Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

182 - 627
١    قیل الشک فی طھارتہ لانہ لو کان طاھر ا لکان طھوراًمالم یغلب اللعاب علی المائ، 

نہیں تو تھوک بھی پاک  نہیں ہوگا۔ ((٢) اثر میں ہے کہ گدھے کا جوٹھا مکروہ ہے ۔عن ابن عمر أنہ کان یکرہ سئور الحمار ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،٣١ فی الوضوء بسور الحمار و الکلب من کرھہ ،ج اول ،ص ٣٥ نمبر ٣٠٤ ) اس اثر میں ہے کہ گدھے کا جوٹھا مکروہ ہے۔
( ٢)   اور تھوک پاک ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن معاذ قال کنت ردف النبی ۖ علی حمار یقال لہ عفیر۔ (بخاری شریف، باب اسم الفرس والحمار ص ٤٠٠ نمبر ٢٨٥٦) آپۖ گدھے پر سوارہوئے تو کپڑے پر پسینہ لگا ہوگا اور پسینہ پاک ہے تو تھوک بھی پاک ہونا چاہئے۔(٢)حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اصل کے اعتبار سے گدھے کا گوشت ابھی بھی حلال ہے ۔ حدیث یہ ہے عن غالب ابن ابجر قال اصابتنا  سنة فلم یکن فی مالی شیء أطعم اھلی الا شیء من حمر و قد کان النبی  ۖ حرم  لحوم الحمر الاھلیة .....فقال : أطعم اھلک من سمین حمرک فانما حرمتھا من اجل جوال القریة ،یعنی الجلالة ( ابو داود شریف ، باب فی اکل لحوم الحمر الاھلیة ، ص ٥٤٣ نمبر ) اس حدیث میں ہے کہ گدھے کا گوشت حلال ہے ۔ اور جب گوشت حلال ہو گا تو اسکا پسینہ اور جوٹھا بھی پاک ہو گا ۔(٣)گدھے کے جوٹھے کے پاک ہو نے کی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن عطاء أنہ کان لا یری بأسا بسور الحمار ۔( مصنف ابن ابی  شیبة ،٣٢ من قال لا بأس بسور الحمار ،ج اول ،ص ٣٥ نمبر ٣١٢ ) اس اثر میں گدھے کے جوٹھے کو تقریبا پاک کہا ہے ۔ان دونوں قسم کے دلائل کی وجہ سے گدھے کا جوٹھا مشکوک ہے ۔
 فائدہ:   امام شافعی کے نزدیک پچھلے دلائل کی وجہ سے گدھے کا جوٹھا پاک ہے۔موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔ قال: و لیس فی حی من بنی آدم ، ولا البھائم نجاسة الا فی ان یماس نجاسة ، و کل ما ادخل فیہ آدمی ، مسلم أو کافر یدہ أو شربت منہ دابة ما کانت ، فلیس ینجس الا دابتان : الکلب ، و الخنزیر  ۔( موسوعة ،ما ینجس الماء مما خالطہ ،ج اول ص ٢٥ نمبر ٦٤ )اس عبارت سے معلوم ہوا کہ امام شافعی  کے نزدیک صرف دو جانور ،یعنی کتا اور سور کا جوٹھا ناپاک ہے باقی کا نہیں۔
ترجمہ :  ١  کہا گیا ہے کہ شک اسکے پاک ہو نے میں ہے اسلئے کہ اگر پاک ہو تا تو پاک کر نے والا بھی ہو تا ، جب تک پانی پر لعاب غالب نہ ہو جائے ۔
تشریح :  شک گدھے کے جوٹے کے پاک ہو نے میں ہے یا خود تو پاک ہے لیکن دوسرے کو پاک کرنے میں ہے ۔تو فرماتے ہیں کہ بعض حضرات نے فرمایا کہ شک خود اسکے جوٹھے کے پاک ہو نے میں ہے ، یعنی جوٹھا خودپاک نہیں ہے ،کیونکہ اگر وہ پاک ہو تا 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter