Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

162 - 627
(٥٨) و ان ماتت فیھا فارة، او عصفورة، اوسودانیة، اوصعوة،  اوسام ابرص نزح منھاعشرون دلواًالی ثلثین بحسب کبرالدلو وصغرھا)   ١ یعنی بعداخراج الفارة، ٢  لحدیث انسانہ قال فی الفارة اذا ماتت فی البیرواخرجت من ساعتہ ینزح منھاعشرون دلواً،والعصفورةونحوھا تعادل الفارة فی الجثة فاخذت حکمھا 

اور دوا کے بغیر بھی پینا جائز ہے ۔انکا مستدل بھی اوپر کی عرینہ والی حدیث ہے ۔
ترجمہ :  (٥٨)  اگر کنویں میں چوہا یا چڑیا یا ممولا یا بھجنگا یا چھپکلی مرجائے تو بیس سے لیکر تیس ڈول تک نکالے جائیںگے۔ ڈول کے بڑے اور چھوٹے ہونے کے لحاظ سے۔  
تشریح :   یعنی چوہا یااس جیسا چھوٹا جانور کنویں میں گر کر مر جائے اور ابھی پھولے ،پھٹے نہیں تو بیس سے تیس ڈول تک نکالا جائے گا ۔یعنی وجوب کے طور پر بیس ڈول اور استحباب کے طور پر تیس ڈول۔یا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بڑا ڈول ہو تو بیس ڈول اور چھوٹا ڈول ہو تو تیس ڈول نکالا جائے گا۔ 
وجہ:   (١)  عن علی قال اذا سقطت الفارة او الدابة فی البئر فانزحھا حتی یغلبک المائ۔ (طحاوی شریف، باب الماء تقع فیہ النجاسة ص ١٦ مصنف عبد الرزاق ، باب البئر تقع فیہ الدابة ج اول ص ٨١ نمبر ٢٧١مصنف ابن ابی شیبة ١٩٨ فی الفارة والدجاجة اشباھھما تقع فی البئر،ج اول، ص ١٤٩،نمبر ١٧١١)یہ حدیث پھولنے پھٹنے پر محمول ہے۔ کہ چوہا پھولے پھٹے تو پورا کنوں نکالا جائے گا۔ ورنہ بیس سے تیس ڈول نکالا جائے ۔
ترجمہ :   ١  یعنی چوہا نکالنے کے بعد ۔یعنی مرا ہوا جانور نکالنے کے بعد بیس یا تیس ڈول نکالے گا تب کنواں پاک ہوگا اور اگر مردہ کنویں میں رہتے ہوئے پانی نکالے گا تو کبھی کنواں پاک نہیں ہو گا ۔
ترجمہ :   ٢  حضرت انس  کی حدیث کی وجہ سے کہ انہوں نے  چوہے کے بارے میں فرمایا کہ اگر کنویں میں مر جائے اور اسی وقت نکالا گیا تو اس سے بیس ڈول نکالا جائے گا ۔ اور چڑیا اور اسکے مانند جو جسم و جثے میں چوہے کے برابر ہو تو وہی حکم دیا جائے گا ۔ 
تشریح :   حضرت انس  نے فرمایا کہ کنویں میں چوہا گر کر مر جائے ،یا اسکے برابر کوئی جانور مثلا چڑیا  مر جائے اور اسی وقت کنویں سے نکال دیا گیا ہو تو بیس سے تیس ڈول نکالا جائے ۔  
 نوٹ:   صاحب نصب الرایة فرماتے ہیں کہ حضرت انس کی حدیث نہیں ملتی جس میں یس سے تیس ڈول کی دلیل ہو ۔البتہ چالیس ڈول کا اثر ملتا ہے ،وہ یہ ہے۔ أخبرنی من سمع الحسن یقول : اذا مات الدابة فی البئر أخذ منھا اربعین دلواً۔(مصنف عند الرزاق ،باب البئر تقع فیہ الدابة ،ج اول ص ٨١ ،نمبر ٢٧٢ ) اس اثر میں ہے کہ جانور مر جائے تو چالیس ڈول نکالو

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter