١ لقولہ ں: ایما اھاب دبغ فقد طھر ٢ وھو بعمومہ حجة علی مالک فی جلد المیتة
تشریح : انسان اور سور کے علاوہ کوئی جانور چاہے اسکا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو وہ مر جائے اور اسکی کھال نکال کر اسکو دباغت دے دے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔دوسری صورت یہ ہے کہ اسکو ذبح کر دیا جائے تو اسکا چمڑا پاک ہو جاتا ہے ۔اس پر نماز پڑھنا جائز ہے اور اگر اسکا برتن بنا لیا جائے تو اس برتن میں پانی رکھنا اور اسکو پینا یا اس سے وضو کرنا جائز ہے ۔
وجہ: (١) مردارکے چمڑے کو دباغت دیا جائے تو اس کی ناپاک رطوبت نکل جاتی ہے اور بہتا ہوا خون نکل جاتا ہے صرف چمڑا باقی رہ جاتا ہے اسلئے وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ اہل عرب کے پاس اکثر اسی قسم کے برتن ہوتے تھے (٢) حدیث میں ہے عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ۖ ایما اھاب دبغ فقد طھر۔ ( نسائی شریف ،باب جلود المیتة ج ثانی ص١٦٩ نمبر٤٢٤٦مسلم شریف، باب طھارة جلود المیتة بالدباغ،ص ١٥٧، نمبر ٨١٢٣٦٦ابوداود ،نمبر ٤١٢٣) دوسری حدیث میں ہے عن عائشة عن النبی ۖ قال : ذکوة المیتة دباغھا(نسائی شریف ، باب باب جلود المیتة ص، ١٦٩، نمبر ٤٢٥١)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دباغت دینے کے بعد مردار کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے ۔
مگر سور کا چمڑا اور آدمی کا چمڑا پاک نہیں ہوگا ۔
وجہ: سور نجس العین ہے اس لئے اس کا چمڑا دباغت دینے کے بعد بھی پاک نہیں ہوگا۔ آیت میں ہے او لحم خنزیر فانہ رجس (آیت ١٤٥ ،سورة الانعام ٦)۔اور آدمی کا چمڑا عزت اور کرامت کی بنا پر دباغت دینے کے بعد بھی قابل استعمال نہیں ہوگا۔
ترجمہ : ١ حضور ۖ کے قول کی وجہ سے : کہ کسی بھی چمڑے کو دباغت دیا جائے تو وہ پاک ہوجا تا ہے ۔یہ حدیث اوپر گزر گئی ہے ۔(نسائی ،نمبر ٤٢٤٦)
ترجمہ : ٢ یہ حدیث الفاظ کے عام ہونے کے اعتبار سے مردار کے چمڑے کے بارے میں امام مالک پر حجت ہے ۔
تشریح : امام مالک کی ایک روایت یہ ہے کہ مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد بھی پاک نہیں ہوتا ۔انکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن عبد اللہ بن عکیم قال : قریء علینا کتاب رسول اللہ ۖ بأرض جھینة و انا غلام شاب : أن لا تستمتعوا من المیتة باھاب ،و لا عصب ۔( ابو داود شریف،باب من روی أن لا یستنفع باھاب المیتة ، ص ٥٨١ نمبر ٤١٢٧نسائی شریف ، ما یدبغ بہ جلود المیتة ،ص٥٩٢ نمبر ٤٢٥٦ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار کے چمڑے سے اور پٹھے سے نفع نہ اٹھاو ۔اسکے لئے ہمارا جواب یہ ہے کہ اوپر کی حدیث میں ہے ایما اھاب : ایما ، کا لفظ عام ہے جسکا ترجمہ ہے کسی بھی چمڑے کو دباغت دو تو وہ پاک ہوجائے گا ، اسلئے ہر مردار کا چمڑا دباغت کے بعد پاک ہو جائے گا ،سواے سور اور آدمی کے۔