Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

194 - 627
طھورالمسلم و لو الی عشر حجج ما لم یجد المائ٣ و المیل ھو المختار فی المقدار لانہ یلحقہ الحرج بدخول المصر و الماء معدوم حقیقة ٤  والمعتبرالمسافة دون خوف الفوت لان التفریط یأتی من قبلہ۔
 
ۖ قال : الصعید الطیب طھور ما لم یوجد الماء و لو الی عشر حجج ، فاذا وجدت الماء فأمسہ بشرتک ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١  الرجل یجنب و لیس یقدر علی الماء ، ج اول ، ص ١٤٤ نمبر ١٦٦١) اس حدیث میں دس سال تک تیمم کر نے کی گنجائش ہے ۔
ترجمہ :  ٣   اور میل ہی کا اعتبار ہے مقدار میں اسلئے کہ شہر میں داخل ہونے میں اس کو حرج لازم ہو گا ، اور پانی تو واقعی موجود نہیں ہے ۔
تشریح :  پانی کتنی دوری پر ہو تو آدمی تیمم کر سکتا ہے اس بارے میں ائمہ کے کئی اقوال ہیں ، ہمارے نزدیک مختار قول یہی ہے کہ ایک میل دور ہو تو تیمم کر سکتا ہے ، کیونکہ آیت فلم تجدو ا مائ، کے مطابق پانی واقعی موجود نہیں ہے اور ایک میل دور سے شہر جائے  اس میں حرج ہے اور آیت میں ہے کہ دین کے بارے میں امت پر حرج نہیں کیا یہ آیت گزر چکی ہے ۔ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھر کم و لیتم نعمتہ علیکم لعلکم تشکرون ۔ (آیت ٦ سورة المائدة ٥) اور ایک میل جانے میں حرج ہے اسلئے تیمم کرے ۔
کیونکہ ایک میل سے کم فاصلہ ہو تو گویا کہ وہ پانی کے پاس ہے۔ کیونکہ پندرہ منٹ میں پانی لیکر آ جائیگااس لئے کوئی حرج نہیں ہوگا۔ ایک میل دور ہونے کی دلیل ابن عمر کا اثر ہے۔ عن نافع یتیمم ابن عمر علی رأس میل او میلین من المدینة فصلی العصر فقدم والشمس مرتفعة۔(دار قطنی ،باب فی بیان الموضع الذی یجوز التیمم فیہ وقدرہ من البلد وطلب الماء ج اول ص ١٩٥ نمبر ٧٠٩)بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ ابن عمر نے مربد الغنم میں تیمم کیا اور نماز پڑھی ۔و أقبل ابن عمر من أرضہ بالجرف فحضرت العصر بمربد الغنم فصلی ثم دخل المدینة و الشمس مرتفعة فلم یعد ۔ (بخاری شریف، باب التیمم فی الحضر اذا لم یجد الماء ،ج اول، ص٤٨،نمبر ٣٣٧ )اور مربد کے بارے میں دار قطنی میں ہے کہ وہ مدینہ سے تین میل پر ہے۔ ان ابن عمر تیمم بمربد النعم وصلی وھو علی ثلثة امیال من المدینة (دار قطنی ،باب فی بیان الموضع الذی یجوز التیمم فیہ ج اول ض ١٩٥ نمبر ٧٠٧)ان آثارمیں اگر چہ دو میل اور تین میل کا تذکرہ ہے لیکن احتیاط کے طور پر صرف ایک میل پر تیمم کی اجازت دی گئی کیونکہ اس میں بھی حرج ہے ۔
ترجمہ :  ٤  اور معتبر ایک میل کی مسافت ہے نماز کے فوت ہو نے کا اعتبار نہیں ، اسلئے کہ تفریط خود اسکی جانب  سے آئی ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter