٤ و متی یصیر الماء مستعملا، الصحیح انہ کما زال عن العضو صار مستعملا لان سقوط حکم الاستعمال قبل الانفصال للضرورة و لا ضرورة بعدہ ٥ و الجنب اذا انغمس فی البیر لطلب الدلو، فعند ابی یوسف الرجل بحالہ لعدم الصب و ھو شرط عند ہ لاسقاط الفرض، و الماء بحالہ لعدم
قربت کی نیت کرنے سے پانی مستعمل ہو جا تا ہے
ترجمہ : ٤ اور پانی مستعمل کب ہو گا ؟ تو صحیح بات یہ ہے کہ جیسے ہی عضو سے جدا ہوا تو پانی مستعمل ہو گیا ،اسلئے کہ مستعمل ہونے کا حکم عضو سے جدا ہونے سے پہلے ضرورت کی بناء پر ساقط کیا گیا ، اور جدا ہونے کے کوئی ضرورت نہیں رہی ۔
تشریح : پانی کب مستعمل ہو گا اسکے تین مقامات ہیں (١) عضو پر رہتے ہوئے ہی پانی مستعمل شمار کیا جائے ۔(٢) پانی جب عضو سے جدا ہوجائے تب مستعمل شمار کیا جائے ۔(٣) پانی عضو سے جدا ہو کر کسی مقام پر ،مثلا برتن میں جمع ہو جائے تب مستعمل شمار کیا جائے ۔پانی جب عضو پر ہوتو کسی کے یہاں بھی مستعمل شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس میں ضرورت ہے۔اگر عضو پر رہتے ہوئے مستعمل شمار کر دیا جائے تو عضو ہی کبھی پاک نہیں ہو گا ۔
اودوسری صورت کہ عضو سے جدا ہونے کے بعد فورا ہی مستعمل قرار دیا جائے کیونکہ اب ضرورت باقی نہیں رہی ۔صحیح قول یہی ہے ۔
حضرت سفیان ثوری کا قول یہ ہے کہ عضو سے جدا ہونے کے بعد کسی مقام پر ،مثلا برتن وغیرہ میں جمع ہو جائے تب جاکر پانی کو مستعمل قرار دیا جائے ۔ اس سے پہلے پانی مستعمل نہیں شمار کیا جائے گا ۔صحیح کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے ۔
(کنویں میں گھسنے کا بیان )
ترجمہ : ٥ جنبی نے اگرکنویں میں ڈول نکالنے کے غوطہ لگایا تو امام ابویوسف کے نزدیک جنبی اپنی حالت پر ناپاک ہے نہ بہانے کی وجہ سے ،کیونکہ ان کے نزدیک فرض کو ساقط کرنے کے لئے بہانا شرط ہے ۔ اور پانی اپنی حالت پر پاک ہے کیونکہ ازالہ حدث کی نیت بھی نہیں ہے اور قربت کی نیت بھی نہیں ہے ۔(نوٹ ) کنواں دہ در دہ سے کم ہو ۔ اورا گر دہ در دہ ہو تب تو اصاف ثلاثہ میں سے کسی ایک کے بدلے بغیر ناپاک ہی نہیں ہو گا ۔
تشریح : آدمی جنابت کی حالت میں ہے ۔لیکن اسکے جسم پر نجاست نہیں ہے ،ہر جگہ سے نجاست دھوئی ہوئی ہے،ایسا آدمی ڈول نکالنے کے لئے کنویں میں غوطہ لگائے تو امام ابویوسف کے نزدیک آدمی ناپاک ہی رہے گا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ انکے