طھورالمسلم و لو الی عشر حجج ما لم یجد المائ٣ و المیل ھو المختار فی المقدار لانہ یلحقہ الحرج بدخول المصر و الماء معدوم حقیقة ٤ والمعتبرالمسافة دون خوف الفوت لان التفریط یأتی من قبلہ۔
ۖ قال : الصعید الطیب طھور ما لم یوجد الماء و لو الی عشر حجج ، فاذا وجدت الماء فأمسہ بشرتک ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ الرجل یجنب و لیس یقدر علی الماء ، ج اول ، ص ١٤٤ نمبر ١٦٦١) اس حدیث میں دس سال تک تیمم کر نے کی گنجائش ہے ۔
ترجمہ : ٣ اور میل ہی کا اعتبار ہے مقدار میں اسلئے کہ شہر میں داخل ہونے میں اس کو حرج لازم ہو گا ، اور پانی تو واقعی موجود نہیں ہے ۔
تشریح : پانی کتنی دوری پر ہو تو آدمی تیمم کر سکتا ہے اس بارے میں ائمہ کے کئی اقوال ہیں ، ہمارے نزدیک مختار قول یہی ہے کہ ایک میل دور ہو تو تیمم کر سکتا ہے ، کیونکہ آیت فلم تجدو ا مائ، کے مطابق پانی واقعی موجود نہیں ہے اور ایک میل دور سے شہر جائے اس میں حرج ہے اور آیت میں ہے کہ دین کے بارے میں امت پر حرج نہیں کیا یہ آیت گزر چکی ہے ۔ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھر کم و لیتم نعمتہ علیکم لعلکم تشکرون ۔ (آیت ٦ سورة المائدة ٥) اور ایک میل جانے میں حرج ہے اسلئے تیمم کرے ۔
کیونکہ ایک میل سے کم فاصلہ ہو تو گویا کہ وہ پانی کے پاس ہے۔ کیونکہ پندرہ منٹ میں پانی لیکر آ جائیگااس لئے کوئی حرج نہیں ہوگا۔ ایک میل دور ہونے کی دلیل ابن عمر کا اثر ہے۔ عن نافع یتیمم ابن عمر علی رأس میل او میلین من المدینة فصلی العصر فقدم والشمس مرتفعة۔(دار قطنی ،باب فی بیان الموضع الذی یجوز التیمم فیہ وقدرہ من البلد وطلب الماء ج اول ص ١٩٥ نمبر ٧٠٩)بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ ابن عمر نے مربد الغنم میں تیمم کیا اور نماز پڑھی ۔و أقبل ابن عمر من أرضہ بالجرف فحضرت العصر بمربد الغنم فصلی ثم دخل المدینة و الشمس مرتفعة فلم یعد ۔ (بخاری شریف، باب التیمم فی الحضر اذا لم یجد الماء ،ج اول، ص٤٨،نمبر ٣٣٧ )اور مربد کے بارے میں دار قطنی میں ہے کہ وہ مدینہ سے تین میل پر ہے۔ ان ابن عمر تیمم بمربد النعم وصلی وھو علی ثلثة امیال من المدینة (دار قطنی ،باب فی بیان الموضع الذی یجوز التیمم فیہ ج اول ض ١٩٥ نمبر ٧٠٧)ان آثارمیں اگر چہ دو میل اور تین میل کا تذکرہ ہے لیکن احتیاط کے طور پر صرف ایک میل پر تیمم کی اجازت دی گئی کیونکہ اس میں بھی حرج ہے ۔
ترجمہ : ٤ اور معتبر ایک میل کی مسافت ہے نماز کے فوت ہو نے کا اعتبار نہیں ، اسلئے کہ تفریط خود اسکی جانب سے آئی ہے ۔