Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

150 - 627
الاتری انہ ینتفع بہ حراسة واصطیادا٥  بخلاف الخنزیرلانہ نجس العین اذ الھاء فی قولہ تعالی: فانہ رجس، منصرف الیہ لقربہ ٦ وحرمةالانتفاع باجزاء الآدمی لکرامتہ فخرجاعماروینا ہ ٧ ثم مایمتنع النتن، والفساد فھودباغ وان کان تشمیتاًاوتتریباًلان المقصودیحصل بہ فلامعنی لاشتراط غیرہ 

لصید أو کلب ماشیة ۔ فانہ ینقص من اجرہ کل یوم قیراتان ۔(بخاری شریف ، باب من اقتنی کلبا لیس بکلب صید أو ماشیة ،ص ٩٧٦ نمبر٥٤٨١) اس حدیث میں شکار اور نگہبانی کے لئے کتا رکھنے کی اجازت ہے جس سے معلوم ہوا کہ کتا نجس العین نہیں ہے، کیونکہ اگر نجس العین ہو تو اسکے دانت سے شکار کیا ہوا کیسے حلال ہو گا ۔  اسلئے اسکے چمڑے کو دباغت دیا جائے تو چمڑا پاک ہو جائے گا ۔
ترجمہ :   ٥  بخلاف سور کے اسلئے کہ وہ نجس العین ہے اسلئے کہ ،ہ، ضمیر اللہ تعالیٰ کا قول : فانہ رجس ،میں خنزیر کی طرف ہی لوٹتی ہے کیونہ وہی قریب ہے ۔
 تشریح :  بخلاف سور کے کیونکہ وہ نجس العین ہے اسلئے اسکے چمڑے کو دباغت دیں تب بھی پاک نہیں ہو گا اسلے کہ آیت میں اسکو نجس العین کہا ہے ۔آیت یہ ہے ۔ الا ان یکون میتة او دما مسفوحا   او لحم خنزیر فانہ رجس  (آیت ١٤٥ ،سورة الانعام ٦)اس آیت میں فانہ رجس کی ،ہ ،ضمیر خنزیر کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ وہی قریب میں ہے ،اسلئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ خنزیر کا گوشت نجس ہے یعنی وہ خود نجس العین ہے ۔ اسلئے اسکی کھال دباغت دینے کے بعد بھی پاک نہیں ہو گی ۔
ترجمہ :  ٦   اور آدمی کے اجزا سے  فائدہ اٹھانا حرام ہے اسکی عزت کی بناء پر ۔اسلئے سور اور آدمی ہماری روایت کی ہوئی حدیث سے نکل گئے ۔
تشریح :  آدمی کے اجزا سے فائدہ اٹھانا حرام ہے،اور اسکی کھال کو دباغت دیں تو وہ پاک نہیں ہوگی،اسلئے کہ اسکی عزت اور احترام ہے ۔اسلئے ہم نے جو اوپر حدیث  ۔ایما اھاب دبغ  فقد طھر۔ ( نسائی ، نمبر٤٢٤٦) نقل کی ہے ۔جسکا مطلب یہ تھا کہ تمام مردار کاچمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہو جائے گا  ۔اس تمام میں سے سور اور آدمی نکل گئے اسلئے اسکی کھال دباغت دینے سے پاک نہیں ہو گی ۔ 
ترجمہ :  ٧   پھر جو چیز بھی بدبو اور فساد کو روک دے وہ دباغت ہے اگر چہ دھوپ میں سکھانا ہو یا مٹی لگا نا ہواسلئے کہ اس سے مقصود اس سے حاصل ہو جاتا ہے اسلئے دوسری چیزوں کی شرط لگانے کا کوئی معنی نہیں ہے  ۔
تشریح : جن چیزوں سے کھال کی بدبو ختم ہو جائے اور وہ بگڑنے سے رک جائے اس سے دباغت ہو جائے گی ۔مثلا دھوپ میں سکھا دیا ،یا مٹی لگا دیا ،یا قرظ گھاس ڈال کر دھو دیا جس سے کھال کی بدبو ختم ہو گئی تو ان سے دباغت ہو جائے گی ۔ حدیث میں ہے کہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter