Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

159 - 627
٣  واستحالتہ لا الی نتن رائحة فاشبہ الحمأة (٥٧)  فان بالت فیھا شاة نزح الماء کلہ عند ابی حنیفة  و ابی یوسف،  وقال محمد لا ینزح الا اذا غلب علی المائ، فیخرج من ان یکون طھوراً)   ١ و اصلہ ان بول ما یوکل لحمہ طاھرعند ہ، نجس عند ھما،  لہ ان النبی علیہ السلام امر العرنیین بشرب ابوال الابل و البانھا، 

ابراھیم و اسماعیل أن طھرا بیتی للطائفین و العاکفین و الرکع السجود ۔( آیت ١٢٥ ،سورة بقرة ٢ ) 
 ترجمہ :  ٣  اور پیخانہ کا بدلنا بدبو کی طرف نہیں ہے اسلئے وہ کالی مٹی کی طرح ہو گئی ۔یعنی اسکی بیٹ بدبو اور فساد میں تبدیل نہیں ہو تی اسلئے وہ کالی مٹی اور کیچڑ کی طرح ہوگئی ،اور کیچڑ میں تھوڑی بہت بدبو ہوتی ہے پھر بھی پانی کے اندر رہنے کے باوجود اس سے پانی ناپاک نہیں ہو تا اسی طرح کبوتر اور چڑیے کی بیٹ سے کنویں کا پانی ناپاک نہیں ہوگا ۔
 لغت :   خرء : بیٹ ۔الحمام : کبوتر ،اسی کی جمع ہے حمامات ۔العصفور : گوریا ،چڑیا ۔نتن : بدبو  ۔فساد : گندگی ،فساد ہو نا ۔الدجاجة : مرغی ۔اقتناء : ٹھہرنے کے لئے دینا ۔ الحمأة : کالی مٹی ،کیچڑ ۔
ترجمہ :   (٥٧)  پس اگر کنویں میں بکری نے پیشاب کر دیا تو امام ابو حنیفہ ،اور امام ابو یوسف  کے نزدیک پورا پانی نکالا جائے گا  ،اور امام محمد نے فرمایا کہ پانی نہیں نکالا جائے گا ،مگر اگر پانی پر پیشاب غالب آگیا  تو پانی دوسرے کو پاک کرنے سے نکل جائے گا ۔
تشریح :  یہاںبکری سے مراد تمام گوشت کھائے جانے والے جانور ہیں ،اگر اس نے کنویں میں پیشاب کر دیا تو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف  کے ننزدیک پورا کنواں ناپاک ہو گیا اسلئے پورا کنواں نکالا جائے گا ۔ اور امام محمد  کے نزدیک کنواں ناپاک نہیں ہوگا ،البتہ اگراتنا زیادہ پیشاب کر دیا کہ پانی پرپیشاب غالب ہوگیا تو یہ پانی پاک تو ہے لیکن دوسرے کو پاک کرنے والا نہیں رہے گا ۔اسکی وجہ آگے آرہی ہے۔ 
ترجمہ :   ١   اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے اسکا پیشاب امام محمد  کے نزدیک پاک ہے اور امام ابو حنیفہ  اور امام ابو یوسف کے نزدیک ناپاک ہے ۔امام محمد  کی دلیل یہ ہے کہ حضور ۖ نے قبیلہ عرینہ کو حکم دیا کہ اونٹ کے پیشاب پینے کا اور اسکے دودھ پینے کا ۔ پیشاب سے کنواں ناپاک ہو گا اورپورا کنواں نکالنا پڑے گا اسکی دلیل یہ اثر ہے ۔أن علیا سئل عن صبی بال فی البئر قال : ینزح ۔ (مصنف ابن بی شیبة ،١٩٨ فی الفارة و الدجاجة و اشباھھما تقع فی البئر ،ج اول ،ص ١٤٩ ،نمبر ١٧٢٠ )اس اثر میں ہے کہ بچہ اگر کنویں میں  پیشاب کر دے تو پورا کنواں نکالنا ہو گا ،اسی پر قیاس کرتے ہوئے بکری ،یا حلال جانور پیشاب کرے تو پورا کنواں نکالنا ہو گا ۔
تشریح :  یہ مسئلہ اس قاعدے پر متفرع ہے کہ شیخین کے نزدیک گوشت کھائے جانے والے جانوروں کا پیشاب ناپاک ہے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter