(٧٢) و لواکلت الفارة ثم شربت علی فورہ الماء یتنجس الا اذا مکثت ساعة ) ١ لغسلھا فمھا بلعابھا ٢ والاستثناء علی مذھب ابی حنیفة و ابی یوسف و یسقط اعتبار الصب للضرورة۔
اگر گوشت کی حرمت کو دلیل بنائیں تو اسکا جوٹھا حرام کے قریب ہو نا چاہئے ، (٢) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بلی نجاست سے نہیں بچتی ہے اسلئے اسکا جوٹھا ناپاک ہے ، پس اگر اسکو وجہ بنائیں تو اسکا جوٹھا مکروہ ہونا چاہئے کیونکہ اصل کے اعتبارسے ناپاک نہیں ہوا بلکہ نجاست سے نہ بچنے کی وجہ سے مکروہ ہوا ۔
لغت : یصغی : ٹیڑھا کر نا ۔سبع : پھاڑ کھانے والا جانور ۔طواف : بار بار جانا ۔تحامی : بچنا ،پرہیز کر نا ۔ تنزہ : مکروہ تنزیہی ۔
ترجمہ :۔(٧٢) اور اگر چوہا کھایا پھر فورا پانی پیا تو پانی ناپاک ہو جائے گا ، مگر جبکہ کچھ دیر ٹھہر گئی ہو۔
ترجمہ : ١ اپنے لعاب سے اپنے منہ کو دھونے کی وجہ سے ۔
تشریح : جن حضرات کے یہاں بلی کا جوٹھا مکروہ ہے یا پاک ہے ،اسکے نزدیک یہ ہے کہ بلی نے چوہا کھایا اور ابھی منہ بھی صاف نہیں کیا کہ پانی میں منہ ڈال دیا تو وہ پانی چوہے کے ناپاک خون کی وجہ سے ناپاک ہو گیا ،لیکن اگر تھوڑی دیر ٹھہر گئی اورمنہ کو صاف کر لیا پھر منہ ڈالا تو اب پانی ناپاک نہیں ہو گا یا تو پاک رہے گا یا زیادہ سے زیادہ مکروہ ہو گا ۔
وجہ: اسکی وجہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف کے نزدیک کسی بھی بہنے والی چیز سے نجاست پاک کی جاسکتی ہے اور اس میں یہ بھی شرط نہیں ہے کہ پاک کرنے کی نیت سے بہائے اسلئے بلی نے اپنے تھوک سے بار بار منہ صاف کر لیا تو اب منہ پاک ہو گیا اسکے بعد پانی میں منہ ڈالا تو پانی پاک رہے گا ۔ البتہ امام ابو یوسف کے نزدیک کسی نجاست کو پاک کرنے کے لئے پاکی کی نیت سے بہانا شرط ہے ۔ اور بلی پاکی نیت کر کے نہیں بہا سکتی ، اسلئے انکے یہاں زبان پاک نہیں ہو نا چاہئے ۔ لیکن انکے یہاں بھی پاک ہو جائے گی ، اسکی وجہ یہ ہے کہ یہاں پاک کرنے کی ضرورت ہے اسلئے ضرورت کی وجہ سے نیت کر کے بہانے کی شرط ساقط ہو جائے گی اور صرف خون صاف ہو نے کی وجہ سے زبان پاک ہو جائے گی ۔
ترجمہ : ٢ اور استثناء امام ابو حنیفة اور امام ابو یوسف کے مذھب پر ہو گی ، اور بہانے کی شرط ضرورت کی بناء پر ساقط ہو جائے گی۔
تشریح : اس عبارت کا مطلب اوپر گزر گیا کہ شیخین کے یہاں کسی بھی بہنے والی چیز سے نجاست پاک ہو سکتی ہے ۔اور امام ابو یوسف کے نزدیک نیت کرکے بہانے کی جو شرط ہے وہ بھی ضرورت کی بناء پر ساقط ہو جائے گی ۔
البتہ امام محمد کے نزدیک کسی بھی بہنے والی چیز سے نجاست پا ک نہیں کر سکتے بلکہ پانی ہی سے نجاست پاک ہو گی ، اور یہاں بلی نے لعاب سے خون صاف کیا ہے ،اسلئے اسکی زبان پاک نہیں ہو ئی اسلئے اس نے پانی میں منہ ڈالا تو پانی ناپاک ہو جائے گا ،چاہے ایک