Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

179 - 627
(٧٣) و سؤ رالدجاجة المخلاة مکروہ)   ١ لانھاتخالط النجاسة، و لوکانت محبوسة بحیث لا یصل منقارھا الی ما تحت قدمیھالا یکرہ لوقوع الامن عن المخالطة (٧٤)  وکذا سوء ر سباع الطیر)    

گھنٹہ بعد تک بلی زبان سے خون صاف کرتی رہی ہو ۔اسلئے امام محمد کے مسلک پر متن کی عبارت الا اذا مکثت ساعة ۔ نہیں ہو گا ،کیونکہ  ایک گھنٹے کے بعد بھی اسکی زبان  پاک نہیں ہو پائے گی۔
ترجمہ :  (٧٣)  اور کھلی پھرنے والی مرغی کا جوٹھا مکروہ ہے ۔
ترجمہ :   ١   اسلئے کہ وہ نجاست کے ساتھ لتھڑ جاتی ہے ، چنانچہ اگر وہ اس طرح بندھی ہوئی ہو کہ اسکی چونچ اسکے قدم کے نیچے تک نہ پہونچتی ہو تو مکروہ نہ ہو گا نجاست کے ساتھ ملنے سے امن ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح :  مرغی کا گوشت پاک ہے اسلئے اسکا جوٹھا بھی پاک ہونا چاہئے البتہ اگر اسکی چونچ پر ناپاکی لگی ہوئی ہواور اسی حالت اس نے اپنا چونچ میں پانی میں ڈال دیا تو اس ناپاکی کی وجہ سے پانی نا پاک ہو جائے گا  ہاں اگر اسکی چونچ پر ناپاکی نہ لگی ہوئی ہو اور مرغی یونہی کھلی پھر رہی ہو اور پانی میں منہ ڈال دے تو پانی مکروہ ہوگا چونچ پہ ناپاکی ہونے کے احتمال کی بنیاد پر۔اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔عن الحسن انہ کان یقول : فی الدجاجة تشرب من الاناء  یکرہ ان یتوضأ بہ ۔( مصنف ابن ابی شیبة ،٣٤ الوضوء بسور الدجاجة ، ج اول ، ص ٣٦ نمبر ٣٢٣ ) اس اثر میں ہے کہ مرغی کا جوٹھا مکروہ ہے اور اسی شکل میں ہے کہ مرغی کے چونچ پر نجاست ہو نے یا نہ ہونے کا احتمال ہو ، ورنہ تو اسکا گوشت حلال ہے اسلئے اسکا جوٹھا پاک ہو نا چاہئے  ۔
ہاں اگر مرغی اس طرح بندھی ہوئی ہو کہ اسکی چونچ کسی اور کی نجاست میں بھی  نہ جاتی ہو  اور وہ خود بھی جو پاخانہ کرتی ہے اور بندھی ہوئی مرغی کا پاؤں اس پر رگڑتا ہے ، اور اپنے چونچ کو پاؤں پر مارتی ہے جس سے اسکی چونچ ناپاک ہوتی ہے اس طرح بھی نہ ہو تو اب اسکی چونچ پاک ہو گی اور یہ مرغی پانی میں منہ ڈالے گی تو پانی مکروہ بھی نہیں ہوگا ۔
 لغت :   المخلاة : خلو سے مشتق ہے کھلی پھرنے والی ۔تخالط : لتھڑ جاتی ہے ،گھل مل جاتی ہے ۔ اسی سے ہے مخالطة : گھل مل جانا ۔ محبوس : حبس سے مشتق ہے ،بندھی ہوئی ۔منقار : چونچ ۔  
ترجمہ :  (٧٤) اور ایسے ہی پھاڑ کھانے والے پرندے کا جوٹھا مکروہ ہے ۔
 وجہ:   (١) پھاڑ کھانے والا پرندہ آسمان میں اڑتا ہے اور کہیں بھی پانی میں منہ ڈال دیتا ہے اب اگر اسکے گوشت کے حرام ہو نے کی وجہ سے اسکے جوٹھے کو ناپاک قرار دیں تو امت کے لئے اس سے  بچنا مشکل ہو گا  اور وہ پریشانی میں پھنس جائیں گے ، اس ضرورت کے تحت اسکے جوٹھے کو ناپاک قرار نہیں دیا ۔ لیکن اسکا گوشت حرام ہے اور پہلے گزر چکا ہے کہ جوٹھے کا مدار اسکے گوشت پر ہے اسلئے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter