٥ و الحدیث مشھور عملت بہ الصحابة و بمثلہ یزاد علی الکتاب، ٦ واما الاغتسال بہ فقد قیل یجوز عندہ اعتبارا ً بالوضوئ، و قیل لا یجوز لانہ فوقہ ٧ والنبیذ المختلف فیہ ان یکون حلو ا رقیقا ً یسیل علی الاعضاء کالمائ، و ما اشتد منھا صار حراما لا یجوز التوضی بہ
(٥) اس واقعے میں حضرت بن العوام حضور ۖ کے ساتھ ہیں ۔ اور مدینہ طیبہ میں ارض براز یعنی کھلی جگہ میں پیش آیا ۔ اس میں بھی نبیذ کا تذکرہ نہیں ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔ حدثنی الزبیر بن العوام قال : صلی بنا رسول اللہ ۖ صلاة الصبح فی مسجدالمدینة فلما انصرف قال ایکم یتبعنی الی وفد الجن اللیلةفاسکت القوم ثلاثا ، فمر بی فأخذ بیدی ۔(نصب الرایة ، فصل فی الآسار و غیرھا ، ج اول ، ص ١٩٩ )
ترجمہ : ٥ حدیث نبیذ مشہور ہے ، اور اس پر صحابہ نے بھی عمل کیا ہے اسلئے اس جیسی حدیث سے کتاب اللہ پرزیاتی کی جا سکتی ہے ۔
تشریح : یہاں دو باتیں ہیں ایک تو یہ کہ حدیث تمر مشہور ہے اسلئے اسکی وجہ سے پانی نہ ہونے پر وضو کر سکتا ہے ۔مشہور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث صحاح ستہ کے ان کتابوں میں ہے ۔(١) ابو داود شریف نمبر ٨٤ (٢) ترمذی شریف نمبر٨٨ (٣) ابن ماجہ شریف نمبر ٣٨٤(٤)مسنداحمد نمبر ٣٨٠٠۔ اسلئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ حدیث مشہور ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ خود صحابہ نے بھی اس حدیث پر عمل فرمایا ہے ، چنانچہ حضرت علی سے یہ منقول ہے عن علی قال : کان لا یری بأسا بالوضوء من النبیذ ۔ ( دار قطنی ،باب الوضوء بالنبیذ ،ج اول ، ص ٨١ ، نمبر ٢٥٠ مصنف ابن ابی شیبة ،٢٦ فی الوضوء بالنبیذ ، ج اول ، ص ٣٢ ، نمبر ٢٦٤ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ صحابہ نے بھی اس حدیث پر عمل فرمایا ۔ اسلئے نبیذ سے وضو کر نا جائز ہو گا ۔
ترجمہ : ٦ بہر حال نبیذ سے غسل کرنا تو بعض حضرات نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے وضو پر قیاس کر تے ہوئے ، اور بعض نے فرمایا کہ جائز نہیں ہے اسلئے کہ غسل وضو سے اوپر ہے ۔
وجہ: ۔ نبیذ سے غسل جائز ہے یا نہیں۔ اس بارے میں بعض حضرات نے فر مایا کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے ۔ کیونکہ جب اس سے وضو جائز ہے تو غسل بھی جائز ہو گا ، کیونکہ دونوں میں طھارت مطلوب ہے ۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ غسل وضو سے اوپر کا درجہ ہے اور کبھی کبھی پیش آتا ہے ۔اس اثر میں بھی ہے کہ اس سے غسل نہ کرے ۔ سألت أبا العالیة عن رجل أصابتہ جنایة ، و لیس عندہ ماء و عندہ نبیذ ، أیغتسل بہ ؟ قال : لا ۔( ابو داود شریف ، باب الوضوء بالنبیذ ، ص ١٣ نمبر ٨٧ مصنف ابن ابی شیبة ، ٢٦ فی الوضوء بالنبیذ ، ج اول ، ص ٣٢ نمبر ٢٦٦ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ نبیذ سے غسل نہ کرے ۔
ترجمہ : ٧ اور وہ نبیذ جس میں اختلاف ہے یہ کہ میٹھی ہو ، پتلی ہو ، عضو پرپانی کی طرح بہتی ہو ، اور جو گاڑھی ہو گئی وہ حرام ہو گئی ،