١ و قال الشافعی نجس لانہ من اجزاء المیتة ٢ ولنا انہ لاحیوٰة فیھما، و لھذا لا یتالم بقطعھمافلایحلھماالموتاذالموتزوال الحیوٰة۔
پاک ہیں(٢) حدیث میں ہے قال رسول اللہ ۖ یا ثوبان اشتر لفاطمة قلادة من عصب وسوارین من عاج۔(ابو داؤدشریف، باب فی الانتفاع بالعاج جلد ثانی ص ٢٢٧ نمبر٤٢١٣) اول کتاب الخاتم سے پہلے ہے ۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار جانور کا پٹھہ بھی پاک ہے اور ہاتھی کے دانت بھی پاک ہیں۔ورنہ آپۖ پٹھے کا ہار اور ہاتھی دانت کا کنگن خریدنے کے لئے کیسے فرماتے۔(٣) سمعت ام سلمة زوج النبی ۖ تقول : سمعت رسول اللہ ۖ یقول : لا بأس بمسک المیتة اذا دبغ ، ولا بأس بصوفھا و شعرھا و قرونھا اذا غسل بالماء ۔( دار قطنی ، باب الدباغ ،ج اول،ص٤٢ ،نمبر ١١٣ سنن للبیھقی ،باب منع من الانتفاع بشعر المیتة ،ج اول ص ٣٧ نمبر ٨٣ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار کی ہڈی ،بال اون اورسینگ پاک ہیں۔
ترجمہ : ١ امام شافعی نے فرمایا کہ یہ ناپاک ہیں اسلئے کہ مردار کے اجزا میں سے ہیں ۔
تشریح : امام شافعی کھال کے علاوہ سب کو ناپاک کہتے ہیں ۔ان کی دلیل یہ حدیث ہے عن عبد اللہ بن عکیم قال کتب الینا رسول اللہ ان لا تستمتعوا من المیتة باھاب ولا عصب۔ (نسائی شریف ، باب ما یدبغ بہ جلود المیتة، ج ثانی، ص ١٧٠، نمبر ٤٢٥٥ اابن ماجہ شریف، باب من کان لا ینتفعوا من المیتہ باھاب ولا عصب ،ص ٥٢٠،نمبر٣٦١٣ دار قطنی ، باب الدباغة ج اول ص ٤٢ نمبر١١٣)اس حدیث میں مردے کے چمڑے اور پٹھے سے منع فرمایا ہے لیکن چمڑے کی اجازت اوپر کی حدیث کی دباغت والی حدیث کی وجہ سے دیدی لیکن دوسری چیزیں تو اپنی حالت پر رہے گی ۔ کیونکہ وہ مردار کے اجزا میں سے ہیں ۔ (٢) چنانچہ حدیث میں ہے عن ابن عمرقال قال رسول اللہ ۖ : ادفنواالاظفار ،و الشعر ،و الدم فانھا میتة ( سنن للبیھقی ،باب المنع من الانتفاع بشعر المیتة ،ج اول ،ص ٣٤ نمبر ٧٦ ) اس حدیث میں ناخن اور بال سے منع فرمایا ہے کیونکہ وہ مردار ہیں اسلئے وہ پاک نہیں ہیں ۔
ترجمہ : ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ ان دونوں میں زندگی نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کو کاٹنے سے تکلیف نہیں ہوتی اسلئے ان دونوں میں موت بھی اثر نہیں کرے گی اسلئے کہ موت زندگی کے زوال کا نام ہے (اسلئے میت کے بال اور اسکی ہڈی مردے نہیں ہوئے اسلئے وہ پاک ہونگے )
تشریح : یہ امام شافعی کو عقلی جواب ہے ۔کہ بال اور ہڈیوں میں زندگی نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ بال کو کا ٹو تو تکلیف نہیں ہو گی اور جب ان میں زندگی نہیں ہوتی تو اس میں موت بھی اثر انداز نہیں ہو گی اور جب ان میں موت نہیں ہوئی تو یہ مردار بھی نہیں ہوئے اسلئے