٣ واستحالتہ لا الی نتن رائحة فاشبہ الحمأة (٥٧) فان بالت فیھا شاة نزح الماء کلہ عند ابی حنیفة و ابی یوسف، وقال محمد لا ینزح الا اذا غلب علی المائ، فیخرج من ان یکون طھوراً) ١ و اصلہ ان بول ما یوکل لحمہ طاھرعند ہ، نجس عند ھما، لہ ان النبی علیہ السلام امر العرنیین بشرب ابوال الابل و البانھا،
ابراھیم و اسماعیل أن طھرا بیتی للطائفین و العاکفین و الرکع السجود ۔( آیت ١٢٥ ،سورة بقرة ٢ )
ترجمہ : ٣ اور پیخانہ کا بدلنا بدبو کی طرف نہیں ہے اسلئے وہ کالی مٹی کی طرح ہو گئی ۔یعنی اسکی بیٹ بدبو اور فساد میں تبدیل نہیں ہو تی اسلئے وہ کالی مٹی اور کیچڑ کی طرح ہوگئی ،اور کیچڑ میں تھوڑی بہت بدبو ہوتی ہے پھر بھی پانی کے اندر رہنے کے باوجود اس سے پانی ناپاک نہیں ہو تا اسی طرح کبوتر اور چڑیے کی بیٹ سے کنویں کا پانی ناپاک نہیں ہوگا ۔
لغت : خرء : بیٹ ۔الحمام : کبوتر ،اسی کی جمع ہے حمامات ۔العصفور : گوریا ،چڑیا ۔نتن : بدبو ۔فساد : گندگی ،فساد ہو نا ۔الدجاجة : مرغی ۔اقتناء : ٹھہرنے کے لئے دینا ۔ الحمأة : کالی مٹی ،کیچڑ ۔
ترجمہ : (٥٧) پس اگر کنویں میں بکری نے پیشاب کر دیا تو امام ابو حنیفہ ،اور امام ابو یوسف کے نزدیک پورا پانی نکالا جائے گا ،اور امام محمد نے فرمایا کہ پانی نہیں نکالا جائے گا ،مگر اگر پانی پر پیشاب غالب آگیا تو پانی دوسرے کو پاک کرنے سے نکل جائے گا ۔
تشریح : یہاںبکری سے مراد تمام گوشت کھائے جانے والے جانور ہیں ،اگر اس نے کنویں میں پیشاب کر دیا تو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے ننزدیک پورا کنواں ناپاک ہو گیا اسلئے پورا کنواں نکالا جائے گا ۔ اور امام محمد کے نزدیک کنواں ناپاک نہیں ہوگا ،البتہ اگراتنا زیادہ پیشاب کر دیا کہ پانی پرپیشاب غالب ہوگیا تو یہ پانی پاک تو ہے لیکن دوسرے کو پاک کرنے والا نہیں رہے گا ۔اسکی وجہ آگے آرہی ہے۔
ترجمہ : ١ اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے اسکا پیشاب امام محمد کے نزدیک پاک ہے اور امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک ناپاک ہے ۔امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ حضور ۖ نے قبیلہ عرینہ کو حکم دیا کہ اونٹ کے پیشاب پینے کا اور اسکے دودھ پینے کا ۔ پیشاب سے کنواں ناپاک ہو گا اورپورا کنواں نکالنا پڑے گا اسکی دلیل یہ اثر ہے ۔أن علیا سئل عن صبی بال فی البئر قال : ینزح ۔ (مصنف ابن بی شیبة ،١٩٨ فی الفارة و الدجاجة و اشباھھما تقع فی البئر ،ج اول ،ص ١٤٩ ،نمبر ١٧٢٠ )اس اثر میں ہے کہ بچہ اگر کنویں میں پیشاب کر دے تو پورا کنواں نکالنا ہو گا ،اسی پر قیاس کرتے ہوئے بکری ،یا حلال جانور پیشاب کرے تو پورا کنواں نکالنا ہو گا ۔
تشریح : یہ مسئلہ اس قاعدے پر متفرع ہے کہ شیخین کے نزدیک گوشت کھائے جانے والے جانوروں کا پیشاب ناپاک ہے