Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

157 - 627
٣ ولا فرق بین الرطب،والیابس،والصحیح،والمنکسر،والروث،  والخثی، و البعر لان الضرورة تشمل الکل، ٤  و فی شاة تبعر فی المحلب بعرة او بعرتین قالو یرمی البعرة و یشرب اللبن لمکان الضرورة٥  ولایعفی القلیل فی الاناء علی ما قیل لعدم الضرورة ٦   وعن ابی حنیفة انہ کالبیر فی حق البعرة و البعرتین 

ترجمہ :   ٣  اور کوئی فرق نہیں ہے کہ مینگنی تر ہو یا خشک ،صحیح سالم ہو یا ٹوٹی ہوئی ،پھر گھوڑے کی لید ہو ، یا گوبر ،یا مینگنی اسلئے کہ ضرورت تمام کو شامل ہے۔ 
تشریح :  ایک دو مینگنی تر گرے ،یا خشک گرے ،ٹوٹی ہوئی گرے یا صحیح سالم گرے اس سے پانی ناپاک نہیں ہو گا اسلئے کہ کنویں میں یہ سب قسم کی میگنیاں گرتی ہیں اسلئے ایک دو مینگنیوں  میں پانی پاک قرار دینے کی ضرورت ہے ۔پھر جس طرح مینگنی میں ضرورت ہے اسی طرح گوبر اورلید میں بھی ضرورت ہے اسلئے اگر گوبر اور لید بھی ایک دو ٹکڑا گر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہو گا اس لئے کہ اس میں بھی ضرورت ہے ۔
ترجمہ :  ٤  اور بکری مینگنی کر دے دودھ دوہنے کے برتن میں ایک مینگنی اور دو مینگنیاں  تو علما نے فرمایا کہ مینگنی پھینک دے اوردودھ پی لے ضرورت کی وجہ سے ۔تشریح : ۔ بکری اور بھیڑ کو لوگ پیچھے سے دوہتے ہیں اور ان جانوروں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ دوہتے وقت مینگنیاں کرتی ہیں اور بعض مرتبہ مینگنی دودھ کے برتن میں چلی جاتی ہے اسلئے اگر دودھ کو ناپاک قرار دیں تو چرواہے کا بہت نقصان ہے اسلئے ایک دو مینگنی سے دودھ ناپاک قرار نہ دیا جائے ۔۔حدیث میں ہے کہ بلی گھر میں رہتی ہے اسلئے اسکا جوٹھا پاک ہے اگرچہ اسکا گوشت ناپاک ہے ۔حدیث یہ ہے قال  ان رسول اللہ ۖ قال انھا لیست بنجس انما ہی من الطوافین علیکم والطوافات (ترمذی نمبر ٩٢ 
ترجمہ :  ٥  اور عام برتن میں تھوڑا سا بھی معاف نہ ہوگا  ،جیسا کہ علما نے فرمایا ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے ۔
تشریح :   دوہنے کے برتن میں نہیں بلکہ عام برتن کے دودھ میں ایک دو مینگنی گر گئی تو فرمایا کہ اس سے دودھ ناپاک ہو جائے گا ،اسکی وجہ یہ ہے کہ دوہتے وقت تو بار بار مینگنی کرتی ہے اسلئے وہاں ضرورت ہے جسکی بناء پر دودھ پاک قرار دیا لیکن عام برتن میں اسکی ضرورت نہیں ہے اسلئے اس سے دودھ ناپاک ہوجائے گا ۔
ترجمہ :  ٦   امام ابو حنیفہ  سے منقول ہے کہ برتن بھی ایک دو مینگنی کے حق میں کنویں کی طرح ہے ۔یعنی جس طرح کنویں میں ایک دو مینگنی گر جائے تو ناپاک قرار نہیں دیا جاتا ہے اسی طرح عام برتن میں بھی ایک دو مینگنی گر جائے تو عام برتن ناپاک نہیں ہو گا ۔
اصول :   ضرورت کی وجہ سے سہولت ہو جاتی ہے ۔اس حدیث سے یہ اصول مترشح ہو تا ہے عن ابی سعید الخدری قال : 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter