(٥٣)وشعرالانسان،وعظمہ طاھر) ١ وقال الشافعی نجس لانہ لا ینتفع بہ ولا یجوز بیعہ ٢ ولنا ان عدم الانتفاع و البیع لکرامتہ فلا یدل علی نجاستة
حدیث کے اعتبار سے یہ ناپاک بھی نہیں ہوئے اسلئے یہ پاک ہوئے ۔اصل وجہ اوپر کی حدیث ہے جس کی وجہ سے بال اور ہڈی پاک ہیں ۔
ترجمہ : (٥٣)اور انسان کا بال اور اسکی ہڈی پاک ہیں ۔
تشریح : جس طرح اور مردار کی ہڈی اور بال پاک ہیں اسی طرح انسان کی ہڈی اور بال پاک ہیں ۔
وجہ: (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ ان میں ناپاک رطوبت نہیں ہوتی اور نہ خون ہوتا ہے جو ناپاکی کی اصل بنیاد ہے اسلئے وہ پاک ہیں ۔حدیث میں ہے کہ حضور ۖنے اپنے بال مبارک کوصحابہ میں تقسیم فرمایا اگر وہ پاک نہیں ہو تا تو تقسیم کیسے فرماتے!حدیث یہ ہے عن انس بن مالک أن رسول اللہ ۖ رمی جمرة العقبة یوم النحر ثم رجع الی منزلہ بمنی فدعابذبح فذبح ثم دعا بالحلاق فأخذ بشق رأسہ الایمن فحلقہ فجعل یقسم بین من یلیہ الشعرة و الشعرتین ، ثم أخذ بشق رأسہ الایسر فحلقہ ثم قال ھٰھنا أبو طلحة ،فدفعہ الی ابی طلحة ۔( ابوداو شریف ،باب الحلق والتقصیر ،ص ٢٢٨ نمبر ١٩٨١) اس حدیث میں بال صحابہ میں تقسیم فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ انسان کا بال پاک ہے اور ا سی پر قیاس کر کے ہڈی بھی پاک ہوگی ۔
ترجمہ : ١ اور امام شافعی نے فرمایا کہ وہ نجس ہیں اسلئے کہ ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا ،اور نہ انکوبیچا جا سکتا ہے ۔
ترجمہ : ٢ اور ہماری دلیل یہ کہ فائدہ نہ اٹھانا اور نہ بیچنا اسکی عزت کی وجہ سے ہے اسلئے وہ نجاست پر دلالت نہیں کر تا ۔
تشریح : ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کے بال کو نہ بیچ سکتے ہیں اور نہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ باعزت چیز ہے اسکی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ناپاک ہے اسلئے انسان کا بال اور اسکی ہڈی پاک ہیں ۔عزت کی دلیل یہ آیت ہے و لقد کرمنا بنی آدم (آیت ٧٠ سورة الاسراء ١٧)
اصول : جن ہڈیوں میں بہتاہوا خون نہیں ہے وہ پاک ہیں ۔
لغت : اھاب : کچا چمڑا، دباغت د نہ دیا ہوا چمڑا۔یتالم : تکلیف محسوس کرتا ہے ۔یحل : حلول سے مشتق ہے اندر جانا، حلول کر نا ۔