Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

190 - 627
٥  و الحدیث مشھور عملت بہ الصحابة و بمثلہ یزاد علی الکتاب،  ٦ واما الاغتسال بہ فقد قیل یجوز عندہ اعتبارا ً بالوضوئ، و قیل  لا یجوز لانہ فوقہ ٧ والنبیذ المختلف فیہ ان یکون حلو ا رقیقا ً یسیل علی الاعضاء کالمائ،  و ما اشتد منھا صار حراما لا یجوز التوضی بہ

(٥)  اس واقعے میں حضرت بن العوام حضور ۖ کے ساتھ ہیں ۔ اور مدینہ طیبہ میں ارض براز یعنی کھلی جگہ میں پیش آیا ۔ اس میں بھی نبیذ کا تذکرہ نہیں ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔ حدثنی الزبیر بن العوام قال : صلی بنا رسول اللہ  ۖ صلاة الصبح فی مسجدالمدینة  فلما انصرف قال ایکم یتبعنی الی وفد الجن اللیلةفاسکت القوم ثلاثا ، فمر بی فأخذ بیدی ۔(نصب الرایة ، فصل فی الآسار و غیرھا ، ج اول ، ص ١٩٩ )  
ترجمہ :  ٥  حدیث نبیذ مشہور ہے ، اور اس پر صحابہ  نے بھی عمل کیا ہے اسلئے اس جیسی حدیث سے کتاب اللہ پرزیاتی کی جا سکتی ہے ۔
تشریح :   یہاں دو باتیں ہیں ایک تو یہ کہ حدیث تمر مشہور ہے اسلئے اسکی وجہ سے پانی نہ ہونے پر  وضو کر سکتا ہے ۔مشہور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث صحاح ستہ کے ان کتابوں میں ہے ۔(١) ابو داود شریف نمبر ٨٤ (٢) ترمذی شریف نمبر٨٨ (٣) ابن ماجہ شریف نمبر ٣٨٤(٤)مسنداحمد نمبر ٣٨٠٠۔ اسلئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ حدیث مشہور ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ خود صحابہ نے بھی اس حدیث پر عمل فرمایا ہے ، چنانچہ حضرت علی  سے یہ منقول ہے عن علی  قال : کان لا یری بأسا بالوضوء من النبیذ ۔ ( دار قطنی ،باب الوضوء بالنبیذ ،ج اول ، ص ٨١ ، نمبر ٢٥٠  مصنف ابن ابی شیبة ،٢٦ فی الوضوء بالنبیذ ، ج اول ، ص ٣٢ ، نمبر ٢٦٤ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ صحابہ نے بھی اس حدیث پر عمل فرمایا ۔ اسلئے نبیذ سے وضو کر نا جائز ہو گا ۔ 
ترجمہ :  ٦  بہر حال نبیذ سے غسل کرنا تو بعض حضرات نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ  کے نزدیک جائز ہے وضو پر قیاس کر تے ہوئے ، اور بعض نے فرمایا کہ جائز نہیں ہے اسلئے کہ غسل وضو سے اوپر ہے ۔
وجہ: ۔ نبیذ سے غسل جائز ہے یا نہیں۔ اس بارے میں بعض حضرات نے فر مایا کہ امام ابو حنیفہ  کے نزدیک جائز ہے ۔ کیونکہ جب اس سے وضو جائز ہے تو غسل بھی جائز ہو گا ، کیونکہ دونوں میں طھارت مطلوب ہے ۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ غسل وضو سے اوپر کا درجہ ہے اور کبھی کبھی پیش آتا ہے ۔اس اثر میں بھی ہے کہ اس سے غسل نہ کرے ۔ سألت أبا العالیة عن رجل أصابتہ جنایة ، و لیس عندہ ماء و عندہ نبیذ ، أیغتسل بہ ؟ قال : لا ۔( ابو داود شریف ، باب الوضوء بالنبیذ ، ص ١٣ نمبر ٨٧  مصنف ابن ابی شیبة ، ٢٦ فی الوضوء بالنبیذ ، ج اول ، ص ٣٢ نمبر ٢٦٦ )  اس اثر سے معلوم ہوا کہ نبیذ سے غسل نہ کرے ۔
ترجمہ :  ٧   اور وہ نبیذ جس میں اختلاف ہے یہ کہ میٹھی ہو ، پتلی ہو ، عضو پرپانی کی طرح بہتی ہو ، اور جو گاڑھی ہو گئی وہ حرام ہو گئی ، 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter