تصریح ہے کہ وہ مکی ہے ۔ یہاں سے اسکا جواب دے رہے ہیں کہ لیلة الجن کا واقعہ مدینے میں بھی پیش آیا ہے کیونکہ حدیث کو دیکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ واقعہ چھ مرتبہ پیش آیا ہے ۔ اسلئے ہو سکتا ہے کہ آیت تیمم جو مدنی ہے اسکے بعد مدینے میں لیلة الجن کا واقعہ پیش آیا ہو اور آیت تیمم کے بعد نبیذ سے وضو کر نے کی اجازت ہوئی ہو ۔ اسلئے امام ابو یوسف کا منسوخ ہو نے کا دعوی صحیح نہیں ہے ۔
(واقعات جن یہ ہیں )
(١) یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا جس میں حضرت عبد اللہ بن مسعود حضور ۖ کے ساتھ نہیں تھے ۔ اور نبیذ کا مسئلہ بھی پیش نہیں آیا۔ حدیث یہ ہے ۔ فقال علقمة أنا سألت ابن مسعوفقلت ھل شھد احد منکم مع رسول اللہ ۖ لیلة الجن ؟ قال : لا و لکنا کنا مع رسول اللہ ذات لیلة ففقدناہ .....فلما أصبحنا اذ ھو جاء من قبل حرائ.....أتانی داعی الجن فذھبت معہ ۔الخ (مسلم شریف ، باب الجھر بالقرا ء ة فی الصبح و القراء ة علی الجن ، ص ١٨٤ نمبر ٤٥٠ ١٠٠٧ ) اس حدیث میں نبیذ تمر کا تذکرہ نہیں ہے۔
(٢) یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا ، اور حضرت عبد اللہ بن مسعود حضور ۖ کے ساتھ تھے اور نبیذ کا مسئلہ بھی پیش آیا ۔حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن مسعود قال : بینما نحن مع رسول اللہ ۖ بمکة و ھو فی نفر من اصحابہ اذ قال .....فقال رسول اللہ ۖ تمرة طیبة و ماء طھور ۔الخ ۔( مسند احمد ،مسند عبد اللہ بن مسعود ، ج ثانی ، ص ٤٤ نمبر ٤٣٦٨ )
(٣) یہ واقعہ بھی مکہ مکرمہ میں مقام نخلہ کے پاس پیش آیا جس میں سورہ جن نازل ہوئی اور نبیذ کا مسئلہ پیش نہیں آیا ۔ اس میں کچھ صحابہ آپکے ساتھ ہیں ۔ حدیث کی روایت حضرت ابن عباس سے ہے ۔ عن ابن عباس قال انطلق النبی ۖ فی طائفة من اصحابہ عامدین الی سوق عکاظ و قد حیل بین الشیاطین و بین خبر السماء ، ....فانصرف أولیک الذین توجھوا نحو تھامة الی النبی ۖ وھو بنخلة عامدین الی سوق عکاظ و ھو یصلی بأصحابہ صلاة الفجر ۔( بخاری شریف ، باب الجھر بقراء ة صلاة الصبح ، ص ١٠١ نمبر ٧٧٣ مسلم شریف ، باب الجھر بالقراء ةفی الصبح و القرء ة علی الجن ،ص ١٨٤ نمبر ٤٤٩ ١٠٠٦ )
(٤) یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں بقیع الغرقد کے پاس پیش آیا اس میں عبد اللہ بن مسعود حضور ۖ کے ساتھ تھے ، اور نبیذ کا تذکرہ نہیں ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔ أتیت عبد اللہ بن مسعود ...قال ان اھل الصفة أخذ کل رجل منھم رجلا یعشیہ الا انا ....فخرج رسول اللہ ۖ ...فانطلقنا حتی أتینا بقیع الغرقد فخط بعصاہ خطة ۔( کتاب دلائل النبوة لابی نعیم ۔نصب الرایة فصل فی الآثار)