الاتری انہ ینتفع بہ حراسة واصطیادا٥ بخلاف الخنزیرلانہ نجس العین اذ الھاء فی قولہ تعالی: فانہ رجس، منصرف الیہ لقربہ ٦ وحرمةالانتفاع باجزاء الآدمی لکرامتہ فخرجاعماروینا ہ ٧ ثم مایمتنع النتن، والفساد فھودباغ وان کان تشمیتاًاوتتریباًلان المقصودیحصل بہ فلامعنی لاشتراط غیرہ
لصید أو کلب ماشیة ۔ فانہ ینقص من اجرہ کل یوم قیراتان ۔(بخاری شریف ، باب من اقتنی کلبا لیس بکلب صید أو ماشیة ،ص ٩٧٦ نمبر٥٤٨١) اس حدیث میں شکار اور نگہبانی کے لئے کتا رکھنے کی اجازت ہے جس سے معلوم ہوا کہ کتا نجس العین نہیں ہے، کیونکہ اگر نجس العین ہو تو اسکے دانت سے شکار کیا ہوا کیسے حلال ہو گا ۔ اسلئے اسکے چمڑے کو دباغت دیا جائے تو چمڑا پاک ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٥ بخلاف سور کے اسلئے کہ وہ نجس العین ہے اسلئے کہ ،ہ، ضمیر اللہ تعالیٰ کا قول : فانہ رجس ،میں خنزیر کی طرف ہی لوٹتی ہے کیونہ وہی قریب ہے ۔
تشریح : بخلاف سور کے کیونکہ وہ نجس العین ہے اسلئے اسکے چمڑے کو دباغت دیں تب بھی پاک نہیں ہو گا اسلے کہ آیت میں اسکو نجس العین کہا ہے ۔آیت یہ ہے ۔ الا ان یکون میتة او دما مسفوحا او لحم خنزیر فانہ رجس (آیت ١٤٥ ،سورة الانعام ٦)اس آیت میں فانہ رجس کی ،ہ ،ضمیر خنزیر کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ وہی قریب میں ہے ،اسلئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ خنزیر کا گوشت نجس ہے یعنی وہ خود نجس العین ہے ۔ اسلئے اسکی کھال دباغت دینے کے بعد بھی پاک نہیں ہو گی ۔
ترجمہ : ٦ اور آدمی کے اجزا سے فائدہ اٹھانا حرام ہے اسکی عزت کی بناء پر ۔اسلئے سور اور آدمی ہماری روایت کی ہوئی حدیث سے نکل گئے ۔
تشریح : آدمی کے اجزا سے فائدہ اٹھانا حرام ہے،اور اسکی کھال کو دباغت دیں تو وہ پاک نہیں ہوگی،اسلئے کہ اسکی عزت اور احترام ہے ۔اسلئے ہم نے جو اوپر حدیث ۔ایما اھاب دبغ فقد طھر۔ ( نسائی ، نمبر٤٢٤٦) نقل کی ہے ۔جسکا مطلب یہ تھا کہ تمام مردار کاچمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہو جائے گا ۔اس تمام میں سے سور اور آدمی نکل گئے اسلئے اسکی کھال دباغت دینے سے پاک نہیں ہو گی ۔
ترجمہ : ٧ پھر جو چیز بھی بدبو اور فساد کو روک دے وہ دباغت ہے اگر چہ دھوپ میں سکھانا ہو یا مٹی لگا نا ہواسلئے کہ اس سے مقصود اس سے حاصل ہو جاتا ہے اسلئے دوسری چیزوں کی شرط لگانے کا کوئی معنی نہیں ہے ۔
تشریح : جن چیزوں سے کھال کی بدبو ختم ہو جائے اور وہ بگڑنے سے رک جائے اس سے دباغت ہو جائے گی ۔مثلا دھوپ میں سکھا دیا ،یا مٹی لگا دیا ،یا قرظ گھاس ڈال کر دھو دیا جس سے کھال کی بدبو ختم ہو گئی تو ان سے دباغت ہو جائے گی ۔ حدیث میں ہے کہ