٢ والتنبیہ علی العلة فی الھرة۔ (٧٦) وسور الحمار والبغل مشکوک فیہ )
ہے اسلئے اسکا جوٹھا ناپاک ہو نا چاہئے ، لیکن یہ جانور گھر ہی میں رہتے ہیں اسلئے ناپاک قرار دینے سے حرج لازم آئیگااسلئے حرام کے بجائے مکروہ قرار دیا ۔بلی بار بار گھر میں آتی ہے جسکی و جہ سے اسکا جوٹھا مکروہ قرار دیا اسکے لئے حدیث گزر چکی ہے ۔حدیث یہ ہے ۔ عن کبشة بنت کعب بن مالک۔ان ابا قتادة دخل علیھا قالت فسکبت لہ وضوء ا ً قالت فجائت ھرة تشرب فأصغی ٰ لھا الاناء حتی شربت ، قالت کبشة فرأنی انظر الیہ فقال أ تعجبین یا ابنة اخی ؟ فقلت نعم ،قال ان رسول اللہ ۖ قال انھا لیست بنجس انما ہی من الطوافین علیکم والطوافات (ترمذی شریف، باب ماجاء فی سور الھرة ص ٢٧ نمبر ٩٢ ابوداؤد شریف،باب سؤر الھرة ،ص ١٢، نمبر ٧٥) اس حدیث میں ہے کہ چونکہ بلی بار بار گھر میں آتی ہے اسلئے اسکے جوٹھے کو ناپاک کے بجائے مکروہ قرار دیا اسی طرح ان جانوروں کے جوٹھے کو بھی مکروہ قرار دیا جائے گا ۔
اصول : مجبوری جہاں ہو وہاں سہولت ہو جاتی ہے ۔
ترجمہ : ٢ علت اور وجہ پر تنبیہ بلی کے مسئلے میں ہو چکی ہے ۔
تشریح : بلی کے مسئلے میں گزر چکا ہے کہ بار بار گھر میں آنے کی وجہ سے ناپاک کرنے کے بجائے مکروہ قرار دیا ۔یہ حدیث ابھی اوپر گزری ۔
لغت : الدجاجة : مرغی۔ المخلاة : جو کھلی پھرتی ہو۔ سباع الطیور : وہ پرندے جو شکار کرکے کھاتے ہیں۔ الحیة : سانپ۔ الفارة : چوہا۔
ترجمہ : (٧٦) گدھے کا جوٹھا اور خچر کا جوٹھا مشکوک ہے۔
وجہ: مشکوک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ گدھے کے گوشت اور پسینے کے سلسلے میں دونوں قسم کے دلائل ہیں۔ آپۖ نے گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ اور جب گوشت حلال نہیں ہوگا تو اس کا نکلا ہوا تھوک بھی نجس ہوگا۔ اس اعتبار سے گدھے کا جوٹھا ناپاک ہونا چاہئے۔لیکن آپ گدھے پر سوار ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آپۖ کے کپڑے پر گدھے کا پسینہ لگا ہوگا اور پسینہ گوشت سے نکلتا ہے اور پسینے کا حکم بھی وہی ہے جو تھوک کا حکم ہے۔ اس لئے اگر پسینہ لگنے سے کپڑا نہیں دھویا اور پسینہ پاک ہے تو اس اعتبار سے تھوک بھی پاک ہونا چاہئے۔ تو
گویا کہ گدھے کے تھوک کے سلسلے میں دونوں قسم کے دلائل ہیں اس لئے گدھے کا جوٹھا مشکوک ہے۔ نجس ہونے کی دلیل یہ ہے عن جابر بن عبد اللہ قال نھی رسول اللہ ۖ یوم خیبر عن لحوم الحمر ورخص فی الخیل (بخاری شریف ، باب غزوة خیبر ج ثانی ص ٦٠٦ نمبر ٤٢١٩ مسلم شریف ، باب تحریم أکل لحم الحمر الانسیة ، ص ٨٦٦ نمبر ١٩٣٦ ٥٠٠٥ )جب گوشت حلال