٢ وقال ابویوسف یتیمم ولایتوضأبہ، وھو روایة عن ابی حنیفة ، و بہ قال الشافعی عملا بآیة التیمم لانھا اقوی، او ھو منسوخ بھا لانھا مدنیة و لیلة الجنة کانت بمکة
تھے اسلئے امام محمد امام ابو یوسف اور امام شافعی نے فرمایا کہ نبیذ تمر سے وضو نہ کرے ۔امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے
وجہ: (١) لیلة الجن کی حدیث کی بنا پر ، اسلئے کہ حضور ۖ نے نبیذ تمر سے وضو فرمایا ہے جب پانی نہیں پایا ۔ حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن مسعود قال : سألنی رسول اللہ ۖ : ما فی اداوتک ؟ فقلت نبیذ ، فقال : تمرة طیبة و ماء طھور ، قال : فتوضاء منہ ۔( ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الوضوء بالنبیذ ،٢٥ نمبر ٨٨ ) (٢) عن عبد اللہ بن مسعود ان النبی ۖ قال لہ لیلة الجن: ما فی اداوتک ؟ قال نبیذ ۔قال تمرة طیبة و ماء طھور ۔( ابوداود شریف ، باب الوضوء بالنبیذ ، ص ١٣ نمبر ٨٤ ابن ماجة ، باب الوضوء بالنبیذ ، ص ٥٧ نمبر ٣٨٤ مسند احمد شریف ،مسند عبد اللہ بن مسعود ، ج اول ص ٦٦٣ نمبر ٣٨٠٠ ) اس حدیث سے معلوم ہواکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود لیلة الجن میں حضور ۖ کے ساتھ تھے ، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نبیذ تمر سے وضو کر نا جائز ہے ۔ اسی کو امام ابوحنیفة نے لیا ہے ۔(٣) لیکن یہ بھی یاد رہے کہ پانی موجود ہو تو نبیذ سے وضو کر نا جائز نہیں یہ اس وقت جائز ہے جب مطلق پانی موجود نہ ہو ۔ اسکے لئے حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس قال : قال رسول اللہ ۖ : النبیذ وضوء لمن لم یجد الماء ۔( دار قطنی ، باب الوضوء بالنبیذ ، ج اول ، ص ٧٦ نمبر ٢٣١ سنن للبیھقی ، باب منع التطھیر بالنبیذ ، ج اول ، ص ١٩ ، نمبر ٣١ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ تمر سے اس وقت وضو کرے جب مطلق پانی نہ ہو ۔ لیکن دوسری حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت عبدللہ بن مسعود لیلة الجن میں حضور ۖ کے ساتھ نہیں تھے ۔ حدیث یہ ہے سألت علقمة ھل کان ابن مسعود شھد مع رسول اللہ ۖ لیلة لجن؟ قال فقال علقمة أنا سألت ابن مسعود دقلت ھل شھد احد منکم مع رسول اللہ ۖ لیلة الجن ؟ قال : لا و لکنا کنا مع رسول اللہ ذات لیلة ففقدناہ ،الخ ۔ (مسلم شریف ، باب الجھر بالقرا ء ة فی الصبح و القراء ة علی الجن ، ص ١٨٤ نمبر ٤٥٠ ١٠٠٧ ابو داود شریف ، باب الوضوء بالنبیذ ،ص١٣ ، نمبر ٨٥ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لیلة الجن میں حضور ۖ کے ساتھ کو ئی نہیں تھا ۔ اسلئے دونوں حدیثوں میں اضطراب ہو گیا ۔اسلئے امام شافعی امام ابو یوسف اور امام محمد اس بات کے طرف گئے ہیں کہ نبیذ تمر سے وضو نہ کرے ۔
ترجمہ : ٢ اور امام ابو یوسف نے فرمایا کہ تیمم کرے اور اس سے وضو نہ کرے ، یہی ایک روایت امام ابو حنیفہ سے ہے اور یہی امام شافعی نے بھی فرمایا تیمم کی آیت پر عمل کر تے ہوئے ، اسلئے کہ تیمم کی آیت حدیث سے زیادہ قوی ہے ۔ یا حدیث آیت سے منسوخ ہے اسلئے کہ آیت مدنی ہے اور حدیث مکی ہے ۔
تشریح : امام ابو یوسف اور امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کی بھی ایک روایت یہی ہے کہ صرف نبیذ تمر ہو تو اس وقت تیمم کرے اس سے وضو نہ کرے ۔