Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

166 - 627
(٦٢)و ان کانت البیرمعینة بحیث لایمکن نزحھا اخرجوا مقدارماکان فیھا من المائ)     ١  وطریق معرفتہ ان تحفرحفر مثل موضع الماء من البئرویصب فیھاماینزح منھاالی ان تمتلی ٢  أو ترسل فیھا قصبة و تجعل لمبلغ الماء علامة ثم ینزح منھامثلا عشر دلاء ثم تعاد القصبة فینظرکم انتقص فینزح 

 لغت :    انتفخ  :  پھول جائے۔  تفسخ  :  پھٹ جائے۔
ترجمہ :  (٦٢)   اگر کنواں چشمہ دار ہو کہ پورا پانی نہیں نکالا جا سکتا ہو تو واجب ہے اتنا نکالنا جتنی مقدار اس میں پانی ہے۔
 تشریح :  کنویں کے اندر چشمہ جاری ہے اور اتنا پانی نکلتا رہتا ہے کہ سب پانی بیک وقت نکال کر سکھانا مشکل ہے تو یہ کیا جائے کہ ابھی کنویں میں جتنا پانی ہے اسکو نکال دیا جائے اور جو پانی آرہا ہے اسکو چھوڑ دیا جائے۔ زمزم کنویں میں حبشی گرا تھا جس کی وجہ سے پورا پانی نکالنا چاہا لیکن چشمے کی وجہ سے نہیں نکال سکے۔لیکن جتنا پانی کنویں میں تھا اس کوحضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا اتنا نکالنا کافی ہے۔ عبارت یہ  ہے۔فنظرو فاذا عین تنبع من قبل الحجر الاسود قال فقال ابن الزبیرحسبکم (مصنف ابن ابی شیبة ،١٩٨ فی الفارة والدجاجة واشباھھما تقع فی البئر ،ج اول، ص ١٥٠، نمبر ١٧٢١)   اس اثر میں ہے کہ کنویں میں جتنا پانی تھا اتنا نکال دینا کافی ہے ۔ کنویں میں پانی ہے اسکو اندازہ کر نے کے لئے کئی طریقہ بیان کیا جا رہا ہے ۔
ترجمہ :   ١  اسکے پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ کنویں کے پانی کے مطابق گڑھا کھودا جائے پھرجو پانی کنویں سے نکالا جائے  وہ اس میں ڈالا جائے یہاں تک کہ گڑھا بھر جائے ۔
تشریح :   کنویں میں جتنا پانی ہے وہ سب نکل گیا اور کنواں پاک ہو گیا اسکا اندازہ کرنے کے لئے ایک طریقہ یہ ہے کہ کنواں میں مثلا دس فٹ گہرا اور چار فٹ چوڑا پانی ہے ،اسی طرح دس فٹ گہرا اور چار فٹ چوڑا گڑھا کھودا جائے اور کنویں سے نکال نکال کر اس میں پانی بھرا جاے جب یہ گڑھا بھر جائے تو سمجھو کہ اتنا پانی نکل گیا جتنا پانی کنویں میں پہلے تھا ۔اور اتنا ہی نکالنے سے کنواں پاک ہو جائے گا  ۔
ترجمہ :  ٢   یا کنویں میں بانس ڈالا جائے اور پانی کے پہنچنے تک علامت لگائی جائے پھر کنویں سے مثلا دس ڈول نکالا جائے پھر بانس ڈالا جائے اور دیکھا جائے کہ کتنا کم ہوا ہے پھر ہر مقدار کے لئے دس ڈول نکالے جائیں  ،اور یہدونوں طریقے امام ابو یوسف  سے منقول ہے ۔
تشریح :   کنویں میں کتنا پانی ہے اسکا  اندازہ کرنے کے لئے یہ دوسری شکل ہے ۔کہ کنواں میں بانس ڈالا جائے اور جہاں تک پانی آئے اس پر نشان لگا دیا جائے ،اسکے بعد مثلا دس ڈول نکالا جائے پھر دوبارہ بانس ڈال کر دیکھے کہ کتنا کم ہوا ،مثلا دس ڈول نکالنے پر آدھا فٹ کم ہوا تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ دس ڈول میں آدھا فٹ کم ہو تا ہے اور کنویں میں دس فٹ گہرا پانی ہے اسلئے دس کو بیس سے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter