Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

156 - 627
٢ ومسائل البیرمبنیة علی الاثار دون القیاس(٥٥) فان وقعت فیھا بعرة او بعرتان من بعرالابل، او الغنم لم تفسد الماء  )  ١  استحسانا، والقیاس ان تفسدہ لوقوع النجاسة فی الماء القلیل، وجہ الاستحسان ان آبارالفلوات لیست لھارؤس حاجزةوالمواشی تبعرحولھافتلقیھاالریح فیھافجعل القلیل عفواللضرورة، ولاضرورة فی الکثیر٢  وھومایستکثرہ الناظرالیہ فی المروی عن ابی حنیفة، و علیہ الاعتماد،

ترجمہ :  ٢   کنویں کا مسئلہ آثار کی اتباع پر مبنی ہے نہ کہ قیاس پر ۔
تشریح :   کنویں کے مسئلے میں بعض میں مرتبہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ کنواں ناپاک ہو جائے لیکن امت کی مجبوری کی وجہ سے اثار میں سہولت دی گئی  ،اسلئے کنویں کا مسئلہ قیاس پر نہیں ہے بلکہ آثار کی اتباع پر ہے ۔
ترجمہ :  (٥٥)  پس اگر کنویں میں اونٹ  یا بکری کی  ایک مینگنی ،یا دومینگنی گر گئی تو پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔
نوٹ :   (مسئلہ ٥٥ سے ٥٨ تک جامع صغیر ،باب فی النجاسة ،ص ٧٨  سے لیا گیا ہے )
ترجمہ :   ١  استحسان کے طور پر یہ ہے اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ پانی کو ناپاک کر دے تھوڑے پانی میں ناپاکی گرنے کی وجہ سے استحسان کی وجہ یہ ہے کہ بیابانوں کے کنویں کے لئے روکنے والے منڈیر نہیں ہوتے اور مویشی اسکے ارد گرد مینگنی کرتے ہیں ،پھر ہوائیں اسکو کنویں میں ڈا ل دیتی ہے ،اسلئے تھوڑی ناپاکی کو معاف کر دیا گیا ضرورت کی بناء پر اور زیادہ ناپاکی میں ضرورت نہیں ہے
تشریح :   کنواں دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا نہیں ہے ،گویا تھوڑا پانی ہے  اس میں ایک دو مینگی گر گئی تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ کنواں ناپاک ہو جائے لیکن اثر کی وجہ سے استحسان کا تقاضا یہ ہے کہ کنواں ناپاک نہ ہو ۔کیونکہ یہاں ضرورت ہے ۔اور ضرورت یہ ہے کہ قافلے کے لوگ جنگل کے کنویں سے پانی پیتے ہیں ،اور ان کنووں کے ارد گرد روکنے والا سر ،یعنی منڈیر نہیں ہو تا جو نجاست روک لے اور اسکے ارد گرد مویشی چرتے ہیں اور پیخانہ بھی کرتے ہیں پھر ہوا چلتی ہے تو وہ پیخانہ کنویں میں گرتا ہے اب اگر کنواں ناپاک قرار دیں تو اسکا پانی کون نکالے گا اور اسکو پاک کرے گا ،اور اس ناپاک کنویں سے قافلہ والے کیسے پانی استعمال کریں گے اسلئے استحسان کے طورایک دو مینگنی سے کنواں ناپاک قرار نہ دیا جائے ۔
ترجمہ :   ٢  اور کثیر وہ ہے جسکو دیکھنے والا کثیر سمجھے ،حضرت امام ابو حنیفہ  سے یہی روایت ہے اور اسی پر اعتماد ہے ۔
تشریح :   بعض لوگوں نے کہا کہ چوتھائی کنواں مینگنی ہو جائے تو ناپاک ہو گا ،اسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے مصنف نے فرمایا کہ دیکھنے والا یہ سمجھے کہ کنواں میں میگنیاں بہت ہے تو اسی کو کثیر کہا جائے گا اور اس سے کنواں ناپاک ہو جائے گا ۔امام ابو حنیفہ  کا یہی مسلک منقول ہے اور اسی پر اعتماد ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter