(٥٨) و ان ماتت فیھا فارة، او عصفورة، اوسودانیة، اوصعوة، اوسام ابرص نزح منھاعشرون دلواًالی ثلثین بحسب کبرالدلو وصغرھا) ١ یعنی بعداخراج الفارة، ٢ لحدیث انسانہ قال فی الفارة اذا ماتت فی البیرواخرجت من ساعتہ ینزح منھاعشرون دلواً،والعصفورةونحوھا تعادل الفارة فی الجثة فاخذت حکمھا
اور دوا کے بغیر بھی پینا جائز ہے ۔انکا مستدل بھی اوپر کی عرینہ والی حدیث ہے ۔
ترجمہ : (٥٨) اگر کنویں میں چوہا یا چڑیا یا ممولا یا بھجنگا یا چھپکلی مرجائے تو بیس سے لیکر تیس ڈول تک نکالے جائیںگے۔ ڈول کے بڑے اور چھوٹے ہونے کے لحاظ سے۔
تشریح : یعنی چوہا یااس جیسا چھوٹا جانور کنویں میں گر کر مر جائے اور ابھی پھولے ،پھٹے نہیں تو بیس سے تیس ڈول تک نکالا جائے گا ۔یعنی وجوب کے طور پر بیس ڈول اور استحباب کے طور پر تیس ڈول۔یا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بڑا ڈول ہو تو بیس ڈول اور چھوٹا ڈول ہو تو تیس ڈول نکالا جائے گا۔
وجہ: (١) عن علی قال اذا سقطت الفارة او الدابة فی البئر فانزحھا حتی یغلبک المائ۔ (طحاوی شریف، باب الماء تقع فیہ النجاسة ص ١٦ مصنف عبد الرزاق ، باب البئر تقع فیہ الدابة ج اول ص ٨١ نمبر ٢٧١مصنف ابن ابی شیبة ١٩٨ فی الفارة والدجاجة اشباھھما تقع فی البئر،ج اول، ص ١٤٩،نمبر ١٧١١)یہ حدیث پھولنے پھٹنے پر محمول ہے۔ کہ چوہا پھولے پھٹے تو پورا کنوں نکالا جائے گا۔ ورنہ بیس سے تیس ڈول نکالا جائے ۔
ترجمہ : ١ یعنی چوہا نکالنے کے بعد ۔یعنی مرا ہوا جانور نکالنے کے بعد بیس یا تیس ڈول نکالے گا تب کنواں پاک ہوگا اور اگر مردہ کنویں میں رہتے ہوئے پانی نکالے گا تو کبھی کنواں پاک نہیں ہو گا ۔
ترجمہ : ٢ حضرت انس کی حدیث کی وجہ سے کہ انہوں نے چوہے کے بارے میں فرمایا کہ اگر کنویں میں مر جائے اور اسی وقت نکالا گیا تو اس سے بیس ڈول نکالا جائے گا ۔ اور چڑیا اور اسکے مانند جو جسم و جثے میں چوہے کے برابر ہو تو وہی حکم دیا جائے گا ۔
تشریح : حضرت انس نے فرمایا کہ کنویں میں چوہا گر کر مر جائے ،یا اسکے برابر کوئی جانور مثلا چڑیا مر جائے اور اسی وقت کنویں سے نکال دیا گیا ہو تو بیس سے تیس ڈول نکالا جائے ۔
نوٹ: صاحب نصب الرایة فرماتے ہیں کہ حضرت انس کی حدیث نہیں ملتی جس میں یس سے تیس ڈول کی دلیل ہو ۔البتہ چالیس ڈول کا اثر ملتا ہے ،وہ یہ ہے۔ أخبرنی من سمع الحسن یقول : اذا مات الدابة فی البئر أخذ منھا اربعین دلواً۔(مصنف عند الرزاق ،باب البئر تقع فیہ الدابة ،ج اول ص ٨١ ،نمبر ٢٧٢ ) اس اثر میں ہے کہ جانور مر جائے تو چالیس ڈول نکالو