(٥٦) فان وقع فیھا خرء الحمام، او العصفور لا یفسدہ ) ١ خلافا للشافعی،لہانہ استحال الی نتن وفسادفاشبہ خرء الدجاجة، ٢ ولنااجماع المسلمین علی اقتناء الحمامات فی المساجد مع ورود الامر بتطھیر ھا،
قیل یا رسول اللہ أنتوضا من بئر بضاعة ، وھی بئر یلقی فیھا الحیض و لحوم الکلاب و النتن ؟ فقال رسول اللہ ۖ : ان الماء طھور لا ینجسہ شیء ۔ ( ترمذی شریف ،باب ما جاء أن الماء لا ینجسہ شیء ،ص٢١ ،نمبر ٦٦) اس حدیث میں ہے کہ تھوڑی بہت ناپاکی سے کنواں ناپاک نہیں ہو تا ۔
ترجمہ : ( ٥٦) پس اگر کنویں میںکبوتر کی بیٹ یا گوریے کی بیٹ گر جائے تو کنواں کو ناپاک نہیں کرے گی۔
تشریح : کبوتر اور چڑیا عام طور پر کنویں میں گھونسلا بناتی ہیں اور اس میں پیخانہ بھی کرتی ہیں ،پس اگر اس طرح اسکو ناپاک قرار دے دیں تو اسکے پانی کو کون نکالے گا اور کون اسکوروزانہ پاک کریگا اسلئے ضرورت کی بناء پر اسکے پانی کو ناپاک قرار نہ دیا جائے ۔
ترجمہ : ١ خلاف امام شافعی کے انکی دلیل یہ ہے کہ بیٹ بدبو اور گندگی میں تبدیل ہو جاتی ہے اسلئے مرغی کی بیٹ کے مشابہ ہو گئی ۔
تشریح : امام شافعی فرماتے کہ کبوتر اور چڑیے کی بیٹ میں بدبو اور گندگی ہو تی ہے اس لئے کنویں میں اسکے گرنے سے کنواں ناپاک ہو گا ۔ جیسے مرغی کی بیٹ کنویں میں گر جائے تو کنواں ناپاک ہو جاتا ہے ۔
ترجمہ : ٢ اور ہماری دلیل کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کبوتروں کو مسجدوں میں چھوڑے رکھنے کا حال آنکہ حکم وارد ہے مسجدوں کو پاک رکھنے کا ۔
تشریح : کبوتر کی بیٹ پاک ہے اسکی دلیل یہ ہے کہ حضور ۖ کے زمانے سے اب تک لوگ کبوتروں کو مسجدوں میں ٹھہرنے دیتے ہیں اور وہ پیخانہ بھی کرتے ہیں حالانکہ مسجدوں کو پاک صاف رکھنے کا حکم وارد ہوا ہے ۔بلکہ ایک حدیث میں یہاں تک ہے کہ حضور ۖ ہجرت کی رات میں غار میں چھپے تو کبوتروں نے اسکے منہ پرانڈا دیا تو آپ ۖ نے انکے لئے دعا کی اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ تمہیں حرم میں جگہ دے ،جس سے معلوم ہوا کہ اسکی بیٹ پاک ہے ۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے أدرکت أنس بن مالک و زید بن ارقم و المغیرة بن شعبة فسمعتھم یتحدثون أن النبی ۖ .....قال رأیت بفمہ حمامتین فعرفت أنہ لیس فیہ أحد ،فسمع النبی ۖ ما قال فعرف أن اللہ قد درأ عنہ بھما فدعا لھما ، وسمت علیھن و أقررن فی الحرم و فرض جزائھن ۔ ( نصب الرایة ، فصل فی البئر ،ج اول ،ص ١٧٥ ) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نے کبوتروں کے لئے حرم اور مسجدوں میں ٹھہرنے کی دعا کی جس سے معلوم ہوا کہ اسکی بیٹ پاک ہے ۔اور مسجدوں کو پاک رکھنے کی تاکید اس آیت میں ہے ۔وعھدنا الی