٥ و یروی نص محمد علی طھارتہ، ٦ وسبب الشک تعارض الادلة فی اباحتہ وحرمتہ، اواختلاف الصحابة عنھم فی نجاستہ و طھارتہ، ٧ وعن ابی حنیفة انہ نجس ترجیحا للحرمة والنجاسة،
٨ والبغل من نسل الحمار فیکون بمنزلتہ
کپڑے میں لگتا تھا پھر بھی آپ ۖ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے ۔ اور جب اسکا پسینہ پاک ہے تو اسکا جوٹھا بھی پاک ہو گا کیونکہ اسکا جوٹھا بھی گوشت سے ہی نکلتا ہے ۔ اسلئے اسکا جوٹھا پاک ہے البتہ دوسرے کو پاک کر سکتا ہے یا نہیں اس میں شک ہے ۔ یہ عبارت اس بات کی تائید میں ہے کہ جوٹھا پاک ہے البتہ دوسرے کو پاک کر نے میں شک ہے ۔
ترجمہ : ٥ اورروایت کی ہے کہ امام محمد نے اسکے پاک ہو نے کی تصریح ہے۔اگر ان سے پاک ہو نے کی تصریح ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ اسکا جوٹھا پاک ہے البتہ دوسرے کو پا ک کرنے میں شک رہے گا ۔
ترجمہ : ٦ اور شک کا سبب اسکے مباح ہو نے اور اسکے حرام ہو نے میں دلائل کا تعارض ہے ، یا اسکے بارے میں صحابہ کا اختلاف ہے اسکے ناپاک اور اسکے پاک ہو نے کے سلسلے میں ۔
تشریح : گدھے کا جوٹھا مشکوک ہے اسکی وجہ ، یا تو یہ ہے کہ حدیث سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ اسکا گوشت حلال ہے ، اور یہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ اسکا گوشت حلال نہیں ہے ،چونکہ دلائل دونوں طرح کے ہیں اسلئے اسکا جوٹھا مشکوک ہو گیا ، اسی طرح صحابہ میں اختلاف ہے کسی نے فرما یا کہ اسکا جو ٹھا پاک ہے اور کسی نے فرمایا کہ اسکا جوٹھا ناپاک ہے ۔ اسلئے یہ مشکو ک ہو گیا ۔ اوپر دونوں قسم کے دلائل گزر گئے ۔دیکھ لیں ۔
ترجمہ : ٧ امام ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ گدھے کا جوٹھا نجس ہے حرمت اور نجاست کو ترجیح دینے کے لئے ۔
تشریح : امام ابوحنیفة بہت محتاط آدمی تھے اسلئے انکا قاعدہ یہ ہے کہ حرمت اور اباحت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہو گی اسی طرح پاکی اور ناپاکی میں تعارض ہو تو ناپاکی کو ترجیح ہو گی ،اس قاعدے کی بنیاد پر گدھے کے جوٹھے میں حرمت اور نجاست کو ترجیح ہو گی ۔ اسکے لئے اثر اور عبارت یہ ہے۔ عن ابراھیم قال لا خیر فی سور البغل و الحمار ، و لا یتوضأ أحد بسور البغل و الحمار ، و یتوضأ من سور الفرس و البرذون ، و الشاة و البعیر ۔ قال محمد و ھو قول أبی حنیفة ، و بہ نأخذ (کتاب الاثار لامام محمد ،باب ما یجزیء فی الوضوء من سور الفرسو البغل و الحمار و السنور،ص ٢ ، نمبر ٧ ) اس اثر میں ہے کہ گدھے کے جوٹھے میں خیر نہیں ہے یعنی ناپاک ہے ۔
ترجمہ : ٨ اور خچر گدھے کی نسل سے ہے اسلئے اسکا حکم بھی گدھے کے درجے میں ہے ،یعنی مشکوک ہے
وجہ: (١) جس خچر کی ماں گدھی ہو اور باپ گھوڑا ہواس خچر کا حکم اسکی ماں کی طرح ہے یعنی اسکا جوٹھا مشکوک ہے کیونکہ