Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

180 - 627
 ١ لانھا تأ کل المیتات فاشبہ الدجاجة المخلاة،٢وعن ابی یوسف انھا اذا کانت محبوسة یعلم صاحبھا انہ لایقدرعلی منقارھالایکرہ لوقوع الامن عن المخالطة، واستحسن المشائخ ھذہ الروایة۔(٧٥ )و سوء رما یسکن البیوت کالحیة، والفارة مکروہ  )  ١   لان حرمة اللحم اوجبت نجاسة السؤر الا انہ سقطت النجاسة لعلة الطواف فبقیت الکراھیة

اسکا جوٹھا ناپاک ہو نا چاہئے ، لیکن ضرورت کی وجہ سے اسکے جوٹھے کو مکمل ناپاک کے بجائے مکروہ قرار دیا ۔(٢) اثر میں ہے کہ پرندے کی بیٹ ناپاک نہیں ہے  کیونکہ اس میں مجبور ی ہے  ،جب اسکی بیٹ ناپاک نہیں تو اسکا تھوک بدرجہ اولی ناپاک نہیں ہو نا چاہئے ۔ اثر یہ ہے ۔عن الحسن قال : سقطت ھائمة علی الحسن فذرقت علیہ فقال لہ بعض القوم :  نأتیک بماء تغسلہ فقال : لا ، و جعل یمسحہ عنہ ( مصنف ابن ابی شیبة ،١٤٥ الذی یصلی و فی ثوبہ خرء الطیر ، ج اول ، ص ١١٠ نمبر ١٢٥٦ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ پرندے کی بیٹ ناپاک نہیں ہے ۔
ترجمہ :  ١  اسلئے کہ وہ مردہ کھا تا ہے اسلئے وہ کھلی ہوئی مرغی کی طرح ہو گیا ۔
تشریح :  یہ پرندہ مردہ کھا تا ہے اسلئے جس طرح کھلی ہوئی مرغی کے چونچ میں ناپاکی ہو نے کے احتمال کے باوجود اسکا جوٹھا مکروہ ہے اسی طرح پھاڑ کھانے والے پرندے کا جھوٹا اس گوشت حرام ہو نے کے باوجود مکروہ ہو گا ، کیونکہ اس میں مجبوری ہے ۔
ترجمہ :  ٢  اور امام ابو یوسف  سے روایت ہے کہ اگر پرندہ محبوس ہو اور اسکا مالک جانتا ہو کہ اسکی چونچ پر گندگی نہیں ہے تو مکروہ بھی نہیں ہے ، گندگی سے اختلاط سے مامون ہو نے کی وجہ سے  ۔ اور مشائخ نے اس روایت کو اچھا سمجھا ۔
تشریح :  اس روایت کا مدار اس بات پر ہے کہ پرندے کی چونچ پر نجاست کی گندگی ہو تو پانی ناپاک ہو گا اور گندگی  نہ ہو تو ناپاک نہیں ہو گا ۔ اس روایت کا مدار اس پر نہیں ہے کہ اسکا گوشت حلال ہے یا حرام ،کیونکہ اگر اس پر ہوتا تو اسکا گوشت حرام تھا اسلئے اسکا جوٹھا ناپاک ہو نا چاہئے اب عبارت کا مطلب یہ ہے کہ پرندہ اس طرح  مقید ہو کہ ا سکا مالک جانتا ہو کہ اسکی چونچ پر گند گی نہیں ہے تو اسکا جوٹھا مکروہ بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ اس بات سے امن ہے کہ اسکی چونچ پر نجاست کی گندگی نہیں ہے ۔ اور چونکہ امت کے لئے مجبوری ہے اسلئے  مشائخ نے اس روایت کو اچھا سمجھا ۔
ترجمہ :  (٧٥)  اور جو جانور گھروں میں ٹھہر تے ہیں ،جیسے سانپ اور چوہا اسکا جو ٹھا مکروہ ہے ۔
ترجمہ :   ١  اسلئے کہ گوشت کا حرام ہونا واجب کر تا ہے جوٹھے کی نجاست کو مگر یہ کہ بار بار آنے کی علت کی وجہ سے ناپاکی ساقط ہو گئی اسلئے کراہیت باقی رہی ۔
تشریح :   گھر میں رہنے والے جانور جیسے سانپ اور چوہا وغیرہ کا جوٹھا مکروہ ہے ۔اسکی وجہ یہ کہ ان جانوروں کا گو شت حرام 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter