٢ ولھما قولہں استنزھوا عن البول فان عامة عذاب القبر منہ۔ من غیر فصل ٣ ولانہ یستحیل الی نتن و فساد فصار کبول ما لا یؤکل لحمہ،
اسلئے کنویں میں اسکے گرنے سے کنواں ناپاک ہو جائے گا ۔اور امام محمد کے نزدیک ماکول اللحم جانور کا پیشاب پاک ہے اسلئے اسکے گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔اسکی دلیل یہ ہے کہ حضور ۖ نے قبیلہ عرینہ کے آدمی کو کہا کہ اونٹ کے پیشاب کو پیو اور اسکے دودھ کو پیو ۔پیشاب پینے کا حکم اسی لئے دیا ہو گا کہ وہ پاک ہے ورنہ حضور ۖ ناپاک چیز کے پینے کا حکم کیسے دے سکتے تھے ،حدیث یہ ہے عن انس قال قدم أناس من عکل أو عرینة فاجتووا المدینة فأمر ھم النبی ۖ بلقاح و أن یشربوا من ابوالھا و البانھا ۔( بخاری شریف ،باب الابل و الدوابو الغنم و مرابضھا ،ص٣٧ ،نمبر ٢٣٣ مسلم شریف ،باب حکم المحاربین و المرتدین ،ص ٧٣٨،نمبر ١٦٧١ ٤٣٥٣) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ نے اھل عرینہ کو اونٹ کاپیشاب پینے کا حکم دیا ۔
ترجمہ : ٢ اور امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کی دلیل حضور ۖ کا قول کہ پیشاب سے بچو اسلئے کہ عام طور پرعذاب قبر اسی پیشاب سے ہو تا ہے ۔اور اس میں ماکول اللحم اور غیر ماکول اللحم کی تفصیل نہیں ہے ۔
تشریح : شیخین کی دلیل یہ ہے کہ حضورۖ نے پیشاب سے بچنے کے لئے کہا کیونکہ عام طور پر عذاب اسی سے ہوتا ہے ،اور اس میں یہ فرق نہیں کی گوشت کھائے جانے والے جانور کے پیشاب سے بچنا ضروری نہیں اور جنکا گوشت نہیں کھایا جاتا ہو اسکے پیشاب سے بچو ۔اسلئے دونوں کا پیشاب ناپاک ہوگا ۔حدیث یہ ہے عن ابی ھریرة أن رسول اللہ ۖ قال : استنزھوا من البول ،فان عامة عذاب القبر منہ ۔(دار قطنی ،باب نجاسة البول و الامر بالتنزہ منہ ،ج اول ،ص ١٣٦ ،نمبر٤٥٨) اور مستدرک میں یو ںہے عن ابن عباس رفعہ الی النبی ۖ قال : عامة عذاب القبر من البول ۔(مستدرک للحاکم ،کتاب الطھارة ،ج اول ص ٢٩٣ نمبر ٦٥٤ ) ان دونوں حدیثوں میں بول عام ہے ماکو ل اللحم ،اور غیر ماکول اللحم کی قید نہیں ہے اسلئے دونو ں کے پیشاب ناپاک ہوگا ۔
نوٹ: البتہ بخاری شریف میں من بولہ ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ وہ صحابی جنکو عذاب قبر ہو رہا تھا وہ خود اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا جسکا مطلب یہ نکلا کہ انسان کاپیشاب ناپاک ہے ،باقی دوسرے جانور کا پیشاب ناپاک ہے یا پاک اس بارے میں اس حدیث میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔حدیث یہ ہے عن عباس مر النبی ۖ علی قبر ین فقال انھما لیعذبان و ما یعذبان فی کبیر ،ثم قال بلی أما احدھما فکان یسعی بالنمیمة و اما الآخر فکان لا یستتر من بولہ ۔(بخاری شریف ،باب عذاب القبر من الغیبة و البول ،ص ٢٢١،نمبر ١٣٧٨ )اس حدیث میں ہے کہ وہ صحابی خود اپنے پیشاب سے نہیں بچاکرتے تھے جسکی وجہ سے انکو عذاب قبر ہوا ۔
ترجمہ : ٣ اور اسلئے کہ وہ تبدیل ہو تا ہے بدبو اور گندگی کی طرف تو جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے انکا پیشاب ان