١ قیل الشک فی طھارتہ لانہ لو کان طاھر ا لکان طھوراًمالم یغلب اللعاب علی المائ،
نہیں تو تھوک بھی پاک نہیں ہوگا۔ ((٢) اثر میں ہے کہ گدھے کا جوٹھا مکروہ ہے ۔عن ابن عمر أنہ کان یکرہ سئور الحمار ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،٣١ فی الوضوء بسور الحمار و الکلب من کرھہ ،ج اول ،ص ٣٥ نمبر ٣٠٤ ) اس اثر میں ہے کہ گدھے کا جوٹھا مکروہ ہے۔
( ٢) اور تھوک پاک ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن معاذ قال کنت ردف النبی ۖ علی حمار یقال لہ عفیر۔ (بخاری شریف، باب اسم الفرس والحمار ص ٤٠٠ نمبر ٢٨٥٦) آپۖ گدھے پر سوارہوئے تو کپڑے پر پسینہ لگا ہوگا اور پسینہ پاک ہے تو تھوک بھی پاک ہونا چاہئے۔(٢)حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اصل کے اعتبار سے گدھے کا گوشت ابھی بھی حلال ہے ۔ حدیث یہ ہے عن غالب ابن ابجر قال اصابتنا سنة فلم یکن فی مالی شیء أطعم اھلی الا شیء من حمر و قد کان النبی ۖ حرم لحوم الحمر الاھلیة .....فقال : أطعم اھلک من سمین حمرک فانما حرمتھا من اجل جوال القریة ،یعنی الجلالة ( ابو داود شریف ، باب فی اکل لحوم الحمر الاھلیة ، ص ٥٤٣ نمبر ) اس حدیث میں ہے کہ گدھے کا گوشت حلال ہے ۔ اور جب گوشت حلال ہو گا تو اسکا پسینہ اور جوٹھا بھی پاک ہو گا ۔(٣)گدھے کے جوٹھے کے پاک ہو نے کی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن عطاء أنہ کان لا یری بأسا بسور الحمار ۔( مصنف ابن ابی شیبة ،٣٢ من قال لا بأس بسور الحمار ،ج اول ،ص ٣٥ نمبر ٣١٢ ) اس اثر میں گدھے کے جوٹھے کو تقریبا پاک کہا ہے ۔ان دونوں قسم کے دلائل کی وجہ سے گدھے کا جوٹھا مشکوک ہے ۔
فائدہ: امام شافعی کے نزدیک پچھلے دلائل کی وجہ سے گدھے کا جوٹھا پاک ہے۔موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔ قال: و لیس فی حی من بنی آدم ، ولا البھائم نجاسة الا فی ان یماس نجاسة ، و کل ما ادخل فیہ آدمی ، مسلم أو کافر یدہ أو شربت منہ دابة ما کانت ، فلیس ینجس الا دابتان : الکلب ، و الخنزیر ۔( موسوعة ،ما ینجس الماء مما خالطہ ،ج اول ص ٢٥ نمبر ٦٤ )اس عبارت سے معلوم ہوا کہ امام شافعی کے نزدیک صرف دو جانور ،یعنی کتا اور سور کا جوٹھا ناپاک ہے باقی کا نہیں۔
ترجمہ : ١ کہا گیا ہے کہ شک اسکے پاک ہو نے میں ہے اسلئے کہ اگر پاک ہو تا تو پاک کر نے والا بھی ہو تا ، جب تک پانی پر لعاب غالب نہ ہو جائے ۔
تشریح : شک گدھے کے جوٹے کے پاک ہو نے میں ہے یا خود تو پاک ہے لیکن دوسرے کو پاک کرنے میں ہے ۔تو فرماتے ہیں کہ بعض حضرات نے فرمایا کہ شک خود اسکے جوٹھے کے پاک ہو نے میں ہے ، یعنی جوٹھا خودپاک نہیں ہے ،کیونکہ اگر وہ پاک ہو تا