Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

175 - 627
١   لانہ نجس العین علی ما مر۔ (٧٠ )  وسورسباع البھائم نجس)    ١ خلافا للشافعی فیما سوی 

 ترجمہ :   ١   اسلئے کہ وہ نجس العین ہے ۔
تشریح :   سور خود نجس العین ہے اسلے اسکا جوٹھا بھی نجس ہو گا ۔سور نجس العین ہے اسکی دلیل یہ آیت ہے  ۔  ولحم خنزیر فانہ رجس (آیت ١٤٥ سورة الانعام ٦)  اس آیت میں سور کو نجس کہا گیا ہے ۔اسلئے اسکا جوٹھا بھی نجس ہے ۔
ترجمہ :  (٧٠)  اور پھاڑ کھانے والے جانور کا جوٹھا ناپاک ہے ۔
وجہ:   پھاڑ کھانے والے جانور کا گوشت حلال نہیں ہے اس لئے اس کا جوٹھا بھی ناپاک ہے ۔اس لئے کہ وہ سبع یعنی درندہ جانور ہے۔ حدیث یہ ہے عن ابی ثعلبة ان رسول اللہ ۖ نھی عن اکل کل ذی ناب من السباع (بخاری شریف، باب اکل کل ذی ناب من السباع  نمبر ٥٥٣٠مسلم شریف ،باب تحریم اکل کل ذی ناب من السباع و کل ذی مخلب من الطیر ،ص ٨٦٣ نمبر١٩٣٢ ٤٩٨٩) پہلے قاعدہ گزر چکا ہے کہ جس جانور کا گوشت حرام ہے اسکا جوٹھا بھی ناپاک ہے ،پھاڑ کھانے والے جانور کا گوشت حرام ہے اسلئے  اسکا جوٹھا بھی ناپاک ہو گا ۔(یہ حدیث بھی انکا مستدل ہے ،أن عمر بن الخطاب خرج فی رکب فیھم عمر و بن العاص حتی وردوا حوضا فقال عمر و بن العاص لصاحب الحوض ھل ترد حوضک السباع ؟ فقال عمر بن الخطاب : یاصاحب الحوض لا تخبرنا فانا نردعلی السباع و ترد علینا ۔( سنن للبیھقی ،باب سور سائر الحیواناتسوی الکلب و الخنزیر ،ج اول ص ٣٧٩ نمبر ١١٨١) اس اثر میں ہے کہ ہمیں پھاڑ کھانے والے جانور کے پینے کے بارے میں خبر نہ دیں اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ اسکا جوٹھاناپاک ہے تب ہی تو فرمایا کہ خبر نہ دیں کیو نکہ خبر دینے سے پانی ناپاک ہو جائے گا ہم لوگ اسکو استعمال نہیں کر سکیں گے ۔
ترجمہ :  ١  خلاف امام شافعی کے کتے اور سور کے علاوہ میں ۔
تشریح :   امام شافعی  فرماتے ہیں کہ کتا اور سور کا جوٹھا تو ناپاک ہے ،باقی دوسرے کسی پھاڑ کھانے والے جانور کاجو ٹھا ناپاک نہیں ہے ،موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔ قال: و لیس فی حی من بنی آدم ، ولا البھائم نجاسة الا فی ان یماس نجاسة ، و کل ما ادخل فیہ آدمی ، مسلم أو کافر یدہ أو شربت منہ دابة ما کانت ، فلیس ینجس الا دابتان : الکلب ، و الخنزیر  ۔( موسوعة ،ما ینجس الماء مما خالطہ ،ج اول ص ٢٥ نمبر ٦٤ )اس عبارت سے معلوم ہوا کہ امام شافعی  کے نزدیک صرف دو جانور ،یعنی کتا اور سور 
کا جوٹھا ناپاک ہے باقی کا نہیں ۔
وجہ:   انکی دلیل  یہ حدیث ہے عن  جابر قال : قیل یا رسول اللہ أ نتوضأ بما أفضلت الحمر ؟ قال و بما 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter