Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

164 - 627
٣ ثم  المعتبرفی کل بیر دلوھاالذی یستقی بہ منھا،٤ و قیل دلویسع فیہ صاع،   
٥  و لو نزح منھا بدلو عظیم مرة مقدار عشرین دلوا جاز لحصول المقصود۔  (٦٠)وان ماتت فیھا شاة،اوآدمی،اوکلب نزح جمیع ما فیھا من الماء )  ١    لان ابن عباس وابن الزبیرافتیا بنزح الماء کلہ حین مات زنجی فی بیرزمزم،  

ترجمہ :  ٣   پھر معتبر ہرکنویں میں وہ ڈول ہے جسکے ذریعہ اس سے پانی نکالا جاتا ہے ۔
تشریح :   کسی ملک کے لوگ طاقت ور ہوتے ہیں اور کسی  ملک کے لوگ کمزور ہوتے ہیں اسلئے جس ملک میں جو ڈول ستعمال ہوتے ہوں اسی ڈول کا اعتبار ہے ۔
نوٹ :   شریعت میں ہمیشہ اوسط کا اعتبار ہوتا ہے۔آیت میں اس کا اشارہ ہے۔فکفارتہ اطعام عشرة مساکین من اوسط ما تطعمون اھلیکم او کسوتھم (آیت ٨٩،سورة المائدة ٥) اس آیت میں اوسط کھانا کا حکم دیا گیا ہے۔
ترجمہ :  ٤  اور کہا گیا کہ ایسا ڈول جس میں ایک صاع پانی آتا ہو ،اسکا اعتبار ہے ۔۔ایک صاع پانی 3.538 کیلو گرام ہوتا ہے ۔یا 5.88لیٹر پانی ہوتاہے ۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ اتنا  بڑا ڈول ہو جس میں پانچ سو اٹھاسی لیٹر پانی آتا ہو  ۔اسکی دلیل اس حدیث کا اشارہ ہے سمعت ابا سلمة یقول دخلت أنا و اخوعائشة علی عائشة فسألھا أخوھا عن غسل النبی  ۖ فدعت باناء نحو من صاع فاغتسلت و أفاضت علی رأسھا ۔(بخاری شریف ،باب الغسل بالصاع و نحوہ  ،ص ٣٩ ،نمبر ٢٥١ ) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ ایک صاع سے غسل فرمایا کرتے تھے اسلئے ایک ڈول کا وزن ایک صاع ہو سکتا ہے ۔
ترجمہ :  ٥  اور اگر کنویں سے بڑے ڈول سے ایک مرتبہ بیس ڈول کی مقدار نکالا تو جائز ہو جائے گا مقصود کے حاصل ہونے کی وجہ سے ۔
تشریح :   اصل مقصود بیس ڈول کی مقدار پانی نکالنا ہے چاہے بیس مرتبہ نکالے یا ایک مرتبہ بیس ڈول کی مقدار نکال دے ،دونوں طریقوں سے کنواں  پاک ہو جائے گا  ۔
ترجمہ :  (٦٠)   اور اگر کنویں میں کتا  یا بکری یا آدمی مرجائے تو تمام پانی نکالا جائے ۔
 وجہ:    (١)یہ جانور بڑے ہوتے ہیں اس کے مرتے ہی پورے کنویں میں نجاست پھیل جائے گی اس لئے پورے کنویں کا پانی نکالا جائے گا(٢)عن عطاء قال اذا سقط الکلب فی البئر فاخرج منھا حین سقط نزح منھا عشرون دلوا فان اخرج حین مات نزح  منھا ستون دلوااو سبعون دلوا فان تفسخ فیھا نزح منھاماء ھا فان لم تستطیعوا نزح مائة دلوو عشرون و مائة(مصنف عبد الرزاق ، باب البئر تقع فیہ الدابة ج اول ص ٨٢ نمبر ٢٧٤ مصنف ابن ابی شیبة ،١٩٨ فی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter