١ لانہ نجس العین علی ما مر۔ (٧٠ ) وسورسباع البھائم نجس) ١ خلافا للشافعی فیما سوی
ترجمہ : ١ اسلئے کہ وہ نجس العین ہے ۔
تشریح : سور خود نجس العین ہے اسلے اسکا جوٹھا بھی نجس ہو گا ۔سور نجس العین ہے اسکی دلیل یہ آیت ہے ۔ ولحم خنزیر فانہ رجس (آیت ١٤٥ سورة الانعام ٦) اس آیت میں سور کو نجس کہا گیا ہے ۔اسلئے اسکا جوٹھا بھی نجس ہے ۔
ترجمہ : (٧٠) اور پھاڑ کھانے والے جانور کا جوٹھا ناپاک ہے ۔
وجہ: پھاڑ کھانے والے جانور کا گوشت حلال نہیں ہے اس لئے اس کا جوٹھا بھی ناپاک ہے ۔اس لئے کہ وہ سبع یعنی درندہ جانور ہے۔ حدیث یہ ہے عن ابی ثعلبة ان رسول اللہ ۖ نھی عن اکل کل ذی ناب من السباع (بخاری شریف، باب اکل کل ذی ناب من السباع نمبر ٥٥٣٠مسلم شریف ،باب تحریم اکل کل ذی ناب من السباع و کل ذی مخلب من الطیر ،ص ٨٦٣ نمبر١٩٣٢ ٤٩٨٩) پہلے قاعدہ گزر چکا ہے کہ جس جانور کا گوشت حرام ہے اسکا جوٹھا بھی ناپاک ہے ،پھاڑ کھانے والے جانور کا گوشت حرام ہے اسلئے اسکا جوٹھا بھی ناپاک ہو گا ۔(یہ حدیث بھی انکا مستدل ہے ،أن عمر بن الخطاب خرج فی رکب فیھم عمر و بن العاص حتی وردوا حوضا فقال عمر و بن العاص لصاحب الحوض ھل ترد حوضک السباع ؟ فقال عمر بن الخطاب : یاصاحب الحوض لا تخبرنا فانا نردعلی السباع و ترد علینا ۔( سنن للبیھقی ،باب سور سائر الحیواناتسوی الکلب و الخنزیر ،ج اول ص ٣٧٩ نمبر ١١٨١) اس اثر میں ہے کہ ہمیں پھاڑ کھانے والے جانور کے پینے کے بارے میں خبر نہ دیں اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ اسکا جوٹھاناپاک ہے تب ہی تو فرمایا کہ خبر نہ دیں کیو نکہ خبر دینے سے پانی ناپاک ہو جائے گا ہم لوگ اسکو استعمال نہیں کر سکیں گے ۔
ترجمہ : ١ خلاف امام شافعی کے کتے اور سور کے علاوہ میں ۔
تشریح : امام شافعی فرماتے ہیں کہ کتا اور سور کا جوٹھا تو ناپاک ہے ،باقی دوسرے کسی پھاڑ کھانے والے جانور کاجو ٹھا ناپاک نہیں ہے ،موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔ قال: و لیس فی حی من بنی آدم ، ولا البھائم نجاسة الا فی ان یماس نجاسة ، و کل ما ادخل فیہ آدمی ، مسلم أو کافر یدہ أو شربت منہ دابة ما کانت ، فلیس ینجس الا دابتان : الکلب ، و الخنزیر ۔( موسوعة ،ما ینجس الماء مما خالطہ ،ج اول ص ٢٥ نمبر ٦٤ )اس عبارت سے معلوم ہوا کہ امام شافعی کے نزدیک صرف دو جانور ،یعنی کتا اور سور
کا جوٹھا ناپاک ہے باقی کا نہیں ۔
وجہ: انکی دلیل یہ حدیث ہے عن جابر قال : قیل یا رسول اللہ أ نتوضأ بما أفضلت الحمر ؟ قال و بما