Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

165 - 627
(٦١ ) فان انتفخ الحیوان فیھا،  او تفسخ نزح جمیع ما فیھا صغر الحیوان، اوکبرہ)  ١ لانتشار البلة فی اجزاء الماء  

الفارة ، تقع فی البئر ١٤٩،نمبر ١٧١٤)
ترجمہ :  ١  اسلئے کہ حضرت ابن عباس اور ابن زبیر  نے فتوی دیا تھا تمام پانی نکالنے کا جس وقت حبشی زمزم کے کنویں میں مر گیا۔ 
تشریح :  حبشی زمزم کے کنویں میں گر کر مر گیا تو حضرت ابن عباس ،اور حضرت ابن زبیر  نے فتوی دیا تھا کہ کنویں کا پورا پانی نکالا جائے ،جس سے معلوم ہوا کہ آدمی یا اس جیسا جانور مثلا بکری مرجائے تو پورا پانی ناپاک ہو جائے گا اور پورا پانی نکالنا ہو گا ۔اثر یہ ہے ۔عن محمد بن  سیرین أن زنجیا وقع فی زمزم یعنی مات ،فأمر بہ ابن عباس   فأخرج و أمر بھا أن تنزح ،قال فغلبتھم عین جاء تھم من الرکن فأمر بھا فدسمت بالقباطی و المطارف حتی نزحوھا ،فلمانزحوھا انفجرت علیھم ۔( دار قطنی ،باب البئر اذا وقع فیھا حیوان ، ج اول ،ص ٢٧  ،نمبر ٦٢ ) اور مصنف ابن ابی شیبة میں ابن زبیر  کا اثر یہ ہے عن عطاء أن حبشیا وقع فی زمزم فمات قال فأمر ابن الزبیر أن ینزف ماء زمزم   ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١٩٨ فی الفارة و الدجاجة و اشباھھما تقع فی البئر ،ج اول  ،ص ١٤٩ ،نمبر ١٧٢١ ) اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں کا فتوی ہے کہ کنویں میں بڑا جانور گر کر مر جاے تو پورا پانی نکالنا ہو گا ۔  
ترجمہ:  (٦١) اگر جانور کنویں میں پھول جائے یا پھٹ جائے تو پورا پانی نکالا جائے گا جانور چھوٹا ہو یا بڑا۔
 وجہ:   (١) پھولنے اور پھٹنے کے زمانے تک نجاست پورے کنویں میں پھیل جاتی ہے اس لئے چھوٹا جانور ہو یا بڑا جانور ہو پورے کنویں کا پانی نکالا جائے گا(٢) اوپر حضرت علی کا قول گزرا کہ چوہا گر جائے اور پھول پھٹ جائے تو پورا کنواں نکالا جائے گا ۔عن علی  فی الفارة تقع فی البئرقال : ینزح الی ان یغلبھم الماء ۔( مصنف ابن ابی شیبة ،فی الفارة تقع فی البئر ،نمبر ١٧١١ )  (٣) اور یہ اثر ابھی گزرا پھول پھٹ جائے توپورا کنواں نکالنا ہو گا ۔عن عطاء قال اذا سقط الکلب فی البئر فاخرج منھا حین سقط نزح منھا عشرون دلوا فان اخرج حین مات نزح منھا ستون دلوااو سبعون دلوا فان تفسخ فیھا نزح منھاماء ھا فان لم تستطیعوا نزح مائة دلوو عشرون و مائة(مصنف عبد الرزاق ، باب البئر تقع فیہ الدابة ج اول ص ٨٢ نمبر ٢٧٤ مصنف ابن ابی شیبة ،١٩٨ فی الفارة ، تقع فی البئر ١٤٩،نمبر ١٧١٤)  اس اثر سے  معلوم ہوا کہ پھول پھٹ جائے تو پورا پانی ناپاک ہو جائے گا اور پورا پانی نکالنا ہو گا۔ 
ترجمہ :  ١  تری کے پھیل جانے کی وجہ سے پانی کے اجزا میں ۔یعنی پانی کے اجزا میں ناپاکی کی تری پھیل جائے گی اسلئے پورا پانی ناپاک ہو جائے گا ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter