٨ ثم ما یطھر جلدہ بالدباغ یطھر بالذکاة لانہ یعمل عمل الدباغ فی ازالة الرطوبات النجسة، و کذالک یطھر لحمہ، وھو الصحیح، وان لم یکن ماکولا
کسی بھی چیز سے دباغت دی جائے تو پاک ہو جائے گا ۔حدیث یہ ہے ۔عن عائشة قالت : قال النبی ۖ استمتعوا بجلودالمیتة اذا ھی دبغت ترابا کان او رمادا او ملحا او ما کان بعد ان ترید صلاحہ ۔(دار قطنی ،باب الدباغ ج اول ص ٤٤ نمبر ١٢٣ سنن للبیھقی ،باب وقوع الدباغ بالقرظ او مایقوم مقامہ ،ج اول ،ص ٣١ نمبر ٦٦ ) (٢)اور اثر میںبھی اسکی صراحت ہے۔عن ابراھیم قال : کل شیء منع الجلد من الفساد فھو دباغ ،قال محمد و بہ نأخذ ، وھو قول ابی حنیفة ۔(کتاب الاثار لامام محمد ،باب لباس جلود الثعالب ،و دباغ الجلد ،ص ١٨٨ ،نمبر ٨٥٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ کسی بھی چیز سے دباغت ہو سکتی ہے ۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ قرظ گھاس سے ہی دباغت ہو گی ۔انکی دلیل یہ حدیث ہے ۔أن میمونة زوج النبی ۖ حدثتھا .....قالوا انھا میتة ؟ فقال رسول اللہ ۖ : یطھرھا الماء و القرظ ۔( نسائی شریف ،ما یدبغ بہ جلودالمیتة ،ص ٥٩٢ نمبر ٤٢٥٣) اس حدیث میں ہے کہ قرظ یعنی ببول کی پتی سے دباغت ہو گی ۔
ترجمہ : ٨ پھر دباغت سے جس جانور کا چمڑا پاک ہو تا ہے ذبح کر نے سے بھی اسکا چمڑا پاک ہو گا اسلئے کہ وہ بھی دباغت کا ہی عمل کر تا ہے ناپاک رطوبت کے زائل کر نے میں ، اور ایسے ہی اسکا گوشت بھی پاک ہو جائے گا صحیح با ت یہی ہے چاہے وہ کھانے کے قابل نہ ہو ۔
تشریح : جن جانوروں کے چمڑے دباغت دینے سے پاک ہو جاتے ہیں ان جانوروں کو ذبح کر دیا جائے تب بھی اسکے چمڑے پاک ہو جائیں گے اور اسکا گوشت بھی پاک ہو جائے گا اسکو جیب میں رکھکر نماز پڑھ سکتا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ جانور غیر ماکول اللحم ہو تو وہ گوشت کھانے کے لئے حلال نہیں ہو گا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں ہے کہ چمڑے کو دباغت دینا اسکو ذبح کرنے کی طرح ہے ،جسکا مطلب یہ ہوا کہ ذبح کرنے سے بھی چمڑا پاک ہوگا ۔اسلئے کہ چمڑا پاک کرنے کے لئے ذبح کرنا ہی اصل ہے ۔حدیث یہ ہے عن عائشة قالت : سئل رسول اللہ ۖ عن جلود المیتة فقال : دباغھا ذکاتھا ۔( نسائی شریف ،باب جلودالمیتة،ص ٥٩٢ ،نمبر ٤٢٥٠) یہاں حدیث کے اشارة النص سے استدلال ہے ۔اس حدیث میں ہے کہ چمڑے کو دباغت دینا گویا کہ اسکو ذبح کر کے پاک کرنا ہے ،اسلئے ذبح کرنے سے بھی غیر ماکول اللحم جانور کا چمڑا پاک ہو جائے گا اب دوبارہ اسکودباغت دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔اور جب چمڑا پاک ہو گیا تو اس کا گوشت بھی اسی درجے میں ہے اسلئے وہ بھی ذبح کرنے سے پاک ہو جائے گا ۔(٢) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ نے ذبح کئے ہوئے چمڑے کو چھویا پھر وضو نہیں کیا اور نماز پڑھی ،جس سے