(٦٢)و ان کانت البیرمعینة بحیث لایمکن نزحھا اخرجوا مقدارماکان فیھا من المائ) ١ وطریق معرفتہ ان تحفرحفر مثل موضع الماء من البئرویصب فیھاماینزح منھاالی ان تمتلی ٢ أو ترسل فیھا قصبة و تجعل لمبلغ الماء علامة ثم ینزح منھامثلا عشر دلاء ثم تعاد القصبة فینظرکم انتقص فینزح
لغت : انتفخ : پھول جائے۔ تفسخ : پھٹ جائے۔
ترجمہ : (٦٢) اگر کنواں چشمہ دار ہو کہ پورا پانی نہیں نکالا جا سکتا ہو تو واجب ہے اتنا نکالنا جتنی مقدار اس میں پانی ہے۔
تشریح : کنویں کے اندر چشمہ جاری ہے اور اتنا پانی نکلتا رہتا ہے کہ سب پانی بیک وقت نکال کر سکھانا مشکل ہے تو یہ کیا جائے کہ ابھی کنویں میں جتنا پانی ہے اسکو نکال دیا جائے اور جو پانی آرہا ہے اسکو چھوڑ دیا جائے۔ زمزم کنویں میں حبشی گرا تھا جس کی وجہ سے پورا پانی نکالنا چاہا لیکن چشمے کی وجہ سے نہیں نکال سکے۔لیکن جتنا پانی کنویں میں تھا اس کوحضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا اتنا نکالنا کافی ہے۔ عبارت یہ ہے۔فنظرو فاذا عین تنبع من قبل الحجر الاسود قال فقال ابن الزبیرحسبکم (مصنف ابن ابی شیبة ،١٩٨ فی الفارة والدجاجة واشباھھما تقع فی البئر ،ج اول، ص ١٥٠، نمبر ١٧٢١) اس اثر میں ہے کہ کنویں میں جتنا پانی تھا اتنا نکال دینا کافی ہے ۔ کنویں میں پانی ہے اسکو اندازہ کر نے کے لئے کئی طریقہ بیان کیا جا رہا ہے ۔
ترجمہ : ١ اسکے پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ کنویں کے پانی کے مطابق گڑھا کھودا جائے پھرجو پانی کنویں سے نکالا جائے وہ اس میں ڈالا جائے یہاں تک کہ گڑھا بھر جائے ۔
تشریح : کنویں میں جتنا پانی ہے وہ سب نکل گیا اور کنواں پاک ہو گیا اسکا اندازہ کرنے کے لئے ایک طریقہ یہ ہے کہ کنواں میں مثلا دس فٹ گہرا اور چار فٹ چوڑا پانی ہے ،اسی طرح دس فٹ گہرا اور چار فٹ چوڑا گڑھا کھودا جائے اور کنویں سے نکال نکال کر اس میں پانی بھرا جاے جب یہ گڑھا بھر جائے تو سمجھو کہ اتنا پانی نکل گیا جتنا پانی کنویں میں پہلے تھا ۔اور اتنا ہی نکالنے سے کنواں پاک ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٢ یا کنویں میں بانس ڈالا جائے اور پانی کے پہنچنے تک علامت لگائی جائے پھر کنویں سے مثلا دس ڈول نکالا جائے پھر بانس ڈالا جائے اور دیکھا جائے کہ کتنا کم ہوا ہے پھر ہر مقدار کے لئے دس ڈول نکالے جائیں ،اور یہدونوں طریقے امام ابو یوسف سے منقول ہے ۔
تشریح : کنویں میں کتنا پانی ہے اسکا اندازہ کرنے کے لئے یہ دوسری شکل ہے ۔کہ کنواں میں بانس ڈالا جائے اور جہاں تک پانی آئے اس پر نشان لگا دیا جائے ،اسکے بعد مثلا دس ڈول نکالا جائے پھر دوبارہ بانس ڈال کر دیکھے کہ کتنا کم ہوا ،مثلا دس ڈول نکالنے پر آدھا فٹ کم ہوا تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ دس ڈول میں آدھا فٹ کم ہو تا ہے اور کنویں میں دس فٹ گہرا پانی ہے اسلئے دس کو بیس سے