٩ وعنہ ان الرجل طاھرلان الماء لایعطی لہ حکم الاستعمال قبل الانفصال و ھو اوفق الروات عنہ
(٥١) قال (القدوری) و کل اھاب دبغ فقد طھر، جازت الصلوٰة فیہ، والوضوء منہ الا جلد الخنزیر،والادمی)
تشریح : آدمی کے ناپاک ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ آدمی کا نچلا حصہ جب پانی میں گیا تو تو امام ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق مستعمل ہونے کی وجہ سے پانی ناپاک ہو گیا ۔اور اس آدمی کا کچھ حصہ پاک ہو گیا تھا لیکن جب یہ ناپاک پانی میں رہا تو دوبارہ وہ حصہ بھی ناپاک ہو گیا اور گویا کہ پورا آدمی ناپاک ہو گیا ۔اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ ناپاک پانی کی وجہ سے آدمی دوبارہ ناپاک ہوا ۔
ترجمہ : ٩ امام ابو حنیفہ سے یہ بھی منقول ہے کہ آدمی پاک ہے اسلئے کہ جدا ہو نے سے پہلے پانی کو مستعمل ہو نے کا حکم نہیں دیا جائے گا ، یہ امام ابو حنیفہ سے تمام روایتوں میں سب سے زیادہ فقہ کے موافق روایت ہے ۔
تشریح : پہلے قاعدہ گزر چکا ہے کہ پانی جسم سے جدا ہو تب اس پر مستعمل ہو نے کا حکم لگایا جائے گا ،اس سے پہلے نہیں ۔اس قاعدے کی بناء پر آدمی جب تک پانی کے اندر رہا اس وقت تک پانی مستعمل نہیں ہوا ،اس دوران پورا آدمی دھل گیا ،اور پاک ہو گیا ،اور جب کنویں سے باہر نکلا تو پاک ہی نکلا اس لئے آدمی پاک رہا ۔اور اسکے نکلنے کے بعد پانی مستعمل ہوا، اس طرح بعد میں پانی ناپاک ہوا ۔یہ روایت پچھلے قاعدے اور دلیل کے موافق ہے اور حضرت امام اعظم کی جلالت شان کے بھی موافق ہے ۔اور اسی پر فتویٰ ہے ۔
لغت : حدث : حدث اصغر جیسے وضو کو واجب کرنے والی چیزیں ، حدث اکبر جیسے جنابت۔ نجاست عینی کو نجاست کہتے ہیں۔ وجہ القربة : حدث دور کرنے کی نیت ہو یا وضو پر وضو کرنے کی نیت ہو۔آثام : اثم کی جمع ہے ،گناہ ۔تزال : زائل ہو تا ہے ،منتقل ہو تا ہے ۔امرین : دونوں امر سے یہاں مراد ہے ،قربت کی نیت ،یا ازالہ حدث کی نیت ۔انغمس : گھس گیا ، غوطہ لگا یا ۔الصب : پانی کا بہانا ۔انفصال : جدا ہونا۔
( چمڑے کے احکام )
ترجمہ : (٥١) کچا چمڑا دباغت دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔اس پر نماز جائز ہے۔اور اس کے برتن سے وضو جائز ہے ۔مگر سور کا چمڑا اور آدمی کا چمڑا ،پاک نہیں ہو گا ۔