Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

163 - 627
٣ والعشرون بطریق الایجاب،والثلثون بطریق الاستحباب(٥٩)  فان ماتت فیھا حمامة او نحوھا کالدجاجة،  و السنور نزح منھا ما بین اربعین دلوا ً الی ستین)  ١   و فی الجامع الصغیر،  اربعون، اوخمسون،  وھوالاظہر، ٢ لماروی عن ابی سعید الخدری  انہ قال فی الدجاجة اذا ماتت فی البئر ینزح منھا اربعون دلواً، ھذا لبیان الایجاب، والخمسون بطریق الاستحباب 

۔ 
ترجمہ :  ٣  اور بیس بطریق ایجاب کے ہیں اور تیس بطریق استحباب کے ہیں ۔یہ متن کی عبارت  کی تفصیل ہے کہ متن میں جو بیان کیا ہے کہ بیس یا تیس ،تو اسکا مطلب یہ ہے کہ بیس ڈول نکالنا واجب ہے اور تیس ڈول نکالنا مستحب ہے ۔ 
  لغت :۔ عصفورة  :  چڑیا۔  صعوة  :  ممولا۔  سودانیة  :  بھجنگا۔  سام ابرص  :  گرگٹ۔الجثة : جسم و جثہ ۔
ترجمہ :  (٥٩) اور اگر کنویں میں کبوتر یا اسکے مانند جیسے مرغی یا بلی مرجائے تو کنویں سے چالیس سے ساٹھ  ڈول تک نکالے جائیںگے ۔ 
وجہ:    (١)  عن الشعبی فی الطیر والسنور ونحوھما یقع فی البئر قال نزح منھا اربعون دلوا۔(طحاوی شریف، باب الماء تقع فیہ النجاسة ص ١٦مصنف عبد الرزاق ، باب البئر تقع فیہ الدابة ج اول نمبر ٢٧٢ مصنف ابن ابی شیبة،نمبر١٧١٣)(٢) عن سلمہ بن کہیل فی الدجاجة تقع فی البئر قال : یستقی منھا أربعون دلوا ً ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١٩٨ فی الفارة و الدجاجة و أشباھھما تقع فی البئر ،ج اول ،ص ١٤٩ ،نمبر ١٧١٩) ان دونوں اثروں میں ہے کہ مرغی یا بلی مر جائے تو چالیس ڈول نکالا جائے ۔
ترجمہ :  ١  اور جامع صغیر میں ہے کہ چالیس یا پچاس ،اور یہی زیادہ ظاہر ہے ۔جامع صغیر کی عبارت یہ ہے و ان کانت دجاجة أو سنور فأربعون أو خمسون ۔(جامع صغیر ،باب فی النجاسة فی الماء ،ص ٧٨ ) اس سے معلوم ہوا کہ چالیس سے پچاس ڈول نکالے ،اوریہی عبارت قدوری کی بھی ہے  ۔
ترجمہ :   ٢  اسلئے کہ ابو سعید خدری  نے فرمایا کہ مرغی اگر کنویں میں گر کر مر جائے تو اس سے چالیس ڈول نکالا جائے ،یہ وجوب کا بیان ہے اور پچاس استحباب کے طور پر ہے ۔
تشریح :   ابو سعید خدری  سے منقول ہے کہ مرغی مر جائے تو چالیس ڈول نکالا جائے ،یہ وجوب کے طور پر ہے اور پچاس استحباب کے طور پر ہے تاہم یہ اثر ابو سعید خدری  کی نہیں ہے بلکہ حضرت حسن ،حضرت شعبی ،اور حضرت سلمہ بن کہیل سے منقول ہے جو اوپر ذکر کر دیا گیا ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter