٢ وقیل الشک فی طھوریتہ لانہ لووجد الماء لایجب علیہ غسل رأسہ٣ وکذالبنہ طاھر٤ وعرقہ لا یمنع جواز الصلاة و ان فحش فکذا سورہ، وھو الاصح،
تو دوسروں کو بھی پاک کر تا ۔جب تک کہ لعاب پانی پر غالب نہ ہو جا ئے ،کیونکہ پانی پر لعاب غالب ہو جائے تو سب کے نزدیک اس سے طھارت نہیں ہو گی۔
ترجمہ : ٢ اور کہا گیا ہے کہ شک دوسری چیز کو پاک کرنے میں ہے ۔ اسلئے کہ مشکوک پانی سے مسح کر نے کے بعد اگر پانی پائے تو اس پر سر دھونا واجب نہیں ۔
تشریح : بعض حضرات نے فرمایا کہ گدھے کا جوٹھا خود تو پاک ہے لیکن دوسری چیز کو پاک کر سکے گا یا نہیں اس میں شک ہے ۔ کیونکہ کسی آدمی نے گدھے کے جوٹھے سے سر پر مسح کیا بعد میں اچھا پانی مل گیا تو سر کو دوبارہ دھونا واجب نہیں ہے اگر گدھے کے جوٹھے پانی کے پاک ہو نے میں شک ہو تا تو سر کو دوبارہ پاک پانی سے دھونا چاہئے ، کیونکہ اسکا سر مشکوک ہو چکا ہے ، لیکن دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں اس سے معلوم ہوا کہ خود پانی کے پاک ہو نے میں شک نہیں ہے بلکہ دوسرے کو پاک کر نے میں شک ہے ۔
ترجمہ : ٣ ایسے ہی اسکا دودھ پاک ہے ۔
وجہ: یعنی گدھی کا دودھ پاک ہے ، اسلئے کہ اسکا گوشت اصل کے اعتبار سے پاک ہے ، اسکے گوشت کو جو حرام کیا وہ اسلئے کہ جہاد کے سامان اٹھانے میں جانور کی کمی نہ ہو جائے۔ اسلئے جب اصل کے اعتبار سے گوشت پاک ہے تو اسکا دودھ بھی پاک ہو گا ۔ یعنی اگر اسکا دودھ کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا ناپاک نہیں ہو گا ۔اصل کے اعتبار سکا گوشت پاک ہے اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن انس بن مالک أن رسول اللہ ۖ جاء ہ جاء فقال أکلت الحمر ، ثم جاء ہ جاء فقال اکلت الحمر ، ثم جاء ہ جاء فقال أفنیت الحمر فأمر مناد یا فنادی فی الناس : ان اللہ و رسولہ ینھیانکم عن لحوم الحمر الاھلیة فانھا رجس ۔ ( بخاری شریف ، باب لحوم الحمرالانسیة ، ص ٩٨٣ نمبر ٥٥٢٨ مسلم شریف ، باب تحریمأکل لحم الحمر الانسیة ، ص ٨٦٨ نمبر ١٩٤٠ ٥٠٢١ ) اس حدیث میں ہے کہ جہاد کا جانور نہ ختم ہو جائے اسلئے گدھے کے گوشت کو حرام کیا ، اسلئے اصل کے اعتبار سے گدھے کا گوشت حلال ہے اسلئے اسکا دودھ بھی پاک ہونا چاہئے ۔ البتہ اس سے چائے بنا کر پینے میں مشکوک ہو گا ۔
ترجمہ : ٤ اور گدھے کا پسینہ نماز کے جائز ہو نے کو نہیں روکتا اگرچہ بہت زیادہ ہو ۔ تو ایسے ہی اسکا جوٹھا بھی ہو گا ، صحیح روایت یہی ہے ۔
تشریح : چونکہ گدھے کا گوشت اصل کے اعتبار سے حلال ہے اسلئے اسکا پسینہ بھی پاک ہے ، اسلئے اگر اسکا پسینہ بہت زیادہ کپڑے میں لگ جائے پھر بھی اس میں نماز جائز ہو گی ، چنانچہ اوپر حدیث گزری کہ حضور ۖ گدھے پر سوار ہو تے تھے اور اسکا پسینہ بھی