(٦٣) وان وجدوا فی البئرفارة اوغیرھاولایدری متی وقعت ولم ینتفخ اعادوا صلوة یوم و لیلة اذا کانو ا توضؤ ا منھا و غسلوا کل شیء اصابہ ماؤھا) (٦٤) وان کانت قد انتفخت اوتفسخت اعادواصلوةثلٰثة ایام ولیالیھاوھذاعندابی حنیفة ) (٦٥)وقالالیس علیھم اعادة شیء حتی یتحققواانھا متی وقعت ) ١ لان الیقین لایزول بالشک، وصارکمن رأی فی ثوبہ النجاسة ولایدری
ترجمہ : (٦٣) اگر کنویں میں چوہا پایا ،یا اس کے علاوہ مرا ہوا پایا جائے اور نہیں معلوم کہ کب گرا ہے اور ابھی پھولا اور پھٹا نہیں ہے تو ایک دن اور ایک رات کی نمازلوٹا ئی جائے گی جب کہ اس پانی سے وضو کیا ہو۔ اور ان تمام چیزوں کو دو بارہ دھویا جائے گا جن میں اس کا پانی لگا ہو۔
وجہ: جانور کنویں میں مرا ہوا ملا اور کوئی علامت نہیں ہے کہ کب گرا ہے اور کب مرا ہے تو ایک دو گھنٹے کا کوئی معیار نہیں ہے اس لئے یہی سمجھا جائے گا کہ ایک دن ایک رات پہلے مرا ہے اور اس درمیان جن جن لوگوں نے اس پانی سے وضو کیا ہے اس کو وہ تمام نمازیں لوٹا نی ہوگی۔ کیونکہ ناپاک پانی سے نہ وضو ہو اور نہ نماز ہوئی۔ اور اس پانی سے ایک دن اور ایک رات کے درمیان جن لوگوں نے غسل کیا ہے یا کپڑا دھویا ہے ان کو بھی غسل اور نماز لوٹا نی ہوگی۔ کیونکہ ناپاک پانی سے غسل کیا ہے اور کپڑے دھویا ہے
اصول : احتیاط پر عمل کیا جائے گا۔
ترجمہ : (٦٤) اور اگر جانور پھول گیا یا پھٹ گیا تو تین دن اور تین راتوں کی نماز لوٹا ئے گاابو حنیفہ کے قول میں ۔
وجہ: عموماجانور تین دن تین راتوں میں پھولتا اور پھٹتا ہے۔ اور اس کے خلاف علامت نہیں ہے اس لئے یہی کہا جائے گا کہ جانور تین دن پہلے گرا تھا اور مراتھا اور اب تین دن میں پھولا اور پھٹا ہے۔ اس لئے جن لوگوں نے اس دوران اس پانی کے وضو اور غسل سے نماز پڑھی وہ لوٹائیںگے۔حضرت کا قول یقین اور احتیاط پر مبنی ہے۔
ترجمہ : (٦٥) اور صاحبین فرماتے ہیں کہ وضو کرنے والوں پر کسی چیز کا لوٹانا نہیں ہے جب تک تحقیق نہ ہو جائے کہ کب گرا ہے۔
وجہ: (١)حضرت امام ابو یوسف نے دیکھا کہ ایک پرندہ نے مردہ کو لا کر کنویں میں ڈالا جس سے وہ رجوع کر گئے اور فرمانے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ ابھی پھولے ہوئے چوہے کو کنویں میں ڈالا ہو ۔اس لئے تین دن پہلے کا حکم نہیں لگایا جائے گا(٢) یقین ہے کہ پانی پاک ہے اور شک ہے کہ تین دن پہلے جانور گرا ہو تو یقین پر عمل کرتے ہوئے ابھی تک پانی پاک قرار دیا جائے گا۔ اور جب سے مردہ جانور کو کنویں میں دیکھا ہے اس وقت سے کنواں ناپاک قرار دیا جائے گا۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہو تا ،تو ایسا ہوا کہ اپنے کپڑے میں نجاست دیکھی اور نہیں جانتا ہے کہ کب لگی ہے ۔