Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

187 - 627
٢ وقال ابویوسف یتیمم ولایتوضأبہ، وھو روایة عن ابی حنیفة ،  و بہ قال الشافعی  عملا بآیة التیمم لانھا اقوی،  او ھو منسوخ بھا لانھا مدنیة و لیلة الجنة کانت بمکة

تھے اسلئے امام محمد امام ابو یوسف اور امام شافعی  نے فرمایا کہ نبیذ تمر سے وضو نہ کرے  ۔امام ابو حنیفہ کی  دلیل یہ ہے 
وجہ:   (١)   لیلة الجن کی حدیث کی بنا پر ، اسلئے کہ حضور ۖ نے نبیذ تمر سے وضو فرمایا ہے  جب پانی نہیں پایا ۔ حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن مسعود قال : سألنی رسول اللہ  ۖ : ما فی اداوتک ؟ فقلت نبیذ ، فقال : تمرة طیبة و ماء طھور ، قال : فتوضاء منہ ۔( ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الوضوء بالنبیذ ،٢٥ نمبر ٨٨ ) (٢) عن عبد اللہ بن مسعود ان النبی  ۖ قال لہ لیلة الجن: ما فی اداوتک ؟  قال نبیذ ۔قال تمرة طیبة و ماء طھور ۔( ابوداود شریف ، باب الوضوء بالنبیذ ، ص ١٣ نمبر ٨٤ ابن ماجة ، باب الوضوء بالنبیذ ، ص ٥٧ نمبر ٣٨٤  مسند احمد شریف ،مسند عبد اللہ بن مسعود ، ج اول ص ٦٦٣ نمبر ٣٨٠٠ ) اس حدیث سے معلوم ہواکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود  لیلة الجن میں حضور ۖ کے ساتھ تھے ، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نبیذ تمر سے وضو کر نا جائز ہے ۔  اسی کو امام ابوحنیفة  نے لیا ہے ۔(٣) لیکن یہ بھی یاد رہے کہ پانی موجود ہو تو نبیذ سے وضو کر نا جائز نہیں یہ اس وقت جائز ہے جب مطلق پانی موجود نہ ہو ۔ اسکے لئے حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس قال : قال رسول اللہ  ۖ : النبیذ وضوء لمن لم یجد الماء ۔( دار قطنی ، باب الوضوء بالنبیذ ، ج اول ، ص ٧٦ نمبر ٢٣١  سنن للبیھقی ، باب  منع التطھیر بالنبیذ ، ج اول ، ص ١٩ ، نمبر ٣١ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ تمر سے اس وقت وضو کرے جب مطلق پانی نہ ہو ۔ لیکن دوسری حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت عبدللہ بن مسعود  لیلة الجن میں حضور ۖ کے ساتھ نہیں تھے ۔ حدیث یہ ہے سألت علقمة ھل کان ابن مسعود شھد مع رسول اللہ  ۖ لیلة لجن؟ قال فقال علقمة أنا سألت ابن مسعود دقلت ھل شھد احد منکم مع رسول اللہ  ۖ لیلة الجن ؟ قال : لا و لکنا کنا مع رسول اللہ ذات لیلة ففقدناہ ،الخ ۔ (مسلم شریف ، باب الجھر بالقرا ء ة فی الصبح و القراء ة علی الجن ، ص ١٨٤ نمبر ٤٥٠  ١٠٠٧  ابو داود شریف ، باب الوضوء بالنبیذ ،ص١٣ ، نمبر ٨٥ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لیلة الجن میں حضور ۖ کے ساتھ کو ئی نہیں تھا ۔ اسلئے دونوں حدیثوں میں اضطراب ہو گیا ۔اسلئے امام شافعی  امام ابو یوسف اور امام محمد  اس بات کے طرف گئے ہیں کہ نبیذ تمر سے وضو نہ کرے  ۔
ترجمہ :  ٢  اور امام ابو یوسف  نے فرمایا کہ تیمم کرے اور اس سے وضو نہ کرے ، یہی ایک روایت امام ابو حنیفہ  سے ہے اور یہی امام شافعی نے بھی فرمایا تیمم کی آیت پر عمل کر تے ہوئے ، اسلئے کہ تیمم کی آیت حدیث  سے زیادہ قوی ہے ۔ یا حدیث آیت سے منسوخ ہے اسلئے کہ آیت مدنی ہے اور حدیث مکی ہے ۔  
تشریح :  امام ابو یوسف  اور امام شافعی  اور امام ابو حنیفہ  کی بھی ایک روایت یہی ہے کہ  صرف نبیذ تمر ہو تو اس وقت تیمم کرے اس سے وضو نہ کرے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter