Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

181 - 627
٢ والتنبیہ علی العلة فی الھرة۔ (٧٦)  وسور الحمار والبغل مشکوک فیہ )  

ہے اسلئے اسکا جوٹھا ناپاک ہو نا چاہئے ، لیکن یہ جانور گھر ہی  میں رہتے ہیں اسلئے ناپاک قرار دینے سے حرج لازم آئیگااسلئے حرام کے بجائے مکروہ قرار دیا ۔بلی بار بار گھر میں آتی ہے جسکی و جہ سے اسکا جوٹھا مکروہ قرار دیا اسکے لئے حدیث گزر چکی ہے ۔حدیث  یہ ہے ۔ عن کبشة بنت کعب بن مالک۔ان ابا قتادة دخل علیھا قالت فسکبت لہ وضوء ا ً قالت فجائت ھرة تشرب فأصغی ٰ لھا الاناء حتی شربت ، قالت کبشة فرأنی انظر الیہ فقال أ تعجبین یا ابنة اخی ؟ فقلت نعم ،قال  ان رسول اللہ ۖ قال انھا لیست بنجس انما ہی من الطوافین علیکم والطوافات (ترمذی شریف، باب ماجاء فی سور الھرة ص ٢٧ نمبر ٩٢ ابوداؤد شریف،باب سؤر الھرة ،ص ١٢، نمبر ٧٥)  اس حدیث میں ہے کہ چونکہ بلی  بار بار گھر میں آتی ہے اسلئے اسکے جوٹھے کو ناپاک کے بجائے مکروہ قرار دیا اسی طرح ان جانوروں کے جوٹھے کو بھی مکروہ قرار دیا جائے گا ۔
اصول :   مجبوری جہاں ہو وہاں سہولت ہو جاتی ہے ۔
ترجمہ :  ٢  علت اور وجہ پر تنبیہ بلی کے مسئلے میں ہو چکی ہے ۔ 
تشریح :   بلی کے مسئلے میں گزر چکا ہے کہ بار بار گھر میں آنے کی وجہ سے ناپاک کرنے کے بجائے مکروہ قرار دیا ۔یہ حدیث ابھی اوپر گزری ۔
 لغت :   الدجاجة : مرغی۔ المخلاة : جو کھلی پھرتی ہو۔ سباع الطیور : وہ پرندے جو شکار کرکے کھاتے ہیں۔  الحیة : سانپ۔  الفارة  :  چوہا۔
ترجمہ :  (٧٦)  گدھے کا جوٹھا اور خچر کا جوٹھا مشکوک ہے۔  
وجہ:   مشکوک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ گدھے کے گوشت اور پسینے کے سلسلے میں دونوں قسم کے دلائل ہیں۔ آپۖ نے گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ اور جب گوشت حلال نہیں ہوگا تو اس کا نکلا ہوا تھوک بھی نجس ہوگا۔ اس اعتبار سے گدھے کا جوٹھا ناپاک ہونا چاہئے۔لیکن آپ گدھے پر سوار ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آپۖ کے کپڑے پر گدھے کا پسینہ لگا ہوگا اور پسینہ گوشت سے نکلتا ہے اور پسینے کا حکم بھی وہی ہے جو تھوک کا حکم ہے۔ اس لئے اگر پسینہ لگنے سے کپڑا نہیں دھویا اور پسینہ پاک ہے تو اس اعتبار سے تھوک بھی پاک ہونا چاہئے۔ تو
 گویا کہ گدھے کے تھوک کے سلسلے میں دونوں قسم کے دلائل ہیں اس لئے گدھے کا جوٹھا مشکوک ہے۔ نجس ہونے کی دلیل یہ ہے عن جابر بن عبد اللہ قال نھی رسول اللہ ۖ یوم خیبر عن لحوم الحمر ورخص فی الخیل  (بخاری شریف ، باب غزوة خیبر ج ثانی ص ٦٠٦ نمبر ٤٢١٩ مسلم شریف ، باب تحریم أکل لحم الحمر الانسیة ، ص ٨٦٦ نمبر ١٩٣٦  ٥٠٠٥ )جب گوشت حلال 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter