Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

176 - 627
الکلب والخنزیر ٢  لان لحمھما نجس،  و منہ یتولد اللعاب و ھو المعتبر فی الباب۔ (٧١ )  و سوء ر الھرة مکروہ )      ١ و عن ابی یوسف انہ غیر مکروہ لان النبی علیہ السلام کان یصغی لھا الاناء 

أفضلت السباع ( دار قطنی ،باب الآسار ،ج اول ص ٦١ نمبر ١٧٣  سنن للبیھقی ، باب سئور سائر الحیوانات سوی الکلب و الخنزیر ،ج اول ،ص ٣٧٨ ، نمبر ١١٧٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوسرے جانوروں کا جو ٹھا پاک ہے ، تبھی تو آپ نے سب جانوروں کے جوٹھے سے وضو کرنے کے لئے فرمایا ،سوائے کتا اور سور کے ۔
ترجمہ :  ٢  اسلئے کہ ان دونوں کا گوشت نجس ہے اور اسی نجس گوشت سے لعاب پیدا ہو تا ہے ، اور اس باب میں وہی معتبر ہے ۔
تشریح :  یہ عبارت امام شافعی کی بھی دلیل ہے اور حنفیہ کی بھی دلیل ہے ،کہ کتے اور سور کا گوشت نجس ہے اور لعاب نجس گوشت سے پیدا ہوا اسلئے اسکا جوٹھا بھی ناپاک ہے  ۔ کیونکہ گوشت ہی اس باب میں معتبر ہے ۔ جیسا گوشت ویسا اسکا جوٹھا ۔
ترجمہ :   (٧١)   بلی کا جوٹھا پاک ہے لیکن مکروہ ہے ۔
وجہ:     (١)بلی پھاڑ کھانے والا جانور ہے اس لئے اس کا جوٹھا ناپاک ہونا چاہئے لیکن یہ گھر میں رہتی ہے اور اس سے بچنا مشکل ہے اس لئے شریعت نے تسہیل دیدی اور اس کا جوٹھا مکروہ ہوا۔ (٢)حدیث میں ہے  عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال یغسل الاناء اذا ولغ فیہ الکلب سبع مرات اولاھن واخراھن بالتراب واذا ولغت فیہ الھرة غسل مرة۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی سور الکلب ص ٢٧ نمبر ٩١)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلی کا جوٹھا ناپاک ہے تب ہی تو ایک مرتبہ دھونے کے لئے کہا (٢)عن ابی ھریرة قال النبی ۖ السنور سبع (سنن البیھقی، باب سور الھرة ج اول ص ١١٧٦٢٧٧ دار قطنی باب سؤر الھرة ج اول ٧١ نمبر ٢١٧)جب بلی پھاڑ کھانے والی ہے تو اسکا گوشت ناپاک ہوا ، اسلئے اسکا جوٹھا بھی ناپاک ہوگا ۔لیکن دوسری حدیث ہے جس سے معلوم ہو تا ہیکہ اسکے جوٹھے میں تسہیل ہے کیونکہ یہ ہمیشہ گھر میں رہتی ہے اسلئے اسکے جوٹھے کو ناپاک قرار دیں تو معاملہ مشکل ہو جائے گا ۔حدیث  یہ ہے ۔ عن کبشة بنت کعب بن مالک۔ان ابا قتادة دخل علیھا قالت فسکبت لہ وضوء ا ً قالت فجائت ھرة تشرب فأصغی ٰ لھا الاناء حتی شربت ، قالت کبشة فرأنی انظر الیہ فقال أ تعجبین یا ابنة اخی ؟ فقلت نعم ،قال  ان رسول اللہ ۖ قال انھا لیست بنجس انما ہی من الطوافین علیکم والطوافات (ترمذی شریف، باب ماجاء فی سور الھرة ص ٢٧ نمبر ٩٢ ابوداؤد شریف،باب سؤر الھرة ،ص ١٢، نمبر ٧٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلی کا جھوٹا پاک ہے۔ اس لئے دونوں حدیثوں کو ملانے کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ بلی کا جوٹھا مکروہ تنزیہی ہے۔ یہی حال گھر میں رہنے والے تمام جانوروں کا ہے۔
ترجمہ :   ١  حضرت امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ بلی کا جوٹھا مکروہ نہیں ہے ، اسلئے کے حضور اسکے لئے برتن کو ٹیڑھا کرتے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter