١ لانھا تأ کل المیتات فاشبہ الدجاجة المخلاة،٢وعن ابی یوسف انھا اذا کانت محبوسة یعلم صاحبھا انہ لایقدرعلی منقارھالایکرہ لوقوع الامن عن المخالطة، واستحسن المشائخ ھذہ الروایة۔(٧٥ )و سوء رما یسکن البیوت کالحیة، والفارة مکروہ ) ١ لان حرمة اللحم اوجبت نجاسة السؤر الا انہ سقطت النجاسة لعلة الطواف فبقیت الکراھیة
اسکا جوٹھا ناپاک ہو نا چاہئے ، لیکن ضرورت کی وجہ سے اسکے جوٹھے کو مکمل ناپاک کے بجائے مکروہ قرار دیا ۔(٢) اثر میں ہے کہ پرندے کی بیٹ ناپاک نہیں ہے کیونکہ اس میں مجبور ی ہے ،جب اسکی بیٹ ناپاک نہیں تو اسکا تھوک بدرجہ اولی ناپاک نہیں ہو نا چاہئے ۔ اثر یہ ہے ۔عن الحسن قال : سقطت ھائمة علی الحسن فذرقت علیہ فقال لہ بعض القوم : نأتیک بماء تغسلہ فقال : لا ، و جعل یمسحہ عنہ ( مصنف ابن ابی شیبة ،١٤٥ الذی یصلی و فی ثوبہ خرء الطیر ، ج اول ، ص ١١٠ نمبر ١٢٥٦ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ پرندے کی بیٹ ناپاک نہیں ہے ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ وہ مردہ کھا تا ہے اسلئے وہ کھلی ہوئی مرغی کی طرح ہو گیا ۔
تشریح : یہ پرندہ مردہ کھا تا ہے اسلئے جس طرح کھلی ہوئی مرغی کے چونچ میں ناپاکی ہو نے کے احتمال کے باوجود اسکا جوٹھا مکروہ ہے اسی طرح پھاڑ کھانے والے پرندے کا جھوٹا اس گوشت حرام ہو نے کے باوجود مکروہ ہو گا ، کیونکہ اس میں مجبوری ہے ۔
ترجمہ : ٢ اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ اگر پرندہ محبوس ہو اور اسکا مالک جانتا ہو کہ اسکی چونچ پر گندگی نہیں ہے تو مکروہ بھی نہیں ہے ، گندگی سے اختلاط سے مامون ہو نے کی وجہ سے ۔ اور مشائخ نے اس روایت کو اچھا سمجھا ۔
تشریح : اس روایت کا مدار اس بات پر ہے کہ پرندے کی چونچ پر نجاست کی گندگی ہو تو پانی ناپاک ہو گا اور گندگی نہ ہو تو ناپاک نہیں ہو گا ۔ اس روایت کا مدار اس پر نہیں ہے کہ اسکا گوشت حلال ہے یا حرام ،کیونکہ اگر اس پر ہوتا تو اسکا گوشت حرام تھا اسلئے اسکا جوٹھا ناپاک ہو نا چاہئے اب عبارت کا مطلب یہ ہے کہ پرندہ اس طرح مقید ہو کہ ا سکا مالک جانتا ہو کہ اسکی چونچ پر گند گی نہیں ہے تو اسکا جوٹھا مکروہ بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ اس بات سے امن ہے کہ اسکی چونچ پر نجاست کی گندگی نہیں ہے ۔ اور چونکہ امت کے لئے مجبوری ہے اسلئے مشائخ نے اس روایت کو اچھا سمجھا ۔
ترجمہ : (٧٥) اور جو جانور گھروں میں ٹھہر تے ہیں ،جیسے سانپ اور چوہا اسکا جو ٹھا مکروہ ہے ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ گوشت کا حرام ہونا واجب کر تا ہے جوٹھے کی نجاست کو مگر یہ کہ بار بار آنے کی علت کی وجہ سے ناپاکی ساقط ہو گئی اسلئے کراہیت باقی رہی ۔
تشریح : گھر میں رہنے والے جانور جیسے سانپ اور چوہا وغیرہ کا جوٹھا مکروہ ہے ۔اسکی وجہ یہ کہ ان جانوروں کا گو شت حرام