Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

168 - 627
(٦٣) وان وجدوا فی البئرفارة اوغیرھاولایدری متی وقعت ولم  ینتفخ اعادوا صلوة یوم و لیلة اذا کانو ا توضؤ ا منھا و غسلوا کل شیء اصابہ ماؤھا)   (٦٤) وان کانت قد انتفخت اوتفسخت اعادواصلوةثلٰثة ایام ولیالیھاوھذاعندابی حنیفة )   (٦٥)وقالالیس علیھم اعادة شیء حتی یتحققواانھا متی وقعت )  ١ لان الیقین لایزول بالشک، وصارکمن رأی فی ثوبہ النجاسة ولایدری 

ترجمہ :  (٦٣)  اگر کنویں میں چوہا پایا ،یا اس کے علاوہ مرا ہوا پایا جائے اور نہیں معلوم کہ کب گرا ہے اور ابھی پھولا اور پھٹا نہیں ہے تو ایک دن اور ایک رات کی نمازلوٹا ئی جائے گی جب کہ اس پانی سے وضو کیا ہو۔ اور ان تمام چیزوں کو دو بارہ دھویا جائے گا جن میں اس کا پانی لگا ہو۔
وجہ:    جانور کنویں میں مرا ہوا ملا اور کوئی علامت نہیں ہے کہ کب گرا ہے اور کب مرا ہے تو ایک دو گھنٹے کا کوئی معیار نہیں ہے اس لئے یہی سمجھا جائے گا کہ ایک دن ایک رات پہلے مرا ہے اور اس درمیان جن جن لوگوں نے اس پانی سے وضو کیا ہے اس کو وہ تمام نمازیں لوٹا نی ہوگی۔ کیونکہ ناپاک پانی سے نہ وضو ہو اور نہ نماز ہوئی۔ اور اس پانی سے ایک دن اور ایک رات کے درمیان جن لوگوں نے غسل کیا ہے یا کپڑا دھویا ہے ان کو بھی غسل اور نماز لوٹا نی ہوگی۔ کیونکہ ناپاک پانی سے غسل کیا ہے اور کپڑے دھویا ہے
 اصول :   احتیاط پر عمل کیا جائے گا۔
ترجمہ :  (٦٤)  اور اگر جانور پھول گیا یا پھٹ گیا تو تین دن اور تین راتوں کی نماز لوٹا ئے گاابو حنیفہ کے قول میں ۔
وجہ:   عموماجانور تین دن تین راتوں میں پھولتا اور پھٹتا ہے۔ اور اس کے خلاف علامت نہیں ہے اس لئے یہی کہا جائے گا کہ جانور تین دن پہلے گرا تھا اور مراتھا اور اب تین دن میں پھولا اور پھٹا ہے۔ اس لئے جن لوگوں نے اس دوران اس پانی کے وضو اور غسل سے نماز پڑھی وہ لوٹائیںگے۔حضرت  کا قول یقین اور احتیاط پر مبنی ہے۔
ترجمہ :  (٦٥)   اور صاحبین فرماتے ہیں کہ وضو کرنے والوں پر کسی چیز کا لوٹانا نہیں ہے جب تک تحقیق نہ ہو جائے کہ کب گرا ہے۔
 وجہ:    (١)حضرت امام ابو یوسف نے دیکھا کہ ایک پرندہ نے مردہ کو لا کر کنویں میں ڈالا جس سے وہ رجوع کر گئے اور فرمانے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ ابھی پھولے ہوئے چوہے کو کنویں میں ڈالا ہو ۔اس لئے تین دن پہلے کا حکم نہیں لگایا جائے گا(٢) یقین ہے کہ پانی پاک ہے اور شک ہے کہ تین دن پہلے جانور گرا ہو تو یقین پر عمل کرتے ہوئے ابھی تک پانی پاک قرار دیا جائے گا۔ اور جب سے مردہ جانور کو کنویں میں دیکھا ہے اس وقت سے کنواں ناپاک قرار دیا جائے گا۔
ترجمہ :  ١  اسلئے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہو تا ،تو ایسا ہوا کہ اپنے کپڑے میں نجاست دیکھی اور نہیں جانتا ہے کہ کب لگی ہے ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter