Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

169 - 627
متی اصابتہ،   ٢ ولابی حنیفة  ان للموت سبباً ظاہرا وھوالوقوع فی الماء فیحال بہ علیہ الا ان الانتفاخ دلیل التقادم فیقدر بالثلث،  وعدم الانتفاخ،  و التفسخ دلیل قرب العھد فقدرناہ بیوم و لیلة لان ما دون ذالک ساعات لا یمکن ضبطھا ٣ واما، مسئلة النجاسة فقد قال المعلی: ھی علی الخلاف فیقدربالثلث فی البالی، ویوم ولیلة فی الطری  ٤  و لوسلم فالثوب بمرأٔی عینہ و البئر غایبة 

تشریح :  یقین ہے کہ پانی پاک ہے البتہ شک ہے کہ تین دن پہلے جانور گر کر مرا ہو گا اسلئے صرف شک سے تین دن پہلے سے پانی ناپاک نہیں قرار دیا جائیگا ۔جیسے کپڑا پر ناپاکی لگ گئی ہو اور شک ہوکہ تین دن پہلے لگی ہوگی پھر بھی تین دن پہلے سے ناپاکہو نے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ جس وقت دیکھا اسی وقت سے ناپاک ہو نے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔اسی طرح یہاں بھی جسوقت دیکھا اسی وقت سے ناپاک ہو نے کا فیصکہ کیا جائے گا ۔
ترجمہ :   ٢  اور امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ موت کا سبب ظاہر ہے اور وہ  پانی میں گرناہے اسلئے موت کو اسی پر محمول کیا جاے گا ،مگر یہ کہ پھولنا پرانے ہونے کی دلیل ہے اسلئے تین دن سے اندازہ لگا یا جائے گا ،اور نہ پھولنا اور نہ پھٹنا قریب ہو نے کی دلیل ہے اسلئے اسکا اندازہ لگایا جائے گا کہ ایک دن اور ایک رات پہلے جانور گر کر مرا ہے اس لئے کہ اس سے کم تو کچھ گھنٹے ہوتے ہیں جسکا ضبط کرنا ممکن نہیں ہے ۔ 
 تشریح :   امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ جانور کے مرنے کا سبب ظاہر یہی ہے کہ پانی میں ہی گر کر مرا ہوگا اسلئے یہی سمجھا جائے گا اسی سے مرا ہے ۔اب اگر پھول پھٹ گیا ہو تواندازہ ہوا کہ تین دن پہلے گرا ہے کیونکہ تین دن میں پھولتا اور پھٹتا ہے ،اور اگرپھولا پھٹا نہ ہو تو اندازہ یہ ہے  گرنے کا وقت قریب ہے  اسلئے ایک دن کا فیصلہ کیا جائے  ،کیونکہ اس سے پہلے تو کچھ گھنٹے ہونگے جسکا منضبط کر نا مشکل ہے ۔
ترجمہ :   ٣  بہر حال نجاست کامسئلہ تو معلی نے فرمایا کہ یہ بھی اختلاف پر ہے اسلئے خشک نجاست میں تین دن کا اندازہ لگا یا جائیگا اور تر نجاست میں ایک دن اور ایک رات کا اندازہ لگا یا جائیگا ۔
تشریح :   یہ امام ابو حنیفہ  کی جانب سے صاحبین کو جواب ہے کہ نجاست کے مسئلے میں  اتفاق نہیں ہے کہ آپ اس سے استدلال کر سکیں بلکہ اس میں اختلاف ہے ،چنانچہ حضرت معلی ابن منصورنے فرمایا کہ کپڑے میں نجاست لگ جائے اور معلوم نہ ہو کہ کب لگی ہے تو اگر خشک ہو تو تین دن اور تین رات پہلے لگی ہوئی سمجھی جائے اور اگر تر ہو تو یہ سمجھا جائے کہ ایک دن ایک رات پہلے لگی ہو گی ۔کیونکہ ظاہری آثار یہی ہیںالبتہ اگر قرائن سے معلوم ہو کہ ابھی کچھ دیر پہلے لگی ہے تو کچھ دیر پہلے پر فیصلہ کیا جائے گا ۔  
ترجمہ :  ٤  اور اگر تسلیم کر لیا جائے تو کپڑے کا حال یہ ہے کہ وہ آنکھ کے سامنے ہیں اور کنواں آنکھ سے غائب ہے اسلئے دونوں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter