Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

183 - 627
٢   وقیل الشک فی طھوریتہ لانہ لووجد الماء لایجب علیہ غسل رأسہ٣ وکذالبنہ طاھر٤ وعرقہ لا یمنع جواز الصلاة و ان فحش فکذا سورہ،  وھو الاصح، 

تو دوسروں کو بھی پاک کر تا ۔جب تک کہ لعاب پانی پر غالب نہ ہو جا ئے ،کیونکہ پانی پر لعاب غالب ہو جائے تو سب کے نزدیک اس سے طھارت نہیں ہو گی۔ 
ترجمہ :  ٢   اور کہا گیا ہے کہ شک دوسری چیز کو پاک کرنے میں ہے ۔ اسلئے کہ مشکوک پانی سے مسح کر نے کے بعد اگر پانی پائے تو اس پر سر دھونا واجب نہیں ۔
تشریح :  بعض حضرات نے فرمایا کہ گدھے کا جوٹھا خود تو پاک ہے لیکن دوسری چیز کو پاک کر سکے گا یا نہیں  اس میں شک ہے ۔ کیونکہ کسی آدمی نے گدھے کے جوٹھے سے سر پر مسح کیا بعد میں اچھا پانی مل گیا تو سر کو دوبارہ دھونا واجب نہیں ہے اگر گدھے کے جوٹھے پانی کے پاک ہو نے میں  شک ہو تا تو سر کو دوبارہ پاک پانی سے دھونا چاہئے ، کیونکہ اسکا سر مشکوک ہو چکا ہے ، لیکن دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں اس سے معلوم ہوا کہ خود پانی کے پاک ہو نے میں شک نہیں ہے بلکہ دوسرے کو پاک کر نے میں شک ہے ۔
ترجمہ :  ٣   ایسے ہی اسکا دودھ پاک ہے ۔ 
وجہ:   یعنی گدھی کا دودھ پاک ہے ، اسلئے کہ اسکا گوشت اصل کے اعتبار  سے پاک ہے ، اسکے گوشت کو جو حرام کیا وہ اسلئے کہ جہاد کے سامان اٹھانے میں جانور کی کمی نہ ہو جائے۔ اسلئے جب اصل کے اعتبار سے گوشت پاک ہے تو اسکا دودھ بھی پاک ہو گا ۔ یعنی اگر اسکا دودھ کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا ناپاک نہیں ہو گا ۔اصل کے اعتبار سکا گوشت پاک ہے اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن انس بن مالک أن رسول اللہ  ۖ جاء ہ جاء فقال أکلت الحمر ، ثم جاء ہ جاء فقال اکلت الحمر ، ثم جاء ہ جاء فقال أفنیت الحمر فأمر مناد یا فنادی فی الناس : ان اللہ و رسولہ ینھیانکم  عن لحوم الحمر الاھلیة فانھا رجس ۔ ( بخاری شریف ، باب لحوم الحمرالانسیة ، ص ٩٨٣ نمبر ٥٥٢٨ مسلم شریف ، باب تحریمأکل لحم الحمر الانسیة ، ص ٨٦٨ نمبر ١٩٤٠ ٥٠٢١ ) اس حدیث میں ہے کہ جہاد کا جانور نہ ختم ہو جائے اسلئے گدھے کے گوشت کو حرام کیا ، اسلئے اصل کے اعتبار سے گدھے کا گوشت حلال ہے اسلئے اسکا دودھ بھی پاک ہونا چاہئے ۔ البتہ اس سے چائے بنا کر پینے میں مشکوک ہو گا ۔ 
ترجمہ :  ٤  اور گدھے کا پسینہ نماز کے جائز ہو نے کو نہیں روکتا اگرچہ بہت زیادہ ہو ۔ تو ایسے ہی اسکا جوٹھا بھی ہو گا ، صحیح روایت یہی ہے ۔
تشریح :   چونکہ گدھے کا گوشت اصل کے اعتبار سے حلال ہے اسلئے اسکا پسینہ بھی پاک ہے ، اسلئے اگر اسکا پسینہ بہت زیادہ کپڑے میں لگ جائے پھر بھی اس میں نماز جائز ہو گی ، چنانچہ اوپر حدیث گزری کہ حضور ۖ گدھے پر سوار ہو تے تھے اور اسکا پسینہ بھی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter