Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

149 - 627
 ٣ ولا یعارض بالنہی الوارد عن الانتفاع من المیتة، وہو قولہ علیہ السلام: لاتنتفعو من المیتة باہاب، لانہ اسم لغیر المدبوغ ٤ وحجة علی الشافعی فی جلد الکلب، ولیس الکلب نجس العین 

ترجمہ :  ٣  مردار سے نفع حاصل کرنے سے جو منع کی حدیث وارد ہوئی ہے وہ اوپر کی حدیث کے معارض نہیں ہے اور وہ ہے حضور ۖ کا قول : کہ مردار کے کچے چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاو ، اسلئے کہ اھاب نام ہے بغیر دباغت دئے ہوئے چمڑے کا ۔
تشریح :  اوپر حضرت امام مالک  کی پیش کردہ حدیث ۔ أن لا تستمتعوا من المیتة باھاب ،و لا عصب ۔( ابو داود شریف، نمبر ٤١٢٧) جس میں تھا کہمردار کے  چمڑے سے فائدہ نہ اٹھائو ،یہ حدیث  اوپر والی حدیث ۔ایما اھاب دبغ  فقد طھر۔ ( نسائی شریف ،باب جلود المیتة ج ثانی ص١٦٩ نمبر٤٢٤٦)کے مخالف نہیں ہے ۔ کیونکہ جس حدیث میں اھاب سے فائدہ نہ اٹھانے کا حکم ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ مردار کے کچے چمڑے سے فائدہ نہ اٹھائو کیونکہ دباغت دینے سے پہلے ابھی وہ ناپاک ہے ،اسلئے اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ،اور جس حدیث میں ہے کہ کچا چمڑا پاک ہو جاتا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ دباغت دینے کے بعد پاک ہوتا ہے ،اسلئے دونوں حدیثیں ایک دوسرے کے معارض نہیں ہیں ۔
 نوٹ:   موطا امام مالک  میں یہ حدیث نقل کی ہے عن عبد اللہ بن عباس  ان رسول اللہ ۖ قال اذادبغ الاھاب فقد طھر ۔( موطا امام مالک ،باب ماجاء فی جلود المیتة ،ص ٤٩٣ ) اس حدیث اور باب سے معلوم ہو تا ہے کہ امام مالک  کا بھی اصل مسلک یہی ہے کہ دباغت دینے کے بعد مردار کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے ۔ممکن ہے کہ انکا دوسرا قول بھی ہو ۔
ترجمہ :  ٤  اور یہ حدیث حجت ہے امام شافعی  پر کتے کے چمڑے کے بارے میں ،کیونکہ کتے کا چمڑا نجس العین نہیں ہے ۔کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں نگہبانی اورشکار پکڑنے کے لئے ۔
تشریح :  امام شافعی  کے نزدیک سور کی طرح کتا بھی نجس العین ہے ،اسلئے کتے کے چمڑے کو دباغت دیا جائے تب بھی وہ پاک نہیں ہو گا ۔ موسوعة میں ہے ۔السباع کلھا طاھر الا الکلب و الخنزیر ۔(موسوعة ،باب الماء الراکد ،ج اول ،ص ١٥ ،نمبر ٣٥ ) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ انکے نزدیک کتا بھی سور کی طرح نجس  العین ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ کتے کے جوٹھے کو سات مرتبہ دھونے کا حکم ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة أن رسول اللہ  ۖ قال : اذاشرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعاً۔(بخاری شریف ،باب اذا شرب الکلب فی اناء أحدکم فلیغسلہ سبعاً۔ ص ٢٩ ،نمبر ١٧٢ ) کسی اور جانور کے جوٹھے کو سات مرتبہ دھونے کے لئے نہیں کہا صرف اسکے جوٹھے کو سات مرتبہ دھونے کے لئے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نجس العین ہے ۔اسلئے دباغت دینے کے بعد بھی اسکا چمڑا پاک نہیں ہو گا۔
ہمارا جواب یہ ہے کہ کتا نجس العین نہیں ہے کیونکہ اس سے نگہبانی کرنے کا اور شکار کرنے کا فائدہ اٹھا یا جاتا ہے ۔حدیث میں اسکی اجازت ہے ۔حدیث یہ ہے ۔عبد اللہ بن عمر یقول : سمعت النبی  ۖ یقول : من اقتنی کلباً ۔الا کلبا ضاریا 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter