٣ وقال محمد یتوضأ بہ و یتیمم لان فی الحدیث اضطرابا و فی التاریخ جھالة فوجب الجمع احتیاطا ٤ قلنا لیلة الجن کانت غیر واحد ة فلا یصح دعوی النسخ
وجہ: اور اسکی دو وجہ بیان فرماتے ہیں (١) ایک تو یہ کہ آیت تیمم آیت ہے اسلئے وہ حدیث سے زیادہ مضبوط ہے ، اور آیت میں یہ ہے کہ پانی نہ ملے تو تیمم کرو ۔ فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا ً طیباً ۔ ( آیت ٦ ، سورة المائدة مدنیة ٥ ) اور یہاں تو مطلق پانی نہیں ہے ، نبیذ تمر ہے اسلئے تیمم کر نا چاہئے ۔خصو صا جب حدیث میں اضطراب ہو تو آیت کے مقابلے میں حدیث اور بھی کمزور ہو جاتی ہے اسلئے اسکو تیمم کر نا چاہئے ۔(٢) اور دوسری دلیل یہ ہے کہ یت تیمم مدنی ہے اور حدیث مکی ہے اسلئے ممکن ہے کہ حدیث آیت کی وجہ سے منسوخ ہو چکی ہو ۔ حدیث مکی ہے اسکی تصریح اس طرح ہے ۔سألت علقمة ھل کان ابن مسعود شھد مع رسول اللہ ۖ لیلة لجن؟ قال فقال علقمة أنا سألت ابن مسعود وقلت ھل شھد احد منکم مع رسول اللہ ۖ لیلة الجن ؟ قال : لا و لکنا کنا مع رسول اللہ ذات لیلة ففقدناہ .....فلما أصبحنا اذ ھو جاء من قبل حرائ،الخ ۔ (مسلم شریف ، باب الجھر بالقرا ء ة فی الصبح و القراء ة علی الجن ، ص ١٨٤ نمبر ٤٥٠ ١٠٠٧ )اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ حراء کی جانب سے تشریف لائے جو مکہ مکر مہ میں ہے جس سے معلوم ہوا کہ حدیث مکی ہے ۔ مسند احمد میں تصریح ہے کہ یہ واقعہ مکہ مکر مہ میں پیش آیا ۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے عن عبد اللہ بن مسعود قال : بینما نحن مع رسول اللہ ۖ بمکة و ھو فی نفر من اصحابہ اذ قال ۔الخ ۔( مسند احمد ،مسند عبد اللہ بن مسعود ، ج ثانی ، ص ٤٤ نمبر ٤٣٦٨ ) اس حدیث میں بھی مکہ مکرمہ کی تصریح ہے اسلئے حدیث مکی ہے اور آیت سے منسوخ ہو سکتی ہے۔(٣)اثر میں ہے کہ نبیذ سے وضو کر نا مکروہ ہے ۔ اثر یہ ہے ۔عن عطاء قال : انہ کرہ الوضوء باللبن و النبیذ ، و قال ان التیمم أعجب الی منہ ۔( ابو داود شریف ، باب الوضوء بالنبیذ ، ص ١٣ ،نمبر ٨٦ مصنف عبد الرزاق ، باب الوضوء بالنبیذ ، ج اول ، ص ١٧٩ نمبر ٦٩٤ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ نبیذ سے وضو کر نا اچھا نہیں ہے ۔
ترجمہ : ٣ اور امام محمد نے فر مایا نبیذ تمر سے وضو کرے اور تیمم بھی کرے ۔ اسلئے کہ حدیث میں اضطراب ہے اور اور تاریخ میں جہالت ہے اسلئے احتیاطا دونوں کو جمع کر نا واجب ہے ۔ وجہ ؛ ۔ امام محمد فرماتے ہیں کہ دونوں کو جمع کرے یعنی نبیذ سے وضو بھی کرے اور تیمم بھی کر لے ۔اسکی وجہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ (١) حدیث میں اضطراب ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ۔(٢) اور دوسری وجہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ لیلة الجن کا واقعہ کب پیش آیا اس میں جہالت ہے اسلئے احتیا طا جمع کرنا بہتر ہے ۔
ترجمہ : ٤ ہم یہ کہتے ہیں کہ لیلة الجن کا واقعہ کئی مرتبہ پیش آیا ہے اسلئے آیت تیمم مدنی سے منسوخ ہو نے کا دعوی صحیح نہیں ہے ۔
تشریح : حضرت امام ابو یوسف نے فرمایا تھا کہ حدیث نبیذ آیت تیمم سے منسوخ ہے کیونکہ آیت تیمم مدنی ہے اور حدیث میں