Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

188 - 627
٣  وقال محمد یتوضأ بہ و یتیمم لان فی الحدیث اضطرابا و فی التاریخ جھالة فوجب الجمع احتیاطا ٤ قلنا لیلة الجن کانت غیر واحد ة فلا یصح دعوی النسخ

وجہ:   اور اسکی دو وجہ بیان فرماتے ہیں (١) ایک تو یہ کہ آیت تیمم آیت ہے اسلئے وہ حدیث سے زیادہ مضبوط ہے ، اور آیت  میں یہ ہے کہ پانی نہ ملے تو تیمم کرو ۔ فلم تجدوا ماء فتیمموا  صعیدا ً طیباً ۔ ( آیت ٦ ، سورة المائدة مدنیة ٥ )  اور یہاں تو مطلق پانی نہیں ہے ، نبیذ تمر ہے اسلئے تیمم کر نا چاہئے ۔خصو صا جب حدیث میں اضطراب ہو تو آیت کے مقابلے میں حدیث اور بھی کمزور ہو جاتی ہے اسلئے اسکو تیمم کر نا چاہئے ۔(٢)  اور دوسری دلیل یہ ہے کہ یت تیمم مدنی ہے اور حدیث مکی ہے اسلئے ممکن ہے کہ حدیث آیت کی وجہ سے منسوخ ہو چکی ہو  ۔ حدیث مکی ہے اسکی تصریح اس طرح ہے ۔سألت علقمة ھل کان ابن مسعود شھد مع رسول اللہ  ۖ لیلة لجن؟ قال فقال علقمة أنا سألت ابن مسعود وقلت ھل شھد احد منکم مع رسول اللہ  ۖ لیلة الجن ؟ قال : لا و لکنا کنا مع رسول اللہ ذات لیلة ففقدناہ .....فلما أصبحنا اذ  ھو جاء من قبل حرائ،الخ ۔ (مسلم شریف ، باب الجھر بالقرا ء ة فی الصبح و القراء ة علی الجن ، ص ١٨٤ نمبر ٤٥٠  ١٠٠٧ )اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ حراء کی جانب سے تشریف لائے جو مکہ مکر مہ میں ہے جس سے معلوم ہوا کہ حدیث مکی ہے ۔ مسند احمد میں تصریح ہے کہ یہ واقعہ مکہ مکر مہ میں  پیش آیا ۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے عن عبد اللہ بن مسعود قال : بینما نحن مع رسول اللہ  ۖ بمکة و ھو فی نفر من اصحابہ اذ قال ۔الخ ۔( مسند احمد ،مسند عبد اللہ بن مسعود ، ج  ثانی ، ص ٤٤ نمبر ٤٣٦٨ ) اس حدیث میں بھی مکہ مکرمہ کی تصریح ہے اسلئے حدیث مکی ہے اور آیت سے منسوخ ہو سکتی ہے۔(٣)اثر میں ہے کہ نبیذ سے وضو کر نا مکروہ ہے ۔ اثر یہ ہے ۔عن عطاء قال : انہ کرہ الوضوء باللبن و النبیذ ، و قال ان التیمم أعجب الی منہ ۔( ابو داود شریف ، باب الوضوء بالنبیذ ، ص ١٣ ،نمبر ٨٦  مصنف عبد الرزاق ، باب الوضوء بالنبیذ ، ج اول ، ص ١٧٩ نمبر ٦٩٤ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ نبیذ سے وضو کر نا اچھا نہیں ہے ۔
ترجمہ :  ٣   اور امام محمد  نے فر مایا نبیذ تمر سے وضو کرے اور تیمم بھی کرے ۔ اسلئے کہ حدیث میں اضطراب ہے اور اور تاریخ میں جہالت ہے اسلئے  احتیاطا دونوں کو جمع کر نا واجب ہے ۔ وجہ ؛ ۔ امام محمد  فرماتے ہیں کہ دونوں کو جمع کرے یعنی نبیذ سے وضو بھی کرے اور تیمم بھی کر لے ۔اسکی وجہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ (١) حدیث میں اضطراب ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ۔(٢) اور دوسری وجہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ لیلة الجن کا واقعہ کب پیش آیا اس میں جہالت ہے اسلئے احتیا طا جمع کرنا بہتر ہے ۔
ترجمہ :  ٤  ہم یہ کہتے ہیں کہ لیلة الجن کا واقعہ کئی مرتبہ پیش آیا ہے اسلئے آیت تیمم  مدنی سے منسوخ ہو نے کا دعوی صحیح نہیں ہے ۔
تشریح :   حضرت امام ابو یوسف نے فرمایا تھا کہ حدیث نبیذ آیت تیمم سے منسوخ ہے کیونکہ آیت تیمم مدنی ہے اور حدیث میں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter