Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

178 - 627
(٧٢) و لواکلت الفارة ثم شربت علی فورہ الماء یتنجس الا اذا مکثت ساعة )  ١  لغسلھا فمھا بلعابھا  ٢ والاستثناء علی مذھب ابی حنیفة و ابی یوسف  و یسقط اعتبار الصب للضرورة۔  
 
اگر گوشت کی حرمت کو دلیل بنائیں  تو اسکا جوٹھا حرام کے قریب ہو نا چاہئے ، (٢) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بلی نجاست سے نہیں بچتی ہے اسلئے اسکا جوٹھا ناپاک ہے ، پس اگر اسکو وجہ بنائیں تو اسکا جوٹھا مکروہ ہونا چاہئے کیونکہ اصل کے اعتبارسے ناپاک نہیں ہوا بلکہ نجاست سے نہ بچنے کی وجہ سے مکروہ ہوا  ۔
 لغت :    یصغی : ٹیڑھا کر نا ۔سبع : پھاڑ کھانے والا جانور ۔طواف : بار بار جانا ۔تحامی : بچنا ،پرہیز کر نا ۔ تنزہ : مکروہ تنزیہی ۔ 
ترجمہ :۔(٧٢) اور اگر چوہا کھایا پھر فورا پانی پیا تو پانی ناپاک ہو جائے گا ، مگر جبکہ کچھ دیر ٹھہر گئی ہو۔
ترجمہ :   ١  اپنے لعاب سے اپنے منہ کو دھونے کی وجہ سے ۔
تشریح :  جن حضرات کے یہاں بلی کا جوٹھا مکروہ ہے یا پاک ہے ،اسکے نزدیک یہ ہے کہ بلی نے چوہا کھایا اور ابھی منہ بھی صاف نہیں کیا کہ پانی میں منہ ڈال دیا تو وہ پانی چوہے کے ناپاک خون کی وجہ سے ناپاک ہو گیا ،لیکن اگر تھوڑی دیر ٹھہر گئی اورمنہ کو صاف کر لیا پھر منہ ڈالا تو اب پانی ناپاک نہیں ہو گا یا تو پاک رہے گا یا زیادہ سے زیادہ مکروہ ہو گا ۔  
وجہ:   اسکی وجہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ  اور امام ابویوسف  کے نزدیک کسی بھی بہنے والی چیز سے نجاست پاک کی جاسکتی ہے اور اس میں یہ بھی شرط نہیں ہے کہ پاک کرنے کی نیت سے بہائے اسلئے بلی نے اپنے تھوک سے  بار بار منہ صاف کر لیا تو اب منہ پاک ہو گیا اسکے بعد پانی میں منہ ڈالا تو پانی پاک رہے گا ۔ البتہ امام ابو یوسف  کے نزدیک کسی نجاست کو پاک کرنے کے لئے پاکی کی نیت سے بہانا شرط ہے ۔ اور بلی پاکی نیت کر کے نہیں  بہا سکتی ، اسلئے انکے یہاں زبان پاک نہیں ہو نا چاہئے ۔ لیکن انکے یہاں بھی پاک ہو جائے گی ، اسکی وجہ یہ ہے کہ  یہاں پاک کرنے کی ضرورت ہے اسلئے ضرورت کی وجہ سے نیت کر کے بہانے کی شرط ساقط ہو جائے گی اور صرف خون صاف ہو نے کی وجہ سے زبان پاک ہو جائے گی  ۔
ترجمہ :  ٢  اور استثناء امام ابو حنیفة اور امام ابو یوسف  کے مذھب پر ہو گی ، اور بہانے کی شرط ضرورت کی بناء پر ساقط ہو جائے گی۔
تشریح :   اس عبارت کا مطلب اوپر گزر گیا کہ شیخین کے یہاں کسی بھی بہنے والی چیز سے نجاست پاک ہو سکتی ہے  ۔اور امام ابو یوسف  کے نزدیک نیت کرکے بہانے کی جو شرط ہے وہ بھی ضرورت کی بناء پر ساقط ہو جائے گی ۔
البتہ امام محمد  کے نزدیک کسی بھی  بہنے والی چیز سے نجاست پا ک نہیں کر سکتے بلکہ پانی ہی سے نجاست پاک ہو گی ، اور یہاں بلی نے لعاب سے خون صاف کیا  ہے ،اسلئے اسکی زبان پاک نہیں ہو ئی اسلئے اس نے پانی میں منہ ڈالا تو پانی ناپاک ہو جائے گا ،چاہے ایک 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter