لکل قدرمنھاعشردلائ،وھذان عندابی یوسف ٣ و عن محمد نزح مائتادلوالی ثلث مائة، فکانہ بنی قولہ علی ماشاھدفی بلدہ ٤ وعن ابی حنیفة فی الجامع الصغیرفی مثلہ ینزح حتی یغلبھم المائ،ولم یقدرالغلبةبشیء کما ھودابہ ٥ وقیل یؤخذ بقول رجلین لھمابصارة فی امر الماء وھذااشبہ بالفقہ
ضرب دیں تو دوسو ڈول نکالنے سے گویا کہ پورے کنویں کا پانی نکل جائے گا ۔یہ رائے امام ابو یوسف کی ہے۔
ترجمہ : ٣ اور امام محمد سے منقول ہے کہ دو سو سے تین سوڈول نکالا جائے،گویا کہ اپنے قول کی بنیاد انہوں نے اس پر رکھی جو اپنے شہر کے کنویں میں دیکھا ۔
تشریح : اپنے شہر بغداد میں دیکھا کہ عام طور پر انکے کنووں میں دو سو سے تین سو ڈول تک پانی ہو تا ہے اسلئے یہ فرمایا کہ دو سو سے تین سو ڈول تک نکال دے تو کنواں پاک ہو جائے گا ۔اس میں عوام کے لئے سہولت ہے ۔کہ تین سو ڈول نکال دے تو کنواں پاک ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٤ اور امام ابوحنیفہ سے جامع صغیر میں اس جیسے چشمے دار کنویں کے بارے میں یہ ہے کہ اتنا پانی نکالوکہ پانی غالب آجائے ،البتہ کسی چیز سے غلبہ کی تعیین نہیں کی ،جیسا کہ انکا طریقہ ہے ۔
تشریح : جامع صغیر میں امام ابوحنیفہ کا مسلک یہ لکھا ہے کہ چشمے دار کنواں ہو اور ناپاک ہو جائے تو اتنا پانی نکالو کہ پانی غالب آجائے اور مزید نکالنا مشکل ہو جائے ۔عبارت یہ ہے و ان کانت شاة نزحت حتی یغلب الماء و کذالک ان انتفخت شیء من ذالک أو تفسخ ۔( جامع صغیر ،باب فی النجاسة تقع فی الماء ،ص ٧٨ ) ۔یہ مسلک ایک اثرسے مستنبط ہے ،اثر یہ ہے عن علی فی الفارة تقع فی البئر قال : ینزح الی أن یغلبھم المائ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، فی الفارة ج اول ،ص ١٤٩،نمبر١٧١١) اس اثر میں ہے کہ پانی نکالنا جب تک مشکل نہ ہو پانی نکالتا رہے ۔
ترجمہ : ٥ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو ایسے آدمیوں کی بات لی جائے جنکو پانی کی مقدار کے معاملے میں مہارت ہو ،اور یہ فقہ کے زیادہ مناسب ہے ۔
لغت : معینا : چشمہ والا کنواں،عین سے مشتق ہے۔تحفر : کنواں کھودنا ۔ یصب : پانی بہایا جائے۔تمتلی: بھر جائے ،ملأ سے مشتق ہے ۔ترسل : ڈالا جائے ۔قصبة : بانس ۔مبلغ : جہاں تک پانی پہنچے ۔دلاء : دلو کا جمع ہے ،ڈول۔دأب: طریقہ ،عادت ۔بصارة : مہارت ۔
نوٹ: مردہ جانور پہلے نکالے اس کے بعد ڈول سے یہ سب مقدار نکالے تب پاک ہوگا۔
اصول: اصل مقصد کنویں میں موجود تمام پانی کو نکالنا ہے۔