الکلب والخنزیر ٢ لان لحمھما نجس، و منہ یتولد اللعاب و ھو المعتبر فی الباب۔ (٧١ ) و سوء ر الھرة مکروہ ) ١ و عن ابی یوسف انہ غیر مکروہ لان النبی علیہ السلام کان یصغی لھا الاناء
أفضلت السباع ( دار قطنی ،باب الآسار ،ج اول ص ٦١ نمبر ١٧٣ سنن للبیھقی ، باب سئور سائر الحیوانات سوی الکلب و الخنزیر ،ج اول ،ص ٣٧٨ ، نمبر ١١٧٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوسرے جانوروں کا جو ٹھا پاک ہے ، تبھی تو آپ نے سب جانوروں کے جوٹھے سے وضو کرنے کے لئے فرمایا ،سوائے کتا اور سور کے ۔
ترجمہ : ٢ اسلئے کہ ان دونوں کا گوشت نجس ہے اور اسی نجس گوشت سے لعاب پیدا ہو تا ہے ، اور اس باب میں وہی معتبر ہے ۔
تشریح : یہ عبارت امام شافعی کی بھی دلیل ہے اور حنفیہ کی بھی دلیل ہے ،کہ کتے اور سور کا گوشت نجس ہے اور لعاب نجس گوشت سے پیدا ہوا اسلئے اسکا جوٹھا بھی ناپاک ہے ۔ کیونکہ گوشت ہی اس باب میں معتبر ہے ۔ جیسا گوشت ویسا اسکا جوٹھا ۔
ترجمہ : (٧١) بلی کا جوٹھا پاک ہے لیکن مکروہ ہے ۔
وجہ: (١)بلی پھاڑ کھانے والا جانور ہے اس لئے اس کا جوٹھا ناپاک ہونا چاہئے لیکن یہ گھر میں رہتی ہے اور اس سے بچنا مشکل ہے اس لئے شریعت نے تسہیل دیدی اور اس کا جوٹھا مکروہ ہوا۔ (٢)حدیث میں ہے عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال یغسل الاناء اذا ولغ فیہ الکلب سبع مرات اولاھن واخراھن بالتراب واذا ولغت فیہ الھرة غسل مرة۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی سور الکلب ص ٢٧ نمبر ٩١)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلی کا جوٹھا ناپاک ہے تب ہی تو ایک مرتبہ دھونے کے لئے کہا (٢)عن ابی ھریرة قال النبی ۖ السنور سبع (سنن البیھقی، باب سور الھرة ج اول ص ١١٧٦٢٧٧ دار قطنی باب سؤر الھرة ج اول ٧١ نمبر ٢١٧)جب بلی پھاڑ کھانے والی ہے تو اسکا گوشت ناپاک ہوا ، اسلئے اسکا جوٹھا بھی ناپاک ہوگا ۔لیکن دوسری حدیث ہے جس سے معلوم ہو تا ہیکہ اسکے جوٹھے میں تسہیل ہے کیونکہ یہ ہمیشہ گھر میں رہتی ہے اسلئے اسکے جوٹھے کو ناپاک قرار دیں تو معاملہ مشکل ہو جائے گا ۔حدیث یہ ہے ۔ عن کبشة بنت کعب بن مالک۔ان ابا قتادة دخل علیھا قالت فسکبت لہ وضوء ا ً قالت فجائت ھرة تشرب فأصغی ٰ لھا الاناء حتی شربت ، قالت کبشة فرأنی انظر الیہ فقال أ تعجبین یا ابنة اخی ؟ فقلت نعم ،قال ان رسول اللہ ۖ قال انھا لیست بنجس انما ہی من الطوافین علیکم والطوافات (ترمذی شریف، باب ماجاء فی سور الھرة ص ٢٧ نمبر ٩٢ ابوداؤد شریف،باب سؤر الھرة ،ص ١٢، نمبر ٧٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلی کا جھوٹا پاک ہے۔ اس لئے دونوں حدیثوں کو ملانے کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ بلی کا جوٹھا مکروہ تنزیہی ہے۔ یہی حال گھر میں رہنے والے تمام جانوروں کا ہے۔
ترجمہ : ١ حضرت امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ بلی کا جوٹھا مکروہ نہیں ہے ، اسلئے کے حضور اسکے لئے برتن کو ٹیڑھا کرتے