Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

148 - 627
 ١  لقولہ ں:  ایما اھاب دبغ فقد طھر  ٢  وھو بعمومہ حجة علی مالک  فی جلد المیتة

تشریح :  انسان اور سور کے علاوہ کوئی جانور چاہے اسکا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو وہ مر جائے اور اسکی کھال نکال کر اسکو دباغت دے دے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔دوسری صورت یہ ہے کہ اسکو ذبح کر دیا جائے تو اسکا چمڑا پاک ہو جاتا ہے ۔اس پر نماز پڑھنا جائز ہے اور اگر اسکا برتن بنا لیا جائے تو اس برتن میں پانی رکھنا اور اسکو پینا  یا اس سے وضو کرنا جائز ہے ۔ 
وجہ:   (١) مردارکے چمڑے کو دباغت دیا جائے تو اس کی ناپاک رطوبت نکل جاتی ہے اور بہتا ہوا خون نکل جاتا ہے صرف چمڑا باقی رہ جاتا ہے اسلئے وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ اہل عرب کے پاس اکثر اسی قسم کے برتن ہوتے تھے (٢) حدیث میں ہے  عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ۖ ایما اھاب دبغ  فقد طھر۔ ( نسائی شریف ،باب جلود المیتة ج ثانی ص١٦٩ نمبر٤٢٤٦مسلم شریف، باب طھارة جلود المیتة بالدباغ،ص ١٥٧، نمبر ٨١٢٣٦٦ابوداود ،نمبر ٤١٢٣) دوسری حدیث میں ہے عن عائشة عن النبی ۖ قال : ذکوة المیتة دباغھا(نسائی شریف ، باب باب جلود المیتة ص، ١٦٩، نمبر ٤٢٥١)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دباغت دینے کے بعد مردار کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے ۔
مگر سور کا چمڑا اور آدمی کا چمڑا پاک نہیں ہوگا ۔
 وجہ:   سور نجس العین ہے اس لئے اس کا چمڑا دباغت دینے کے بعد بھی پاک نہیں ہوگا۔ آیت میں ہے  او لحم خنزیر فانہ رجس  (آیت ١٤٥ ،سورة الانعام ٦)۔اور آدمی کا چمڑا عزت اور کرامت کی بنا پر دباغت دینے کے بعد بھی قابل استعمال نہیں ہوگا۔
 ترجمہ :    ١   حضور ۖ کے قول کی وجہ سے : کہ کسی بھی چمڑے کو دباغت دیا جائے تو وہ پاک ہوجا تا ہے ۔یہ حدیث اوپر گزر گئی ہے ۔(نسائی ،نمبر ٤٢٤٦)
ترجمہ :  ٢  یہ حدیث الفاظ کے عام ہونے کے اعتبار سے مردار کے چمڑے کے بارے میں امام مالک  پر حجت ہے ۔
تشریح :  امام مالک  کی ایک روایت یہ ہے کہ مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد بھی پاک نہیں ہوتا ۔انکی دلیل  یہ حدیث ہے ۔عن عبد اللہ بن عکیم قال :  قریء علینا کتاب رسول اللہ  ۖ بأرض جھینة و انا غلام شاب : أن لا تستمتعوا من المیتة باھاب ،و لا عصب ۔( ابو داود شریف،باب من روی أن لا یستنفع باھاب المیتة ، ص ٥٨١ نمبر ٤١٢٧نسائی شریف ،  ما یدبغ بہ جلود المیتة ،ص٥٩٢ نمبر ٤٢٥٦ )  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار کے چمڑے سے اور پٹھے سے نفع نہ اٹھاو ۔اسکے لئے ہمارا جواب یہ ہے کہ اوپر کی حدیث میں ہے ایما اھاب : ایما ، کا لفظ عام ہے جسکا ترجمہ ہے کسی بھی چمڑے کو دباغت دو تو وہ پاک ہوجائے گا ، اسلئے ہر مردار کا چمڑا دباغت کے بعد پاک ہو جائے گا ،سواے سور اور آدمی کے۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter