(٧٣) و سؤ رالدجاجة المخلاة مکروہ) ١ لانھاتخالط النجاسة، و لوکانت محبوسة بحیث لا یصل منقارھا الی ما تحت قدمیھالا یکرہ لوقوع الامن عن المخالطة (٧٤) وکذا سوء ر سباع الطیر)
گھنٹہ بعد تک بلی زبان سے خون صاف کرتی رہی ہو ۔اسلئے امام محمد کے مسلک پر متن کی عبارت الا اذا مکثت ساعة ۔ نہیں ہو گا ،کیونکہ ایک گھنٹے کے بعد بھی اسکی زبان پاک نہیں ہو پائے گی۔
ترجمہ : (٧٣) اور کھلی پھرنے والی مرغی کا جوٹھا مکروہ ہے ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ وہ نجاست کے ساتھ لتھڑ جاتی ہے ، چنانچہ اگر وہ اس طرح بندھی ہوئی ہو کہ اسکی چونچ اسکے قدم کے نیچے تک نہ پہونچتی ہو تو مکروہ نہ ہو گا نجاست کے ساتھ ملنے سے امن ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : مرغی کا گوشت پاک ہے اسلئے اسکا جوٹھا بھی پاک ہونا چاہئے البتہ اگر اسکی چونچ پر ناپاکی لگی ہوئی ہواور اسی حالت اس نے اپنا چونچ میں پانی میں ڈال دیا تو اس ناپاکی کی وجہ سے پانی نا پاک ہو جائے گا ہاں اگر اسکی چونچ پر ناپاکی نہ لگی ہوئی ہو اور مرغی یونہی کھلی پھر رہی ہو اور پانی میں منہ ڈال دے تو پانی مکروہ ہوگا چونچ پہ ناپاکی ہونے کے احتمال کی بنیاد پر۔اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔عن الحسن انہ کان یقول : فی الدجاجة تشرب من الاناء یکرہ ان یتوضأ بہ ۔( مصنف ابن ابی شیبة ،٣٤ الوضوء بسور الدجاجة ، ج اول ، ص ٣٦ نمبر ٣٢٣ ) اس اثر میں ہے کہ مرغی کا جوٹھا مکروہ ہے اور اسی شکل میں ہے کہ مرغی کے چونچ پر نجاست ہو نے یا نہ ہونے کا احتمال ہو ، ورنہ تو اسکا گوشت حلال ہے اسلئے اسکا جوٹھا پاک ہو نا چاہئے ۔
ہاں اگر مرغی اس طرح بندھی ہوئی ہو کہ اسکی چونچ کسی اور کی نجاست میں بھی نہ جاتی ہو اور وہ خود بھی جو پاخانہ کرتی ہے اور بندھی ہوئی مرغی کا پاؤں اس پر رگڑتا ہے ، اور اپنے چونچ کو پاؤں پر مارتی ہے جس سے اسکی چونچ ناپاک ہوتی ہے اس طرح بھی نہ ہو تو اب اسکی چونچ پاک ہو گی اور یہ مرغی پانی میں منہ ڈالے گی تو پانی مکروہ بھی نہیں ہوگا ۔
لغت : المخلاة : خلو سے مشتق ہے کھلی پھرنے والی ۔تخالط : لتھڑ جاتی ہے ،گھل مل جاتی ہے ۔ اسی سے ہے مخالطة : گھل مل جانا ۔ محبوس : حبس سے مشتق ہے ،بندھی ہوئی ۔منقار : چونچ ۔
ترجمہ : (٧٤) اور ایسے ہی پھاڑ کھانے والے پرندے کا جوٹھا مکروہ ہے ۔
وجہ: (١) پھاڑ کھانے والا پرندہ آسمان میں اڑتا ہے اور کہیں بھی پانی میں منہ ڈال دیتا ہے اب اگر اسکے گوشت کے حرام ہو نے کی وجہ سے اسکے جوٹھے کو ناپاک قرار دیں تو امت کے لئے اس سے بچنا مشکل ہو گا اور وہ پریشانی میں پھنس جائیں گے ، اس ضرورت کے تحت اسکے جوٹھے کو ناپاک قرار نہیں دیا ۔ لیکن اسکا گوشت حرام ہے اور پہلے گزر چکا ہے کہ جوٹھے کا مدار اسکے گوشت پر ہے اسلئے