٣ ولا فرق بین الرطب،والیابس،والصحیح،والمنکسر،والروث، والخثی، و البعر لان الضرورة تشمل الکل، ٤ و فی شاة تبعر فی المحلب بعرة او بعرتین قالو یرمی البعرة و یشرب اللبن لمکان الضرورة٥ ولایعفی القلیل فی الاناء علی ما قیل لعدم الضرورة ٦ وعن ابی حنیفة انہ کالبیر فی حق البعرة و البعرتین
ترجمہ : ٣ اور کوئی فرق نہیں ہے کہ مینگنی تر ہو یا خشک ،صحیح سالم ہو یا ٹوٹی ہوئی ،پھر گھوڑے کی لید ہو ، یا گوبر ،یا مینگنی اسلئے کہ ضرورت تمام کو شامل ہے۔
تشریح : ایک دو مینگنی تر گرے ،یا خشک گرے ،ٹوٹی ہوئی گرے یا صحیح سالم گرے اس سے پانی ناپاک نہیں ہو گا اسلئے کہ کنویں میں یہ سب قسم کی میگنیاں گرتی ہیں اسلئے ایک دو مینگنیوں میں پانی پاک قرار دینے کی ضرورت ہے ۔پھر جس طرح مینگنی میں ضرورت ہے اسی طرح گوبر اورلید میں بھی ضرورت ہے اسلئے اگر گوبر اور لید بھی ایک دو ٹکڑا گر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہو گا اس لئے کہ اس میں بھی ضرورت ہے ۔
ترجمہ : ٤ اور بکری مینگنی کر دے دودھ دوہنے کے برتن میں ایک مینگنی اور دو مینگنیاں تو علما نے فرمایا کہ مینگنی پھینک دے اوردودھ پی لے ضرورت کی وجہ سے ۔تشریح : ۔ بکری اور بھیڑ کو لوگ پیچھے سے دوہتے ہیں اور ان جانوروں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ دوہتے وقت مینگنیاں کرتی ہیں اور بعض مرتبہ مینگنی دودھ کے برتن میں چلی جاتی ہے اسلئے اگر دودھ کو ناپاک قرار دیں تو چرواہے کا بہت نقصان ہے اسلئے ایک دو مینگنی سے دودھ ناپاک قرار نہ دیا جائے ۔۔حدیث میں ہے کہ بلی گھر میں رہتی ہے اسلئے اسکا جوٹھا پاک ہے اگرچہ اسکا گوشت ناپاک ہے ۔حدیث یہ ہے قال ان رسول اللہ ۖ قال انھا لیست بنجس انما ہی من الطوافین علیکم والطوافات (ترمذی نمبر ٩٢
ترجمہ : ٥ اور عام برتن میں تھوڑا سا بھی معاف نہ ہوگا ،جیسا کہ علما نے فرمایا ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے ۔
تشریح : دوہنے کے برتن میں نہیں بلکہ عام برتن کے دودھ میں ایک دو مینگنی گر گئی تو فرمایا کہ اس سے دودھ ناپاک ہو جائے گا ،اسکی وجہ یہ ہے کہ دوہتے وقت تو بار بار مینگنی کرتی ہے اسلئے وہاں ضرورت ہے جسکی بناء پر دودھ پاک قرار دیا لیکن عام برتن میں اسکی ضرورت نہیں ہے اسلئے اس سے دودھ ناپاک ہوجائے گا ۔
ترجمہ : ٦ امام ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ برتن بھی ایک دو مینگنی کے حق میں کنویں کی طرح ہے ۔یعنی جس طرح کنویں میں ایک دو مینگنی گر جائے تو ناپاک قرار نہیں دیا جاتا ہے اسی طرح عام برتن میں بھی ایک دو مینگنی گر جائے تو عام برتن ناپاک نہیں ہو گا ۔
اصول : ضرورت کی وجہ سے سہولت ہو جاتی ہے ۔اس حدیث سے یہ اصول مترشح ہو تا ہے عن ابی سعید الخدری قال :