Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

167 - 627
لکل قدرمنھاعشردلائ،وھذان عندابی یوسف ٣ و عن محمد نزح مائتادلوالی ثلث مائة، فکانہ بنی قولہ علی ماشاھدفی بلدہ ٤ وعن ابی حنیفة فی الجامع الصغیرفی مثلہ ینزح حتی یغلبھم المائ،ولم یقدرالغلبةبشیء  کما ھودابہ ٥ وقیل یؤخذ بقول  رجلین لھمابصارة فی امر الماء وھذااشبہ بالفقہ

ضرب دیں تو دوسو ڈول نکالنے سے گویا کہ پورے کنویں کا پانی نکل جائے گا ۔یہ رائے امام ابو یوسف  کی ہے۔
ترجمہ :  ٣  اور امام محمد  سے منقول ہے کہ دو سو سے تین سوڈول نکالا جائے،گویا کہ اپنے قول کی بنیاد انہوں نے اس پر رکھی جو اپنے شہر کے کنویں میں دیکھا  ۔
تشریح :   اپنے شہر بغداد میں دیکھا کہ عام طور پر انکے کنووں میں دو سو سے تین سو ڈول تک پانی ہو تا ہے اسلئے یہ فرمایا کہ دو سو سے تین سو ڈول تک نکال دے تو کنواں پاک ہو جائے گا ۔اس میں عوام کے لئے سہولت ہے ۔کہ تین سو ڈول نکال دے تو کنواں پاک ہو جائے گا ۔
ترجمہ :   ٤  اور امام ابوحنیفہ  سے جامع صغیر میں اس جیسے چشمے دار کنویں کے بارے میں یہ ہے کہ اتنا پانی نکالوکہ پانی غالب آجائے ،البتہ کسی چیز سے غلبہ کی تعیین نہیں کی ،جیسا کہ انکا طریقہ ہے ۔
تشریح :   جامع صغیر میں امام ابوحنیفہ  کا مسلک یہ لکھا ہے کہ چشمے دار کنواں ہو اور ناپاک ہو جائے تو اتنا پانی نکالو کہ پانی غالب آجائے اور مزید نکالنا مشکل ہو جائے ۔عبارت یہ ہے  و ان کانت شاة نزحت حتی یغلب الماء و کذالک ان انتفخت شیء من ذالک أو تفسخ ۔( جامع صغیر ،باب فی النجاسة تقع فی الماء ،ص ٧٨ ) ۔یہ مسلک ایک اثرسے مستنبط ہے ،اثر یہ ہے عن علی  فی الفارة تقع فی البئر قال : ینزح الی أن یغلبھم المائ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، فی الفارة  ج اول ،ص  ١٤٩،نمبر١٧١١) اس اثر میں ہے کہ پانی نکالنا جب تک مشکل نہ ہو پانی نکالتا رہے ۔
ترجمہ :   ٥  اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو ایسے آدمیوں کی بات لی جائے جنکو پانی کی مقدار کے معاملے میں مہارت ہو ،اور یہ فقہ کے زیادہ مناسب ہے ۔
 لغت :   معینا  :  چشمہ والا کنواں،عین سے مشتق ہے۔تحفر : کنواں کھودنا ۔ یصب : پانی بہایا جائے۔تمتلی: بھر جائے ،ملأ سے مشتق ہے ۔ترسل : ڈالا جائے ۔قصبة : بانس ۔مبلغ : جہاں تک پانی پہنچے ۔دلاء : دلو کا جمع ہے ،ڈول۔دأب: طریقہ ،عادت ۔بصارة : مہارت ۔
 نوٹ:   مردہ جانور پہلے نکالے اس کے بعد ڈول سے یہ سب مقدار نکالے تب پاک ہوگا۔
 اصول:   اصل مقصد کنویں میں  موجود تمام پانی کو نکالنا ہے۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter