٣ ولا یعارض بالنہی الوارد عن الانتفاع من المیتة، وہو قولہ علیہ السلام: لاتنتفعو من المیتة باہاب، لانہ اسم لغیر المدبوغ ٤ وحجة علی الشافعی فی جلد الکلب، ولیس الکلب نجس العین
ترجمہ : ٣ مردار سے نفع حاصل کرنے سے جو منع کی حدیث وارد ہوئی ہے وہ اوپر کی حدیث کے معارض نہیں ہے اور وہ ہے حضور ۖ کا قول : کہ مردار کے کچے چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاو ، اسلئے کہ اھاب نام ہے بغیر دباغت دئے ہوئے چمڑے کا ۔
تشریح : اوپر حضرت امام مالک کی پیش کردہ حدیث ۔ أن لا تستمتعوا من المیتة باھاب ،و لا عصب ۔( ابو داود شریف، نمبر ٤١٢٧) جس میں تھا کہمردار کے چمڑے سے فائدہ نہ اٹھائو ،یہ حدیث اوپر والی حدیث ۔ایما اھاب دبغ فقد طھر۔ ( نسائی شریف ،باب جلود المیتة ج ثانی ص١٦٩ نمبر٤٢٤٦)کے مخالف نہیں ہے ۔ کیونکہ جس حدیث میں اھاب سے فائدہ نہ اٹھانے کا حکم ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ مردار کے کچے چمڑے سے فائدہ نہ اٹھائو کیونکہ دباغت دینے سے پہلے ابھی وہ ناپاک ہے ،اسلئے اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ،اور جس حدیث میں ہے کہ کچا چمڑا پاک ہو جاتا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ دباغت دینے کے بعد پاک ہوتا ہے ،اسلئے دونوں حدیثیں ایک دوسرے کے معارض نہیں ہیں ۔
نوٹ: موطا امام مالک میں یہ حدیث نقل کی ہے عن عبد اللہ بن عباس ان رسول اللہ ۖ قال اذادبغ الاھاب فقد طھر ۔( موطا امام مالک ،باب ماجاء فی جلود المیتة ،ص ٤٩٣ ) اس حدیث اور باب سے معلوم ہو تا ہے کہ امام مالک کا بھی اصل مسلک یہی ہے کہ دباغت دینے کے بعد مردار کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے ۔ممکن ہے کہ انکا دوسرا قول بھی ہو ۔
ترجمہ : ٤ اور یہ حدیث حجت ہے امام شافعی پر کتے کے چمڑے کے بارے میں ،کیونکہ کتے کا چمڑا نجس العین نہیں ہے ۔کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں نگہبانی اورشکار پکڑنے کے لئے ۔
تشریح : امام شافعی کے نزدیک سور کی طرح کتا بھی نجس العین ہے ،اسلئے کتے کے چمڑے کو دباغت دیا جائے تب بھی وہ پاک نہیں ہو گا ۔ موسوعة میں ہے ۔السباع کلھا طاھر الا الکلب و الخنزیر ۔(موسوعة ،باب الماء الراکد ،ج اول ،ص ١٥ ،نمبر ٣٥ ) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ انکے نزدیک کتا بھی سور کی طرح نجس العین ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ کتے کے جوٹھے کو سات مرتبہ دھونے کا حکم ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة أن رسول اللہ ۖ قال : اذاشرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعاً۔(بخاری شریف ،باب اذا شرب الکلب فی اناء أحدکم فلیغسلہ سبعاً۔ ص ٢٩ ،نمبر ١٧٢ ) کسی اور جانور کے جوٹھے کو سات مرتبہ دھونے کے لئے نہیں کہا صرف اسکے جوٹھے کو سات مرتبہ دھونے کے لئے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نجس العین ہے ۔اسلئے دباغت دینے کے بعد بھی اسکا چمڑا پاک نہیں ہو گا۔
ہمارا جواب یہ ہے کہ کتا نجس العین نہیں ہے کیونکہ اس سے نگہبانی کرنے کا اور شکار کرنے کا فائدہ اٹھا یا جاتا ہے ۔حدیث میں اسکی اجازت ہے ۔حدیث یہ ہے ۔عبد اللہ بن عمر یقول : سمعت النبی ۖ یقول : من اقتنی کلباً ۔الا کلبا ضاریا