Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

191 - 627
 ٨ وان  غیرتہ النارفمادام حلوا فھو علی الخلاف و ان اشتد فعند ابی حنیفة  یجوز التوضی بہ لانہ یحل شربہ عندہ، ٩  وعند محمد  لا یتوضأ بہ لحرمة شربہ عندہ 

اس سے وضو جائز نہیں ۔
 وجہ :   عرب کا پانی کھارا ہو تا تھا اسلئے اس میں کھجور ڈال دیتے تھے  اور کچھ دیر کے لئے چھوڑ دیتے تھے تا کہ پانی میٹھا ہو جائے اسی کو نبیذکہتے ہیں اگر یہ پانی کی طرح پتلا ہے تو اس سے وضو کرنے میں اختلاف ہے ۔ اور اگر گاڑھا ہو گیا تو اس سے بالاتفاق وضو جائز نہیں ۔ تا ہم اگر نشہ نہ پیدا ہوا ہو تو اسکا پینا جائز ہو گا ، اور اگر نشہ پیدا ہو چکا ہو تو اب پینا بھی جائز نہیں ہے ۔ ہر ایک کی دلیل یہ ہے ۔   نبیذ پتلی ہو اسکا استدلال اس حدیث سے ہے۔ عن عبداللہ بن الدیلمی عن ابیہ قال اتینا النبی  ۖ .....قالنا ما نصنع بالزبیب ؟ قال : انبذوہ علی غدائکم و اشربوہ علی عشائکم ، و انبذوہ عشائکم و اشربوہ علی غدائکم ۔ ( ابو داود شریف ، باب فی صفة النبیذ ، ص ٥٣١ نمبر ٣٧١٠  تر مذی شریف ، باب ما جاء فی الانتباذ فی السقاء ص ٤٣٩ نمبر ١٨٧١) جب کھجور صبح  پانی میں ڈالے اور شام کو پی لے تو نبیذ پتلی ہی ہو گی ۔اور گاڑھی ہو نے کے بعد شوربے کی طرح ہو گئی اسلئے اس سے وضو کرنا جائز نہیں ۔ اور اگر اس میں نشہ آگیا ہو تو اسکا پینا بھی حرام ہے ۔ اس حدیث میں ہے عن ابی ھریرة قال علمت ان رسول اللہ  ۖ کان یصوم فتحینت فطرہ بنبیذ صنعتہ فی دباء ثم أتیتہ بہ فاذا ھو ینش ، فقال اضرب بھذا الحائط فان ھذا شراب من لا یومن باللہو الیم الآخر ۔ (ابو داود شریف ، باب فی النبیذ اذا غلا ، ص ٥٣٢ نمبر ٣٧١٦) اس حدیث میں ہے کہ نشہ آجائے تو اسکا پینا بھی حرام ہے ۔ 
ترجمہ :  ٨  اور اگر آگ میں پک کر بدل گئی تو جب تک میٹھی ہے تواسی اختلاف پر ہے اور اگر گاڑھی ہو گئی پھر بھی امام ابو حنیفہ  کے نزدیک اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ انکے نزدیک اسکا پینا جائز ہے ،
تشریح :  اگر نبیذ کو آگ میں پکا لی گئی لیکن جب تک میٹی ہے اور پتلی ہے کہ عضو پر بہتی ہے تو اسی اختلاف پر ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے اور امام ابو یوسف  کے نزدیک تیمم کرے ۔اور اگر پکانے کی وجہ سے گاڑھی ہو گئی لیکن نشہ نہیں ہوا تو امام ابو حنیفہ  کے نزدیک وضو جائز ہے اسلئے کہ اسکا پینا حلال ہے ۔ اور جب پینا حلال ہے تو وضو بھی جائز ہے ۔
ترجمہ :  ٩   اور امام محمد  کے نزدیک اس سے وضو نہیں کیا جائے گاپینے کی حرمت کی وجہ سے  ان کے نزدیک۔
تشریح :   نبیذ پکا دی گئی اور گاڑھی ہوگئی تو امام محمد  کے نزدیک اسکا پینا حرام ہے اسلئے اس سے وضو بھی جائز نہیں ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ گاڑھی ہو نے کے بعد اس میں نشہ آنا شروع ہو جاتا ہے اسلئے اسکو حرام ہی پر محمول کریں تا کہ لوگ اس سے بچیں ۔وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں  ۔عن ابن عباس قال : کان ینبذ للنبی  ۖ الزبیب فیشربہ الیوم و الغد و بعد 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter