٨ وان غیرتہ النارفمادام حلوا فھو علی الخلاف و ان اشتد فعند ابی حنیفة یجوز التوضی بہ لانہ یحل شربہ عندہ، ٩ وعند محمد لا یتوضأ بہ لحرمة شربہ عندہ
اس سے وضو جائز نہیں ۔
وجہ : عرب کا پانی کھارا ہو تا تھا اسلئے اس میں کھجور ڈال دیتے تھے اور کچھ دیر کے لئے چھوڑ دیتے تھے تا کہ پانی میٹھا ہو جائے اسی کو نبیذکہتے ہیں اگر یہ پانی کی طرح پتلا ہے تو اس سے وضو کرنے میں اختلاف ہے ۔ اور اگر گاڑھا ہو گیا تو اس سے بالاتفاق وضو جائز نہیں ۔ تا ہم اگر نشہ نہ پیدا ہوا ہو تو اسکا پینا جائز ہو گا ، اور اگر نشہ پیدا ہو چکا ہو تو اب پینا بھی جائز نہیں ہے ۔ ہر ایک کی دلیل یہ ہے ۔ نبیذ پتلی ہو اسکا استدلال اس حدیث سے ہے۔ عن عبداللہ بن الدیلمی عن ابیہ قال اتینا النبی ۖ .....قالنا ما نصنع بالزبیب ؟ قال : انبذوہ علی غدائکم و اشربوہ علی عشائکم ، و انبذوہ عشائکم و اشربوہ علی غدائکم ۔ ( ابو داود شریف ، باب فی صفة النبیذ ، ص ٥٣١ نمبر ٣٧١٠ تر مذی شریف ، باب ما جاء فی الانتباذ فی السقاء ص ٤٣٩ نمبر ١٨٧١) جب کھجور صبح پانی میں ڈالے اور شام کو پی لے تو نبیذ پتلی ہی ہو گی ۔اور گاڑھی ہو نے کے بعد شوربے کی طرح ہو گئی اسلئے اس سے وضو کرنا جائز نہیں ۔ اور اگر اس میں نشہ آگیا ہو تو اسکا پینا بھی حرام ہے ۔ اس حدیث میں ہے عن ابی ھریرة قال علمت ان رسول اللہ ۖ کان یصوم فتحینت فطرہ بنبیذ صنعتہ فی دباء ثم أتیتہ بہ فاذا ھو ینش ، فقال اضرب بھذا الحائط فان ھذا شراب من لا یومن باللہو الیم الآخر ۔ (ابو داود شریف ، باب فی النبیذ اذا غلا ، ص ٥٣٢ نمبر ٣٧١٦) اس حدیث میں ہے کہ نشہ آجائے تو اسکا پینا بھی حرام ہے ۔
ترجمہ : ٨ اور اگر آگ میں پک کر بدل گئی تو جب تک میٹھی ہے تواسی اختلاف پر ہے اور اگر گاڑھی ہو گئی پھر بھی امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ انکے نزدیک اسکا پینا جائز ہے ،
تشریح : اگر نبیذ کو آگ میں پکا لی گئی لیکن جب تک میٹی ہے اور پتلی ہے کہ عضو پر بہتی ہے تو اسی اختلاف پر ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک تیمم کرے ۔اور اگر پکانے کی وجہ سے گاڑھی ہو گئی لیکن نشہ نہیں ہوا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک وضو جائز ہے اسلئے کہ اسکا پینا حلال ہے ۔ اور جب پینا حلال ہے تو وضو بھی جائز ہے ۔
ترجمہ : ٩ اور امام محمد کے نزدیک اس سے وضو نہیں کیا جائے گاپینے کی حرمت کی وجہ سے ان کے نزدیک۔
تشریح : نبیذ پکا دی گئی اور گاڑھی ہوگئی تو امام محمد کے نزدیک اسکا پینا حرام ہے اسلئے اس سے وضو بھی جائز نہیں ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ گاڑھی ہو نے کے بعد اس میں نشہ آنا شروع ہو جاتا ہے اسلئے اسکو حرام ہی پر محمول کریں تا کہ لوگ اس سے بچیں ۔وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں ۔عن ابن عباس قال : کان ینبذ للنبی ۖ الزبیب فیشربہ الیوم و الغد و بعد