٢ وھوحجة علی الشافعی فی اشتراط السبع ٣ ولان ما یصیبہ بولہ یطھر بالثلٰث فما یصیبہ سورہ و ھو دونہ اولی ٤ والامر الوارد بالسبع محمول علی ابتداء الاسلام۔ (٦٩ ) وسورالخنزیر نجس)
میں تین مرتبہ دھونے کا حکم ہے
ترجمہ : ٢ اور یہ حدیث امام شافعی پر حجت ہے سات مرتبہ دھونے کی شرط لگانے کے بارے میں ۔
تشریح : امام شافعی فرماتے ہیں کہ کتا برتن میں منہ ڈالدے تو اسکو سات مرتبہ دھوو تب پاک ہو گا ، موسوعة میں یہ عبارت ہے قال الربیع سألت الشافعی عن الکلب یلغ فی الاناء لا یکون فیہ قلتان أو فی اللبن أو المرق ،فقال یھراق الماء و اللبن و المرق ، لا ینتفعون بہ ، ویغسل الاناء سبع مرات ۔( موسوعة ، باب الکلب یلغ فی الاناء ،ج اول ،ص ٤٨ نمبر ١٧٥ )انکی دلیل اوپر کی حدیث ہے عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعا(بخاری شریف، باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعا، ص٢٩، نمبر ١٧٢ ابو داود شریف ،باب ماجاء فی سور الکلب ، ص ٢٧ نمبر ٩١) اس حدیث میں سات مرتبہ دھونے کا حکم ہے ۔
ترجمہ : ٣ اور اسلئے بھی کہ برتن کو کتے کا پیشاب لگ جائے تو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے تو جسکو اسکا جوٹھا لگ جائے جو پیشاب سے کم ہے تو بدرجہ اولی تین مرتبہ میں پاک ہو جائے گا ۔
تشریح : یہ امام شافعی کو جواب ہے کہ کتے کا پیشاب اسکے تھوک سے بھی زیادہ ناپاک ہے پھر بھی اسکو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے ۔ تو جوٹھا اس سے کم ناپاک ہے تو تین مرتبہ دھونے سے بدرجہ اولی پاک ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٤ اور سات مرتبہ کا جو حکم وارد ہوا ہے وہ شروع اسلام کا ہے ۔
تشریح : یہ جو حدیث میں سات مرتبہ دھونے کا حکم ہے وہ شروع اسلام میں تھا بعد میں اسکی تسہیل کر دی گئی ۔شروع اسلام میں کتوں سے نفرت دلانے کے لئے اسکو مارنے کا بھی حکم تھا بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔اسکی دلیل یہ حدیث ہے عن جابر قال أمر نبی اللہ بقتل الکلاب حتی ان کانت المرأة تقدم من البادیة یعنی بالکلب فنقتلہ ، ثم نہانا عن قتلھا و قال : علیکم بالاسود ۔( ابو داود شریف ،باب اتخاذ الکلب للصید و غیرہ ،ص ٤١٤ نمبر ٢٨٤٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کے بارے میں پہلے شدت تھی بعد میں تسہیل ہو گئی ۔اسی طرح اسکے جوٹھے کے بارے میں پہلے شدت تھی اس وقت سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا بعد میں تسہیل ہو گئی تو تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا ۔
ترجمہ : (٦٩)اور سور کا جوٹھا نجس ہے ۔