٤ وتاویل ماروی انہ عرف شفاؤھم وحیاً ٥ ثم عند ابی حنیفة لایحل شربہ للتداوی لانہ لایتیقن بالشفاء فیہ فلا یعرض عن الحرمة، ٦ و عند ابی یوسف یحل للتداوی للقصة ٧ و عند محمد یحل للتداوی، و غیر ہ لطھارتہ عند ہ،
جانوروں کے پیشاب کی طرح ہو گیا جنکا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے ۔
تشریح : جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے اسکے پیشاب میں بھی گندگی اور بدبو ہوتی ہے اسلئے اسکا پیشاب بھی ناپاک ہو نا چاہئے ۔
ترجمہ : ٤ اور امام محمد نے جو روایت کی ہے اسکی تاویل یہ ہے کہ عرینہ والوں کا شفاء وحی سے معلوم ہو گیا تھا ۔
تشریح : امام محمد نے جو حدیث پیش کی تھی کہ عرینہ والے بیمار ہوئے تو اسکو پیشاب پینے کی اجازت دی ،اسکا مطلب یہ ہے کہ وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ پیشاب پینے سے انکو شفا ہوگی اسلئے پینے کا حکم دیا ،تاہم جن جانور کا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے اسکا پیشاب ناپاک ہے ۔
ترجمہ : ٥ پھر امام ابو حنیفہ کے نزدیک دوا کے لئے بھی پیناحلال نہیں ،اسلئے کہ اس میں شفا یقینی نہیں ہے اسلئے حرام سے اعراض نہیں کیا جائے گا ۔
تشریح : حضور ۖ کو وحی کے ذریعہ شفا کا علم ہوا تھا اور دوسروں کو وحی کے ذریعہ علم نہیں ہو سکتا اور پیشاب میں شفا یقینی نہیں ہے اسلئے حرام چیز کو دوا کے لئے بھی استعمال نہیں کرنا چاہئے اور حرمت سے اعراض نہیں کرنا چاہئے ۔قال ابن مسعود فی السکر : ان اللہ لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم (۔بخاری ، باب شراب الحلواء و العسل ،ص ٩٩٥ نمبر ٥٦١٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ حرام میں شفا نہیں ہے
ترجمہ : ٦ اور امام ابو یوسف کے نزدیک حلال ہے دوا کے لئے عرینہ والے کے قصے کی وجہ سے ۔
تشریح : پیچھے قبیلہ عرینہ والے کا قصہ گزرا جس میں تھا کہ وہ بیمار ہوئے تو حضور ۖ نے اسکو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا ،جس سے معلوم ہوا کہ دوا کے طور پر گوشت کھائے جانے والے جانور کا پیشاب پینا جائز ہے اگر چہ وہ ناپاک ہے ، حدیث یہ ہے ۔فأمر ھم النبی ۖ بلقاح و أن یشربوا من ابوالھا و البانھا ۔( بخاری شریف ،نمبر ٢٣٣ ) تا ہم دوا کے علاوہ انکے یہاں بھی حرام اور ناپاک ہے ۔
ترجمہ : ٧ اور امام محمد کے نزدیک دوا اور اسکے علاوہ کے لئے بھی حلال ہے انکے نزدیک پیشاب پاک ہونے کی وجہ سے ۔
تشریح : چونکہ امام محمد کے نزدیک گوشت کھائے جانے والے جانور کا پیشاب پاک ہے اسلئے دوا کے طور پر بھی پینا جائز ہے