٣ وسوء ر الفرس طاھر عندھما لان لحمہ ماکول، و کذا عندہ فی الصحیح لان الکراھة لاظھار شرفہ(٧٨) فان لم یجد الانبیذ التمر قال ابوحنیفة یتوضأبہ ولا یتیمم ) ١لحدیث لیلة الجن فان النبی علیہ السلام توضأ بہ حین لم یجد المائ
ترتیب کا ۔
تشریح : یعنی دونوں کو کر لینا ہے چاہے جسکومقدم کرے ۔ ترتیب سے کر نا ضروری نہیں ہے
ترجمہ : ٣ اور گھوڑا کا جوٹھا پاک ہے صاحبین کے نزدیک اسلئے کہ اسکا گوشت کھا یا جا سکتا ہے اور یہی روایت امام ابوحنیفة سے ہے صحیح روایت میں اسلئے کہ کراہیت اسکی فضیلت اور شرف کو ظاہر کر نے کے لئے ہے ۔
وجہ : ۔ صحیح روایت یہ ہے کہ تینوں اماموں کے نزدیک گھوڑے کا جوٹھا پاک ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ اسکا گوشت حلال ہے ۔حدیث یہ ہے ۔ عن جابر بن عبد اللہ قال : نھی النبی ۖ یوم خیبر عن لحوم الحمر و رخص فی لحوم الخیل ۔( بخاری شریف ، باب لحوم الخیل ،ص ٩٨٣،نمبر ٥٥٢٠مسلم شریف ،نمبر ٥٠٢٢ ابو داود شریف ،باب فی اکل لحوم الخیل ،ص ٥٤٠ نمبر ٣٧٨٨ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے اسلئے اسکا جوٹھا پاک ہو نا چاہئے لیکن امام ابوحنیفہ کی دوسری روایت میں ہے کہ گھوڑے کا جوٹھا مکروہ ہے اسکی وجہ یہ حدیث ہے عن خالد ابن الولید ،أن رسول اللہ ۖ نھی عن اکل لحوم الخیل و البغال و الحمیر ۔( ابو داؤد شریف ، باب فی أکل لحوم الخیل ، ص ٥٤١ نمبر ٣٧٩٠ ) اس حدیث میں ہے کہ گھوڑے کے گوشت سے منع فرمایا ، جسکا مطلب یہ ہو گا کہ وہ حلال نہیں ہے، اور جب گوشت حلال نہیں ہے تو اسکا جوٹھا بھی مکروہ ہو گا ناپاک نہیں ہو گا کیونکہ گوشت کھانے سے ممانعت اسکی شرف اور فضیلت کی بنا پر ہے کیونکہ وہ جہاد میں کام آتا ہے ۔
ترجمہ : (٧٨) پس اگر پانی نہ ملے سو ائے نبیذ تمر کے تو امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ اس سے وضو کرے اور تیمم نہ کرے ۔
تشریح : نبیذ کی تین قسمیں ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے ۔( ١) پانی میں کھجور ڈال دے اور اتنی دیر چھوڑ دے کہ اس میں مٹھاس آجائے اور پانی کی طرح رقت اور سیلان باقی رہے تو اسکو نبیذ تمر کہتے ہیں ۔ اس سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں اس بارے میں اختلاف ہے ۔ (٢) دوسر ی قسم یہ ہے کہ ۔ اتنا گاڑھی ہو گئی ہے کہ رقت اور سیلان ختم ہو گیا ہو تو بالاتفاق اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے چاہے اسکاپینا جائز ہو (٣) اور تیسری قسم یہ ہے کہ ۔ اس میں نشہ آگیا ہو تو اسکو پینا بھی جائز نہیں ہے ، شراب کی طرح اسکا پینا حرام ہو گا ۔
وجہ : (١) لیلة الجن کے بارے میں حدیث میں اضطراب ہے کسی حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود لیلة الجن میں حضور ۖ کے ساتھ تھے اسلئے امام ابو حنیفة نے فرمایا کہ اس سے وضو کرنا جائز ہے ۔ اورکسی حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ نہیں