٣ ثم المعتبرفی کل بیر دلوھاالذی یستقی بہ منھا،٤ و قیل دلویسع فیہ صاع،
٥ و لو نزح منھا بدلو عظیم مرة مقدار عشرین دلوا جاز لحصول المقصود۔ (٦٠)وان ماتت فیھا شاة،اوآدمی،اوکلب نزح جمیع ما فیھا من الماء ) ١ لان ابن عباس وابن الزبیرافتیا بنزح الماء کلہ حین مات زنجی فی بیرزمزم،
ترجمہ : ٣ پھر معتبر ہرکنویں میں وہ ڈول ہے جسکے ذریعہ اس سے پانی نکالا جاتا ہے ۔
تشریح : کسی ملک کے لوگ طاقت ور ہوتے ہیں اور کسی ملک کے لوگ کمزور ہوتے ہیں اسلئے جس ملک میں جو ڈول ستعمال ہوتے ہوں اسی ڈول کا اعتبار ہے ۔
نوٹ : شریعت میں ہمیشہ اوسط کا اعتبار ہوتا ہے۔آیت میں اس کا اشارہ ہے۔فکفارتہ اطعام عشرة مساکین من اوسط ما تطعمون اھلیکم او کسوتھم (آیت ٨٩،سورة المائدة ٥) اس آیت میں اوسط کھانا کا حکم دیا گیا ہے۔
ترجمہ : ٤ اور کہا گیا کہ ایسا ڈول جس میں ایک صاع پانی آتا ہو ،اسکا اعتبار ہے ۔۔ایک صاع پانی 3.538 کیلو گرام ہوتا ہے ۔یا 5.88لیٹر پانی ہوتاہے ۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ اتنا بڑا ڈول ہو جس میں پانچ سو اٹھاسی لیٹر پانی آتا ہو ۔اسکی دلیل اس حدیث کا اشارہ ہے سمعت ابا سلمة یقول دخلت أنا و اخوعائشة علی عائشة فسألھا أخوھا عن غسل النبی ۖ فدعت باناء نحو من صاع فاغتسلت و أفاضت علی رأسھا ۔(بخاری شریف ،باب الغسل بالصاع و نحوہ ،ص ٣٩ ،نمبر ٢٥١ ) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ ایک صاع سے غسل فرمایا کرتے تھے اسلئے ایک ڈول کا وزن ایک صاع ہو سکتا ہے ۔
ترجمہ : ٥ اور اگر کنویں سے بڑے ڈول سے ایک مرتبہ بیس ڈول کی مقدار نکالا تو جائز ہو جائے گا مقصود کے حاصل ہونے کی وجہ سے ۔
تشریح : اصل مقصود بیس ڈول کی مقدار پانی نکالنا ہے چاہے بیس مرتبہ نکالے یا ایک مرتبہ بیس ڈول کی مقدار نکال دے ،دونوں طریقوں سے کنواں پاک ہو جائے گا ۔
ترجمہ : (٦٠) اور اگر کنویں میں کتا یا بکری یا آدمی مرجائے تو تمام پانی نکالا جائے ۔
وجہ: (١)یہ جانور بڑے ہوتے ہیں اس کے مرتے ہی پورے کنویں میں نجاست پھیل جائے گی اس لئے پورے کنویں کا پانی نکالا جائے گا(٢)عن عطاء قال اذا سقط الکلب فی البئر فاخرج منھا حین سقط نزح منھا عشرون دلوا فان اخرج حین مات نزح منھا ستون دلوااو سبعون دلوا فان تفسخ فیھا نزح منھاماء ھا فان لم تستطیعوا نزح مائة دلوو عشرون و مائة(مصنف عبد الرزاق ، باب البئر تقع فیہ الدابة ج اول ص ٨٢ نمبر ٢٧٤ مصنف ابن ابی شیبة ،١٩٨ فی