Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

151 - 627
٨   ثم ما یطھر جلدہ بالدباغ یطھر بالذکاة لانہ یعمل عمل الدباغ فی ازالة الرطوبات النجسة،  و کذالک یطھر لحمہ،  وھو الصحیح،  وان لم یکن ماکولا 

کسی بھی چیز سے دباغت دی جائے تو پاک ہو جائے گا ۔حدیث یہ ہے ۔عن عائشة قالت : قال النبی  ۖ استمتعوا بجلودالمیتة اذا ھی دبغت ترابا کان او رمادا او ملحا او ما کان بعد ان ترید صلاحہ ۔(دار قطنی ،باب الدباغ  ج اول ص ٤٤ نمبر ١٢٣  سنن  للبیھقی ،باب وقوع الدباغ بالقرظ او مایقوم مقامہ ،ج اول ،ص ٣١ نمبر ٦٦ )  (٢)اور اثر میںبھی اسکی صراحت ہے۔عن ابراھیم قال : کل شیء منع الجلد من الفساد فھو دباغ ،قال محمد و بہ نأخذ ، وھو قول ابی حنیفة ۔(کتاب الاثار  لامام محمد ،باب لباس جلود الثعالب ،و دباغ الجلد ،ص ١٨٨ ،نمبر ٨٥٦)  اس اثر سے معلوم ہوا کہ کسی بھی چیز سے دباغت ہو سکتی ہے ۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ قرظ گھاس سے ہی دباغت ہو گی ۔انکی دلیل یہ حدیث ہے ۔أن میمونة زوج النبی  ۖ حدثتھا .....قالوا انھا میتة ؟ فقال رسول اللہ  ۖ : یطھرھا الماء و القرظ ۔( نسائی شریف ،ما یدبغ بہ جلودالمیتة ،ص ٥٩٢ نمبر ٤٢٥٣) اس حدیث میں ہے کہ قرظ یعنی ببول کی پتی سے دباغت ہو گی ۔
ترجمہ :  ٨   پھر دباغت سے جس جانور کا چمڑا پاک ہو تا ہے ذبح کر نے سے بھی اسکا چمڑا پاک ہو گا اسلئے کہ وہ بھی دباغت کا ہی عمل کر تا ہے ناپاک رطوبت کے زائل کر نے میں ، اور ایسے ہی اسکا گوشت بھی پاک ہو جائے گا  صحیح با ت یہی ہے چاہے وہ کھانے کے قابل نہ ہو ۔
تشریح :  جن جانوروں کے چمڑے دباغت دینے سے پاک ہو جاتے ہیں ان جانوروں کو ذبح کر دیا جائے تب بھی اسکے چمڑے پاک ہو جائیں گے اور اسکا گوشت بھی پاک ہو جائے گا اسکو جیب میں رکھکر نماز پڑھ سکتا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ جانور غیر ماکول اللحم ہو تو وہ گوشت کھانے کے لئے حلال نہیں ہو گا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں ہے کہ  چمڑے کو دباغت دینا اسکو ذبح کرنے کی طرح ہے ،جسکا مطلب یہ ہوا کہ ذبح کرنے سے بھی چمڑا پاک ہوگا ۔اسلئے کہ چمڑا پاک کرنے کے لئے ذبح کرنا ہی اصل ہے ۔حدیث یہ ہے عن عائشة قالت : سئل رسول اللہ  ۖ عن جلود المیتة فقال : دباغھا ذکاتھا ۔( نسائی شریف ،باب جلودالمیتة،ص ٥٩٢ ،نمبر ٤٢٥٠)  یہاں حدیث کے اشارة النص سے استدلال ہے ۔اس حدیث میں ہے کہ چمڑے کو دباغت دینا گویا کہ اسکو ذبح کر کے پاک کرنا ہے ،اسلئے ذبح کرنے سے بھی غیر ماکول اللحم جانور کا چمڑا پاک ہو جائے گا اب دوبارہ اسکودباغت دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔اور جب چمڑا پاک ہو گیا تو اس کا گوشت بھی اسی  درجے میں ہے اسلئے وہ بھی ذبح کرنے سے پاک ہو جائے گا ۔(٢) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ نے ذبح کئے ہوئے چمڑے کو چھویا پھر وضو نہیں کیا اور نماز پڑھی ،جس سے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter