Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

174 - 627
٢ وھوحجة علی الشافعی  فی اشتراط السبع ٣ ولان ما یصیبہ بولہ یطھر بالثلٰث  فما یصیبہ سورہ و ھو دونہ اولی    ٤   والامر الوارد بالسبع محمول علی ابتداء الاسلام۔   (٦٩ ) وسورالخنزیر نجس)  

میں تین مرتبہ دھونے کا حکم ہے 
ترجمہ :  ٢  اور یہ حدیث امام شافعی  پر حجت ہے سات مرتبہ دھونے کی شرط لگانے کے بارے میں ۔
تشریح :   امام شافعی  فرماتے ہیں کہ کتا برتن میں منہ ڈالدے تو اسکو سات مرتبہ دھوو تب پاک ہو گا ،  موسوعة میں یہ عبارت ہے قال الربیع سألت الشافعی  عن الکلب یلغ فی الاناء لا یکون فیہ قلتان أو فی اللبن أو المرق ،فقال یھراق الماء و اللبن و المرق ، لا ینتفعون بہ ، ویغسل الاناء سبع مرات ۔( موسوعة ، باب الکلب یلغ فی الاناء ،ج اول ،ص ٤٨ نمبر ١٧٥ )انکی دلیل اوپر کی حدیث ہے عن ابی ھریرة  ان رسول اللہ ۖ قال اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعا(بخاری شریف، باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ  سبعا، ص٢٩، نمبر ١٧٢ ابو داود شریف ،باب ماجاء فی سور الکلب ، ص ٢٧ نمبر ٩١) اس حدیث میں سات مرتبہ دھونے کا حکم ہے ۔
ترجمہ :   ٣   اور اسلئے بھی کہ برتن کو کتے کا پیشاب لگ جائے تو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے تو جسکو اسکا جوٹھا لگ جائے جو پیشاب سے کم ہے تو بدرجہ اولی تین مرتبہ میں پاک ہو جائے گا ۔
تشریح :   یہ امام شافعی  کو جواب ہے کہ کتے کا پیشاب اسکے تھوک سے بھی زیادہ ناپاک ہے پھر بھی اسکو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے ۔ تو جوٹھا اس سے کم ناپاک ہے تو تین مرتبہ دھونے سے بدرجہ اولی پاک ہو جائے گا ۔
ترجمہ :  ٤  اور سات مرتبہ کا جو حکم وارد ہوا ہے وہ شروع اسلام کا ہے ۔
تشریح :   یہ جو حدیث میں سات مرتبہ دھونے کا حکم ہے وہ شروع اسلام میں تھا بعد میں اسکی تسہیل کر دی گئی ۔شروع اسلام میں کتوں سے نفرت دلانے کے لئے اسکو مارنے کا بھی حکم تھا بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔اسکی دلیل یہ حدیث ہے عن جابر قال أمر نبی اللہ بقتل الکلاب حتی ان کانت المرأة تقدم من البادیة یعنی بالکلب فنقتلہ ، ثم نہانا عن قتلھا و قال : علیکم بالاسود ۔( ابو داود شریف ،باب اتخاذ الکلب للصید و غیرہ ،ص ٤١٤ نمبر ٢٨٤٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کے بارے میں پہلے شدت تھی بعد میں تسہیل ہو گئی ۔اسی طرح اسکے جوٹھے کے بارے میں پہلے شدت تھی اس وقت سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا بعد میں تسہیل ہو گئی تو تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا ۔
 ترجمہ :   (٦٩)اور سور کا جوٹھا نجس ہے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter