٣ والعشرون بطریق الایجاب،والثلثون بطریق الاستحباب(٥٩) فان ماتت فیھا حمامة او نحوھا کالدجاجة، و السنور نزح منھا ما بین اربعین دلوا ً الی ستین) ١ و فی الجامع الصغیر، اربعون، اوخمسون، وھوالاظہر، ٢ لماروی عن ابی سعید الخدری انہ قال فی الدجاجة اذا ماتت فی البئر ینزح منھا اربعون دلواً، ھذا لبیان الایجاب، والخمسون بطریق الاستحباب
۔
ترجمہ : ٣ اور بیس بطریق ایجاب کے ہیں اور تیس بطریق استحباب کے ہیں ۔یہ متن کی عبارت کی تفصیل ہے کہ متن میں جو بیان کیا ہے کہ بیس یا تیس ،تو اسکا مطلب یہ ہے کہ بیس ڈول نکالنا واجب ہے اور تیس ڈول نکالنا مستحب ہے ۔
لغت :۔ عصفورة : چڑیا۔ صعوة : ممولا۔ سودانیة : بھجنگا۔ سام ابرص : گرگٹ۔الجثة : جسم و جثہ ۔
ترجمہ : (٥٩) اور اگر کنویں میں کبوتر یا اسکے مانند جیسے مرغی یا بلی مرجائے تو کنویں سے چالیس سے ساٹھ ڈول تک نکالے جائیںگے ۔
وجہ: (١) عن الشعبی فی الطیر والسنور ونحوھما یقع فی البئر قال نزح منھا اربعون دلوا۔(طحاوی شریف، باب الماء تقع فیہ النجاسة ص ١٦مصنف عبد الرزاق ، باب البئر تقع فیہ الدابة ج اول نمبر ٢٧٢ مصنف ابن ابی شیبة،نمبر١٧١٣)(٢) عن سلمہ بن کہیل فی الدجاجة تقع فی البئر قال : یستقی منھا أربعون دلوا ً ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١٩٨ فی الفارة و الدجاجة و أشباھھما تقع فی البئر ،ج اول ،ص ١٤٩ ،نمبر ١٧١٩) ان دونوں اثروں میں ہے کہ مرغی یا بلی مر جائے تو چالیس ڈول نکالا جائے ۔
ترجمہ : ١ اور جامع صغیر میں ہے کہ چالیس یا پچاس ،اور یہی زیادہ ظاہر ہے ۔جامع صغیر کی عبارت یہ ہے و ان کانت دجاجة أو سنور فأربعون أو خمسون ۔(جامع صغیر ،باب فی النجاسة فی الماء ،ص ٧٨ ) اس سے معلوم ہوا کہ چالیس سے پچاس ڈول نکالے ،اوریہی عبارت قدوری کی بھی ہے ۔
ترجمہ : ٢ اسلئے کہ ابو سعید خدری نے فرمایا کہ مرغی اگر کنویں میں گر کر مر جائے تو اس سے چالیس ڈول نکالا جائے ،یہ وجوب کا بیان ہے اور پچاس استحباب کے طور پر ہے ۔
تشریح : ابو سعید خدری سے منقول ہے کہ مرغی مر جائے تو چالیس ڈول نکالا جائے ،یہ وجوب کے طور پر ہے اور پچاس استحباب کے طور پر ہے تاہم یہ اثر ابو سعید خدری کی نہیں ہے بلکہ حضرت حسن ،حضرت شعبی ،اور حضرت سلمہ بن کہیل سے منقول ہے جو اوپر ذکر کر دیا گیا ۔