٢ ومسائل البیرمبنیة علی الاثار دون القیاس(٥٥) فان وقعت فیھا بعرة او بعرتان من بعرالابل، او الغنم لم تفسد الماء ) ١ استحسانا، والقیاس ان تفسدہ لوقوع النجاسة فی الماء القلیل، وجہ الاستحسان ان آبارالفلوات لیست لھارؤس حاجزةوالمواشی تبعرحولھافتلقیھاالریح فیھافجعل القلیل عفواللضرورة، ولاضرورة فی الکثیر٢ وھومایستکثرہ الناظرالیہ فی المروی عن ابی حنیفة، و علیہ الاعتماد،
ترجمہ : ٢ کنویں کا مسئلہ آثار کی اتباع پر مبنی ہے نہ کہ قیاس پر ۔
تشریح : کنویں کے مسئلے میں بعض میں مرتبہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ کنواں ناپاک ہو جائے لیکن امت کی مجبوری کی وجہ سے اثار میں سہولت دی گئی ،اسلئے کنویں کا مسئلہ قیاس پر نہیں ہے بلکہ آثار کی اتباع پر ہے ۔
ترجمہ : (٥٥) پس اگر کنویں میں اونٹ یا بکری کی ایک مینگنی ،یا دومینگنی گر گئی تو پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔
نوٹ : (مسئلہ ٥٥ سے ٥٨ تک جامع صغیر ،باب فی النجاسة ،ص ٧٨ سے لیا گیا ہے )
ترجمہ : ١ استحسان کے طور پر یہ ہے اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ پانی کو ناپاک کر دے تھوڑے پانی میں ناپاکی گرنے کی وجہ سے استحسان کی وجہ یہ ہے کہ بیابانوں کے کنویں کے لئے روکنے والے منڈیر نہیں ہوتے اور مویشی اسکے ارد گرد مینگنی کرتے ہیں ،پھر ہوائیں اسکو کنویں میں ڈا ل دیتی ہے ،اسلئے تھوڑی ناپاکی کو معاف کر دیا گیا ضرورت کی بناء پر اور زیادہ ناپاکی میں ضرورت نہیں ہے
تشریح : کنواں دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا نہیں ہے ،گویا تھوڑا پانی ہے اس میں ایک دو مینگی گر گئی تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ کنواں ناپاک ہو جائے لیکن اثر کی وجہ سے استحسان کا تقاضا یہ ہے کہ کنواں ناپاک نہ ہو ۔کیونکہ یہاں ضرورت ہے ۔اور ضرورت یہ ہے کہ قافلے کے لوگ جنگل کے کنویں سے پانی پیتے ہیں ،اور ان کنووں کے ارد گرد روکنے والا سر ،یعنی منڈیر نہیں ہو تا جو نجاست روک لے اور اسکے ارد گرد مویشی چرتے ہیں اور پیخانہ بھی کرتے ہیں پھر ہوا چلتی ہے تو وہ پیخانہ کنویں میں گرتا ہے اب اگر کنواں ناپاک قرار دیں تو اسکا پانی کون نکالے گا اور اسکو پاک کرے گا ،اور اس ناپاک کنویں سے قافلہ والے کیسے پانی استعمال کریں گے اسلئے استحسان کے طورایک دو مینگنی سے کنواں ناپاک قرار نہ دیا جائے ۔
ترجمہ : ٢ اور کثیر وہ ہے جسکو دیکھنے والا کثیر سمجھے ،حضرت امام ابو حنیفہ سے یہی روایت ہے اور اسی پر اعتماد ہے ۔
تشریح : بعض لوگوں نے کہا کہ چوتھائی کنواں مینگنی ہو جائے تو ناپاک ہو گا ،اسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے مصنف نے فرمایا کہ دیکھنے والا یہ سمجھے کہ کنواں میں میگنیاں بہت ہے تو اسی کو کثیر کہا جائے گا اور اس سے کنواں ناپاک ہو جائے گا ۔امام ابو حنیفہ کا یہی مسلک منقول ہے اور اسی پر اعتماد ہے ۔