Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

186 - 627
٣  وسوء ر الفرس طاھر عندھما لان لحمہ ماکول،  و کذا عندہ فی الصحیح لان الکراھة لاظھار شرفہ(٧٨)  فان لم یجد الانبیذ التمر قال ابوحنیفة یتوضأبہ ولا یتیمم )   ١لحدیث لیلة الجن فان النبی علیہ السلام توضأ بہ حین لم یجد المائ

ترتیب کا ۔
 تشریح :   یعنی دونوں کو کر لینا ہے چاہے جسکومقدم کرے ۔ ترتیب سے کر نا ضروری نہیں ہے 
ترجمہ :  ٣  اور گھوڑا کا جوٹھا پاک ہے صاحبین  کے نزدیک اسلئے کہ اسکا گوشت کھا یا جا سکتا ہے اور یہی روایت امام ابوحنیفة  سے ہے صحیح روایت میں اسلئے کہ کراہیت اسکی فضیلت اور شرف کو ظاہر کر نے کے لئے ہے ۔
وجہ : ۔ صحیح روایت یہ ہے کہ تینوں اماموں کے نزدیک گھوڑے کا جوٹھا پاک ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ اسکا گوشت حلال ہے ۔حدیث یہ ہے ۔ عن جابر بن عبد اللہ قال : نھی النبی  ۖ یوم خیبر عن لحوم الحمر و رخص فی لحوم الخیل ۔( بخاری شریف ، باب لحوم الخیل ،ص ٩٨٣،نمبر ٥٥٢٠مسلم شریف ،نمبر ٥٠٢٢  ابو داود شریف ،باب فی اکل لحوم الخیل ،ص ٥٤٠ نمبر ٣٧٨٨ )  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے اسلئے اسکا جوٹھا پاک ہو نا چاہئے لیکن امام ابوحنیفہ  کی دوسری روایت میں ہے کہ گھوڑے کا جوٹھا مکروہ ہے اسکی وجہ یہ حدیث ہے عن خالد ابن الولید ،أن رسول اللہ  ۖ نھی عن اکل لحوم الخیل و البغال و الحمیر ۔( ابو داؤد شریف ، باب فی أکل لحوم الخیل ، ص ٥٤١ نمبر ٣٧٩٠ ) اس حدیث میں ہے کہ گھوڑے کے گوشت سے منع فرمایا ، جسکا مطلب یہ ہو گا کہ وہ حلال نہیں ہے، اور جب گوشت حلال نہیں ہے تو اسکا جوٹھا بھی مکروہ ہو گا ناپاک نہیں ہو گا کیونکہ گوشت کھانے سے ممانعت اسکی شرف اور فضیلت کی بنا پر ہے کیونکہ وہ جہاد میں کام آتا ہے ۔
ترجمہ :  (٧٨)  پس اگر پانی نہ ملے سو ائے نبیذ تمر کے تو امام ابو حنیفہ  نے فرمایا کہ اس سے وضو کرے اور تیمم نہ کرے ۔
تشریح :  نبیذ کی تین قسمیں ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے ۔( ١) پانی میں کھجور ڈال دے اور اتنی دیر چھوڑ دے کہ اس میں مٹھاس آجائے  اور پانی کی طرح رقت اور سیلان باقی رہے تو اسکو نبیذ تمر کہتے ہیں ۔ اس سے وضو کرنا جائز  ہے یا نہیں اس بارے میں اختلاف ہے ۔ (٢) دوسر ی قسم یہ ہے کہ ۔ اتنا گاڑھی ہو گئی ہے کہ رقت اور سیلان ختم ہو گیا ہو تو بالاتفاق اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے چاہے اسکاپینا جائز ہو   (٣) اور تیسری قسم یہ ہے کہ ۔ اس میں نشہ آگیا ہو تو اسکو پینا بھی جائز نہیں ہے ، شراب کی طرح اسکا پینا حرام ہو گا ۔
 وجہ :    (١)   لیلة الجن کے بارے میں حدیث میں اضطراب ہے کسی حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود لیلة الجن میں حضور ۖ کے ساتھ تھے اسلئے امام ابو حنیفة  نے فرمایا کہ اس سے وضو کرنا جائز ہے ۔ اورکسی حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ نہیں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter