الامرین، ٦ و عند محمد کلا ھما طاھران، الرجل لعدم اشتراط الصب، والماء لعدم نیة القربة
٧ وعندابی حنیفة کلاھما نجسان، الماء لاسقاط الفرض من البعض باول الملاقاة، و الرجل لبقاء الحدث فی بقیة الاعضائ، ٨ وقیل عندہ نجاسة الرجل بنجاسة الماء المستعمل
یہاںجنابت کے فرض کوساقط کرنے کے لئے پانی کو جسم پر بہانا ،یا بہانے کی نیت کرنا ضروری ہے ،اور یہاں نہ بہایا ہے اور نہ بہانے کی نیت کی ہے ،بلکہ نیت تو ڈول نکالنے کی کی ہے جسکی وجہ سے جسم پر خود پانی آگیا ۔اسلئے آدمی اپنی پہلی حالت پر ناپاک ہی رہے گا ۔اورکنویں کا پانی اپنی پہلی حالت پر پاک رہے گا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ پانی دو وجہوں میں سے ایک سے مستعمل ہو تا ہے اور دونوں نہیں پائے گئے اسلئے پانی مستعمل نہیں ہوا ۔پانی مستعمل ہو نے کے لئے یا تو ازالہ حدث کی نیت ہو ،یا قربت کی نیت ہو ،اوریہاں دونوں نہیں ہیں ،کیونکہ وہ ڈول نکالنے کے لئے غوطہ مارا ہے ،اسلئے پانی پاک رہے گا ۔عدم الامرین : کا یہی مطلب ہے ۔
ترجمہ : ٦ اور امام محمد کے نزدیک پانی اور آدمی دونوں پاک ہیں ۔آدمی پاک ہے بہانے کی شرط نہ ہونے کی وجہ سے ۔اور پانی پاک ہے قربت کی نیت نہ ہونے کی وجہ سے ۔
تشریح : امام محمد کے نزدیک محدث کے پاک ہونے کے لئے ازالہ حدث کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے ،یا پانی بہانا ضروری نہیں ہے بلکہ بغیر نیت کے بھی پانی میں غوطہ لگا دے گا تو آدمی پاک ہوجاے گا ۔یہاں بغیر ازالہ حدث کی نیت کے غوطہ لگا یا ہے پھر بھی آدمی پا ک ہو جائے گا اور کنویں کا پانی اس لئے مستعمل نہیں ہو گا کہ غوطہ لگانے والے نے قربت کی نیت نہیں کی ۔ اور اوپر گزر چکا ہے کہ امام محمد کے نزدیک مستعمل ہو نے لئے قربت کی نیت کرنا ضروری ہے۔اسلئے پانی، آدمی دونوں پاک ہونگے ۔
ترجمہ : ٧ اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک پانی اور آدمی دونوں ناپاک ہیں ۔( یعنی آدمی ناپاک ہے اور پانی مستعمل ہے ) پانی ناپاک ہے اول ملاقات میں بعض عضو سے فرض ساقط ہو نے کی وجہ سے ۔اور آدمی ناپاک ہے باقی عضو میں حدث باقی رہنے کی وجہ سے ۔
تشریح : امام ابوحنیفہ کے نزدیک پاک ہو نے لئے نیت کی ضرورت نہیں۔ازالہ حدث کی نیت نہ کرے اور نہ قربت کی نیت کرے اور غوطہ لگا دے توبھی آدمی پاک ہو جائے گا ۔اور پانی کے ناپاک ہو نے کے لئے بھی نیت کی ضرورت نہیں ۔اسلئے غوطہ لگاتے ہی پانی ناپاک ہو جائے گا ۔ اب جیسے ہی جسم کا نچلا حصہ پانی میں گیا تو وہ پاک ہو گیا البتہ اوپر کا حصہ ناپاک رہا ۔اور پورا پانی ناپاک ہو گیا ۔اب جسم کا تھوڑا سا حصہ پاک ہے اور اکثر حصہ ناپاک ہے اسلئے آدمی ناپاک رہے گا ۔اور پانی بھی ناپاک ہو گیا ۔
ترجمہ : ٨ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت امام اعظم کے نزدیک آدمی ناپاک ہو جائے گا ماء مستعمل کے ناپاک ہو نے کی وجہ سے۔