فتشرب منہ ثم یتوضأمنہ، ٢ ولھما قولہ علیہ السلام: الھرة سبع، و المراد بیان الحکم الاانہ سقطت النجاسةلعلة الطواف فبقیت الکراھة ٣ ومارواہ محمول علی ماقبل التحریم ٤ ثم قیل کراھیتہ لحرمةاللحم،وقیل لعدم تحامیھاالنجاسةوھذایشیرالی التنزہ، والاول الی القرب من التحریم
تھے ،پھر بلی اس سے پیتی تھی پھر آپ اس سے وضو فرماتے تھے ۔اسکے لئے حدیث یہ ہے ۔عن عائشة أنھا قالت : کان رسول اللہ ۖ یمر بہ الھرة فیصغی لھا الاناء ، فتشرب ، ثم یتوضأ بفضلھا ۔( دار قطنی ، باب سئور الھر ،ج اول ، ص ٦٧ نمبر ١٩٥ ) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ نے بلی کے لئے برتن ٹیڑھاکیا اور اسکے پینے کے بعد آپ ۖ نے اس سے وضو فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ بلی کا جوٹھا پاک ہے
ترجمہ : ٢ اور امام ابو حنیفة اور امام محمد کی دلیل حضور ۖ کا قول ہے کہ بلی پھاڑ کھانے والے جانور میں سے ہے، اور مراد حکم کا بیان کرنا ہے ،مگر یہ کہ نجاست ساقط ہو گئی بار بار گھر آنے کی وجہ سے اسلئے کراہیت باقی رہی ۔
تشریح : طرفین کی دلیل یہ ہے کہ حضور ۖ نے فرمایا کہ بلی پھاڑ کھانے والے جانور میں سے ہے اور اس سے مراد ہے حکم کا بیان کرنا ،یعنی پھاڑ کھانے والے جانور کا گوشت حرام ہے اسلئے اسکا جوٹھا ناپاک ہو نا چاہئے ،حدیث گزر چکی ہے عن ابی ھریرة قال النبی ۖ السنورسبع (سنن البیھقی، باب سور الھرة ج اول ص ٣٧٧نمبر١١٧٦ دار قطنی ،باب سؤر الھرة ،ج اول ،ص ٧١،نمبر٢١٧) اس حدیث کی بنا پر بلی کا جوٹھا ناپاک ہو نا چاہئے لیکن بار بار گھر میں آنے کی وجہ سے اسکا جوٹھا مکروہ قرار دے دیا گیا ۔ اور بار بار گھر میں آنے کی حدیث اوپر گزر چکی ہے ۔قال ان رسول اللہ ۖ قال انھا لیست بنجس انما ہی من الطوافین علیکم والطوافات (ترمذی شریف، باب ماجاء فی سور الھرة ص ٢٧ نمبر ٩٢)ان دونوں حدیثوںکو ملانے سے یہی ہو گا کہ بلی کا جوٹھا مکروہ ہے۔
ترجمہ : ٣ اور جو حدیث امام ابو یوسف نے ذکر کی وہ حرام ہونے سے پہلے پر محمول ہے ۔یعنی امام یوسف نے جو حدیث پیش کی کہ حضور ۖ بلی کے لئے برتن ٹیڑھا کرتے تھے اور بلی اس سے پیتی تھی اور اسی پانی سے آپ ۖ وضو فرماتے تھے ،جسکا مطلب یہ ہواکہ وہ پاک ہے ،اسکا مطلب یہ ہے کہ شروع اسلام میں اسکا جوٹھا پاک تھا بعد میں اسکو مکروہ قرار دے دیا گیا ،اسلئے وہ حدیث حرام ہو نے سے پہلے کی ہے ۔
ترجمہ : ٤ پھر کہا گیا ہے کراہیت اسکے گوشت کی حرمت کی وجہ سے ہے ،اور یہ بھی کہا گیا کہ اسکے نجاست سے نہ بچنے کی وجہ سے ہے ،اور یہ اشارہ کرتا ہے کہ مکروہ تنزیہی کی طرف اور پہلی دلیل شارہ کرتی ہے حرام کے قریب کی طرف ۔
تشریح : بلی کا جوٹھا مکروہ ہے اسکی دو وجہ بیان کی جا رہی ہیں ۔ (١) ایک یہ کہ بلی کا گوشت حرام ہے اسلئے اسکا جوٹھا ناپاک ہے ،