متی اصابتہ، ٢ ولابی حنیفة ان للموت سبباً ظاہرا وھوالوقوع فی الماء فیحال بہ علیہ الا ان الانتفاخ دلیل التقادم فیقدر بالثلث، وعدم الانتفاخ، و التفسخ دلیل قرب العھد فقدرناہ بیوم و لیلة لان ما دون ذالک ساعات لا یمکن ضبطھا ٣ واما، مسئلة النجاسة فقد قال المعلی: ھی علی الخلاف فیقدربالثلث فی البالی، ویوم ولیلة فی الطری ٤ و لوسلم فالثوب بمرأٔی عینہ و البئر غایبة
تشریح : یقین ہے کہ پانی پاک ہے البتہ شک ہے کہ تین دن پہلے جانور گر کر مرا ہو گا اسلئے صرف شک سے تین دن پہلے سے پانی ناپاک نہیں قرار دیا جائیگا ۔جیسے کپڑا پر ناپاکی لگ گئی ہو اور شک ہوکہ تین دن پہلے لگی ہوگی پھر بھی تین دن پہلے سے ناپاکہو نے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ جس وقت دیکھا اسی وقت سے ناپاک ہو نے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔اسی طرح یہاں بھی جسوقت دیکھا اسی وقت سے ناپاک ہو نے کا فیصکہ کیا جائے گا ۔
ترجمہ : ٢ اور امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ موت کا سبب ظاہر ہے اور وہ پانی میں گرناہے اسلئے موت کو اسی پر محمول کیا جاے گا ،مگر یہ کہ پھولنا پرانے ہونے کی دلیل ہے اسلئے تین دن سے اندازہ لگا یا جائے گا ،اور نہ پھولنا اور نہ پھٹنا قریب ہو نے کی دلیل ہے اسلئے اسکا اندازہ لگایا جائے گا کہ ایک دن اور ایک رات پہلے جانور گر کر مرا ہے اس لئے کہ اس سے کم تو کچھ گھنٹے ہوتے ہیں جسکا ضبط کرنا ممکن نہیں ہے ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ جانور کے مرنے کا سبب ظاہر یہی ہے کہ پانی میں ہی گر کر مرا ہوگا اسلئے یہی سمجھا جائے گا اسی سے مرا ہے ۔اب اگر پھول پھٹ گیا ہو تواندازہ ہوا کہ تین دن پہلے گرا ہے کیونکہ تین دن میں پھولتا اور پھٹتا ہے ،اور اگرپھولا پھٹا نہ ہو تو اندازہ یہ ہے گرنے کا وقت قریب ہے اسلئے ایک دن کا فیصلہ کیا جائے ،کیونکہ اس سے پہلے تو کچھ گھنٹے ہونگے جسکا منضبط کر نا مشکل ہے ۔
ترجمہ : ٣ بہر حال نجاست کامسئلہ تو معلی نے فرمایا کہ یہ بھی اختلاف پر ہے اسلئے خشک نجاست میں تین دن کا اندازہ لگا یا جائیگا اور تر نجاست میں ایک دن اور ایک رات کا اندازہ لگا یا جائیگا ۔
تشریح : یہ امام ابو حنیفہ کی جانب سے صاحبین کو جواب ہے کہ نجاست کے مسئلے میں اتفاق نہیں ہے کہ آپ اس سے استدلال کر سکیں بلکہ اس میں اختلاف ہے ،چنانچہ حضرت معلی ابن منصورنے فرمایا کہ کپڑے میں نجاست لگ جائے اور معلوم نہ ہو کہ کب لگی ہے تو اگر خشک ہو تو تین دن اور تین رات پہلے لگی ہوئی سمجھی جائے اور اگر تر ہو تو یہ سمجھا جائے کہ ایک دن ایک رات پہلے لگی ہو گی ۔کیونکہ ظاہری آثار یہی ہیںالبتہ اگر قرائن سے معلوم ہو کہ ابھی کچھ دیر پہلے لگی ہے تو کچھ دیر پہلے پر فیصلہ کیا جائے گا ۔
ترجمہ : ٤ اور اگر تسلیم کر لیا جائے تو کپڑے کا حال یہ ہے کہ وہ آنکھ کے سامنے ہیں اور کنواں آنکھ سے غائب ہے اسلئے دونوں