Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

189 - 627
تصریح ہے کہ وہ مکی ہے ۔ یہاں سے اسکا جواب دے رہے ہیں کہ لیلة الجن کا واقعہ مدینے میں بھی پیش آیا ہے کیونکہ حدیث کو دیکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ واقعہ چھ مرتبہ پیش آیا ہے ۔ اسلئے ہو سکتا ہے کہ آیت تیمم جو مدنی ہے اسکے بعد مدینے میں لیلة الجن کا واقعہ پیش آیا ہو اور آیت تیمم کے بعد نبیذ سے وضو کر نے کی اجازت ہوئی ہو ۔ اسلئے امام ابو یوسف کا منسوخ ہو نے کا دعوی صحیح نہیں ہے ۔
 (واقعات جن یہ ہیں )
(١)  یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا جس میں حضرت عبد اللہ بن مسعود حضور ۖ کے ساتھ نہیں تھے ۔ اور نبیذ کا مسئلہ بھی پیش نہیں آیا۔ حدیث یہ ہے ۔   فقال علقمة أنا سألت ابن مسعوفقلت ھل شھد احد منکم مع رسول اللہ  ۖ لیلة الجن ؟ قال : لا و لکنا کنا مع رسول اللہ ذات لیلة ففقدناہ .....فلما أصبحنا اذ  ھو جاء من قبل حرائ.....أتانی داعی الجن فذھبت معہ ۔الخ (مسلم شریف ، باب الجھر بالقرا ء ة فی الصبح و القراء ة علی الجن ، ص ١٨٤ نمبر ٤٥٠  ١٠٠٧ ) اس حدیث میں نبیذ تمر کا تذکرہ نہیں ہے۔
(٢) یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا ، اور حضرت عبد اللہ  بن مسعود حضور ۖ کے ساتھ تھے اور نبیذ کا مسئلہ بھی پیش آیا ۔حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن مسعود قال : بینما نحن مع رسول اللہ  ۖ بمکة و ھو فی نفر من اصحابہ اذ قال .....فقال رسول اللہ  ۖ تمرة طیبة و ماء طھور ۔الخ ۔( مسند احمد ،مسند عبد اللہ بن مسعود ، ج  ثانی ، ص ٤٤ نمبر ٤٣٦٨ )  
(٣) یہ واقعہ بھی مکہ مکرمہ میں مقام نخلہ کے پاس پیش آیا جس میں سورہ جن نازل ہوئی اور نبیذ کا مسئلہ پیش نہیں آیا  ۔ اس میں کچھ صحابہ آپکے ساتھ ہیں ۔ حدیث کی روایت حضرت ابن عباس  سے ہے ۔   عن ابن عباس  قال انطلق النبی  ۖ فی طائفة من اصحابہ عامدین الی سوق عکاظ و قد حیل بین الشیاطین و بین خبر السماء ، ....فانصرف أولیک الذین توجھوا نحو تھامة الی النبی  ۖ وھو بنخلة عامدین الی سوق عکاظ و ھو یصلی بأصحابہ صلاة الفجر ۔( بخاری شریف ، باب الجھر بقراء ة صلاة الصبح ، ص ١٠١ نمبر ٧٧٣  مسلم شریف ، باب الجھر بالقراء ةفی الصبح و القرء ة علی الجن ،ص ١٨٤ نمبر ٤٤٩  ١٠٠٦  ) 
(٤) یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں بقیع الغرقد کے پاس پیش آیا  اس میں عبد اللہ بن مسعود حضور ۖ کے ساتھ تھے ، اور نبیذ کا تذکرہ نہیں ہے  ۔ حدیث یہ ہے ۔ أتیت عبد اللہ  بن مسعود ...قال ان اھل الصفة أخذ کل رجل منھم رجلا یعشیہ الا انا ....فخرج رسول اللہ  ۖ ...فانطلقنا حتی أتینا بقیع الغرقد فخط بعصاہ خطة ۔( کتاب دلائل النبوة لابی نعیم  ۔نصب الرایة فصل فی الآثار) 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter