ہے ۔
وجہ: (١) شریعت انسان کو مشقت شدیدہ میں مبتلا کرنا نہیں چاہتی اس لئے اگر بیماری بڑھ جانے کا خوف ہو یا بیمار ہو جانے کا ظن غالب ہو تو تیمم کر سکتا ہے(٢) آیت لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ۔(آیت ٢٨٦ سورة البقرة) (٣) اور یہ آیت بھی گزری کہ اللہ تعالی امت کو حرج میں مبتلا کر نا نہیں چاہتے ۔ ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھر کم و لیتم نعمتہ علیکم لعلکم تشکرون ۔ (آیت ٦ سورة المائدة ٥) (٤) حدیث میں ہے کہ بیمار ہونے کا ظن غالب ہوتو تیمم کر سکتا ہے عمرو ابن العاص یذکر ان عمر ابن العاص اجنب فی لیلة باردة فتیمم وتلا ولاتقلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما فذکرذلک للنبی ۖ فلم یعنف (بخاری شریف ، باب اذا خاف الجنب علی نفسہ المرض او الموت او خاف العطش یتیمم، ج اول، ص ٤٩،نمبر٣٤٥)معلوم ہوا کہ سردی سے مرض بڑھنے کا خوف ہو یا بیمار ہونے کا خوف ہو تو تیمم کر سکتا ہے۔ (٥) اس حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ سردی کا خطرہ ہو تو تیمم کر سکتا ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔عن عمر و ابن العاص قال : احتلمت فی لیلة باردة فی غزوة ذات السلاسل ، فاشفقت أن أغتسل فأ ھلک فتیممت ثم صلیت بأصحابی الصبح ، فذکرو ا ذالک لرسول اللہ ۖ فقال یا عمرو ! صلیت بأصحابک و أنت جنب ؟ فأخبرتہ بالذی منعنی من الاغتسال و قلت انی سمعت اللہ یقول : و لا تقتلوا أنفسکم ان اللہ کان