Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

158 - 627
(٥٦) فان وقع فیھا خرء الحمام، او العصفور لا یفسدہ )   ١ خلافا للشافعی،لہانہ استحال الی نتن وفسادفاشبہ خرء الدجاجة، ٢ ولنااجماع المسلمین علی اقتناء الحمامات فی المساجد مع ورود الامر بتطھیر ھا،

قیل یا رسول اللہ أنتوضا من بئر بضاعة ، وھی بئر یلقی فیھا الحیض و لحوم الکلاب و النتن ؟ فقال رسول اللہ  ۖ : ان الماء طھور لا ینجسہ شیء ۔ ( ترمذی شریف ،باب ما جاء أن الماء لا ینجسہ شیء ،ص٢١ ،نمبر ٦٦) اس حدیث میں ہے کہ تھوڑی بہت ناپاکی سے کنواں ناپاک نہیں ہو تا ۔
ترجمہ :  ( ٥٦)  پس اگر کنویں میںکبوتر کی بیٹ یا گوریے کی بیٹ گر جائے تو کنواں کو ناپاک نہیں کرے گی۔
تشریح :   کبوتر اور چڑیا عام طور پر کنویں میں گھونسلا بناتی ہیں اور اس میں پیخانہ بھی کرتی ہیں ،پس اگر اس طرح اسکو ناپاک قرار دے دیں تو اسکے پانی کو کون نکالے گا اور کون اسکوروزانہ  پاک کریگا اسلئے ضرورت کی بناء پر اسکے پانی کو ناپاک قرار نہ دیا جائے  ۔
ترجمہ :   ١   خلاف امام شافعی  کے انکی دلیل یہ ہے کہ بیٹ بدبو اور گندگی میں تبدیل ہو جاتی ہے اسلئے مرغی کی بیٹ کے مشابہ ہو گئی ۔
تشریح :   امام شافعی  فرماتے کہ کبوتر اور چڑیے کی بیٹ میں بدبو اور گندگی ہو تی ہے اس لئے کنویں میں اسکے گرنے سے کنواں ناپاک ہو گا ۔ جیسے مرغی کی بیٹ کنویں میں گر جائے تو کنواں ناپاک ہو جاتا ہے ۔
ترجمہ :  ٢  اور ہماری دلیل کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کبوتروں کو مسجدوں میں چھوڑے رکھنے کا حال آنکہ حکم وارد ہے مسجدوں کو پاک رکھنے کا ۔
تشریح :   کبوتر کی بیٹ پاک ہے اسکی دلیل یہ ہے کہ حضور ۖ کے زمانے سے اب تک لوگ کبوتروں کو مسجدوں میں ٹھہرنے دیتے ہیں اور وہ پیخانہ بھی کرتے ہیں حالانکہ مسجدوں کو پاک صاف رکھنے کا حکم وارد ہوا ہے ۔بلکہ ایک حدیث میں یہاں تک ہے کہ حضور ۖ ہجرت کی رات میں غار میں چھپے تو کبوتروں نے اسکے منہ پرانڈا دیا تو آپ ۖ نے انکے لئے دعا کی اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ تمہیں حرم میں جگہ دے ،جس سے معلوم ہوا کہ اسکی بیٹ پاک ہے ۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے أدرکت أنس بن مالک و زید بن ارقم و المغیرة بن شعبة فسمعتھم یتحدثون أن النبی  ۖ .....قال رأیت بفمہ حمامتین فعرفت أنہ لیس فیہ أحد ،فسمع النبی ۖ ما قال فعرف أن اللہ قد درأ عنہ بھما فدعا لھما ، وسمت علیھن و أقررن فی الحرم و فرض جزائھن ۔ ( نصب الرایة ، فصل فی البئر ،ج اول ،ص ١٧٥ ) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نے کبوتروں کے لئے حرم اور مسجدوں میں ٹھہرنے کی دعا کی جس سے معلوم ہوا کہ اسکی بیٹ پاک ہے ۔اور مسجدوں کو پاک رکھنے کی تاکید  اس آیت میں ہے ۔وعھدنا الی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter